Header Ads

Breaking News
recent

Pakistan External Debt


حال ہی میں جاری کی گئی ایک حتمی رپورٹ کے مطابق کل مجموعی ملکی قرضے 153 کھرب روپے سے زائد ہوچکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ستمبر 2013 تک پاکستان کے اندرونی قرضے 95 ارب روپے سے زائد رہے، اس دوران کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث ملکی معیشت کو 311 ارب روپے کا نقصان پہنچ چکا ہے۔ یہاں پر تشویشناک امر یہ ہے کہ ہر پاکستانی 85 ہزار 188 روپے کا مقروض ہے۔ یعنی ہر پاکستانی شہری مرد و عورت، بچہ و بوڑھا، جوان، برسر روزگار اور بیروزگار محنت کش، کسان، امیر، غریب، فقیر، یتیم، لاچار، مجبور، بیمار، مریض، اپاہج غرض ہر پاکستانی۔ اگر حکومتی قرض گیری کی یہی روش برقرار رہی تو جلد ہی بات لاکھوں کروڑوں روپے کے مقروض ہونے تک پہنچ جائے گی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی حالیہ جاری رپورٹ میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کو قرض لینے کی روش کم کرنا ہوگی اور مرکزی بینک کو قرض لوٹانے کا عمل شروع کرنا ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی جس کی بابت حکومت کے ذرایع کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت کا جی ڈی پی گروتھ ریٹ 5 فیصد رہا ہے۔

دبئی میں جاری آئی ایم ایف کے جائزہ مشن نے بھی ملکی معیشت کے بارے میں اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ حکومت حلقے یہ بھی کہتے ہیں کہ ٹیکس وصولی بھی گزشتہ ماہ جنوری میں 167 ارب روپے رہی ہیں۔ جو بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے اسی ماہ میں ہونے والی ٹیکس وصولی سے 26 فیصد زائد ہے۔ حکومت نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 968 ارب روپے کا قرض لیا ہے۔ ایک عالمی جائزے کے مطابق اس وقت پوری دنیا مقروض حالت میں ہے، عالمی کساد بازاری کے باعث دسمبر 2012 تک دنیا بھر کی جی ڈی پی گر کر 62 ہزار ارب ڈالر تک رہ گئی تھی۔ کساد بازاری کے باعث یورپی یونین کے کئی ممالک انتہائی مقروض حالت میں ہیں، جن میں آئرلینڈ، فرانس، پرتگال، اٹلی، یونان، اسپین وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ امریکا پر بھی قرض کا بار بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ دسمبر 2012 کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے مجموعی قرضے 200 ہزار ارب ڈالر سے بھی زائد ہوچکے ہیں۔

پاکستان آئی ایم ایف سے زیادہ سے زیادہ قرض حاصل کرنے کی فکر میں رہتا ہے اور پھر جیسے ہی آئی ایم ایف کو قسطوں کی ادائیگی کرنا ہوتی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوجاتے ہیں، ڈالر کی طلب میں اضافہ ہوجاتا ہے اور روپے کی قدر گھٹ جاتی ہے، جس سے ایک طرف درآمدات کی قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے، اس کے ساتھ ہی ملک میں مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے۔ گزشتہ مہینے آئی ایم ایف نے پاکستان کو 6.7 ارب ڈالر قرض کی منظوری دی ہے۔ اب تک حکومتی قرضوں کا مجموعی حجم حکومتی آمدنی کے 482 فیصد تک پہنچ چکا ہے اور حکومت کی 41 آمدنی صرف قرضوں اور سود کی ادائیگی پر خرچ ہوجاتی ہے۔

دنیا بھر کی قومیں اپنے ترقیاتی مقاصد کے لیے قرضے حاصل کرتی ہیں۔ پھر ان قرضوں کو ترقیاتی اسکیموں میں لگایا جاتا ہے اور ان پراجیکٹ کو بروقت مکمل کیا جاتا ہے۔ حکومتیں اپنے ملکوں میں مہنگائی کو اس قدر کنٹرول کرتی ہیں کہ کسی طور پر ان منصوبوں کی لاگت میں مزید اضافہ نہ ہو، لہٰذا بروقت مکمل کرنے کی بھی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔ پاکستان کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ منصوبہ بنا لینے کے بعد اسے شروع کرنے میں ہی اتنا وقت لگا دیا جاتا ہے کہ اس کی لاگت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ پھر ایک عرصہ گزرنے کے بعد پھر سے وسائل اکٹھا کرنے کی تگ و دو شروع کی جاتی ہے۔ لاگت میں اضافہ ہوجانے کے بعد اتنی رقوم کا بندوبست نہ ہونے کے باعث پھر سے منصوبہ ہی کھٹائی میں پڑ جاتا ہے۔

اس کے علاوہ ایک حکومت کے جانے کے بعد آنے والی حکومت سرے سے ہی اس منصوبے کو شروع کرنے سے منہ موڑ لیتی ہے اور اس کی جگہ دوسرا منصوبہ تیار کیا جاتا ہے۔ ایک دفعہ پھر تیاری کے مراحل طے کیے جاتے ہیں، فزیبلٹی رپورٹ تیار کی جاتی ہے، ملکی غیر ملکی سرمایہ کاروں سے گفت و شنید کا آغاز کیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ عرصہ گزرنے کے بعد یہ اعلان ہوتا ہے کہ منصوبہ قابل عمل ہے یا نہیں۔ اگر قابل عمل ہوتا ہے تو ابھی کارروائی کا آغاز کرنا ہوتا ہے کہ حکومت چلتی بنتی ہے اور پھر نئی حکومت کے اپنے منصوبے پھر منظر عام پر آنے لگتے ہیں اور ایک دفعہ پھر تیاریاں شروع کردی جاتی ہیں اور عوام منہ تکتے رہتے ہیں کہ کب پل بنیں گے، کب ڈیمز تعمیر ہوں گے، کب سڑکیں تعمیر ہوں گی، کب ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل ہوگا وغیرہ وغیرہ۔

گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ بیت گیا، پاکستان کو امن وامان کے گمبھیر مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آئے روز بم دھماکے ہو رہے ہیں، کارخانے بند ہوتے چلے جا رہے ہیں، غیر ملکی تاجر ملک میں آنے سے کترا رہے ہیں، لوگ بے روزگار ہوتے چلے جا رہے ہیں، توانائی کا مسئلہ شدید سے شدید تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ایک طرف ملکی مجموعی قرضوں میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ حکومت کے مطابق 1999 میں مجموعی ملکی قرضے 2946 ارب روپے تھے، جو اب بڑھ کر 15 ہزار 334 ارب روپے ہوچکے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہر آنے والی حکومت نے اپنے اخراجات کے لیے بے تحاشا قرضے حاصل کیے۔ بلاسوچے سمجھے نوٹ چھاپے گئے۔ عالمی مالیاتی اداروں سے ان کی شرائط پر قرضے حاصل کیے گئے۔ اب یہ صورت حال ہوگئی ہے کہ غیر ملکی اداروں کا پاکستان کے مالیاتی نظام پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔ جس کی واضح مثال حال ہی میں آئی ایم ایف سے قرض کی شرائط سے ظاہر ہے۔ یہ قرض دینے والے کی پہلی فکر یہی ہوتی ہے کہ قرض واپس کیسے کیے جائیں گے۔ لہٰذا یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ہمارے پاس اتنے ادارے ہیں جن کی ہم نجکاری کردیں گے ان سے آنے والی رقوم کے ذریعے قرضوں کی بھی ادائیگی کردی جائے گی۔

حالانکہ قرض لیتے وقت ہر حکومت اس بات کی یقین دہانی کراتی ہے کہ وہ ذمے داری کے ساتھ قرض کی قسطیں اور سود ادا کریں گے۔ اب جب کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کی معیشت کے بارے میں کہا ہے کہ یہ درست سمت کی جانب گامزن ہے اور اطمینان کا اظہار کیا ہے تو ایسے میں دیگر عالمی مالیاتی اداروں سے پاکستان کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی فراہمی بھی ممکن ہوسکے گی۔ خصوصاً پانی اور توانائی کے منصوبوں ڈیمز کی تعمیر کے لیے فنڈز حاصل کیے جائیں اور ان فنڈز کو توانائی سے متعلق منصوبوں پن بجلی کے پیداواری منصوبوں پر نیک نیتی اور ایمانداری کے ساتھ ایک ایک پیسہ خرچ کرنا چاہیے۔ عموماً قرض حاصل کرلیا جاتا ہے اور پھر کرپشن کے باعث ان قرضوں کا صحیح اور بروقت استعمال نہیں ہوتا جس کی وجہ سے قرض وبال جان بن جاتا ہے۔ حالانکہ اگر ترقیاتی منصوبے مکمل کرلیے جائیں تو ان کی بروقت تکمیل کے ساتھ ہی ان سے فوائد اٹھاکر قرض کی رقم مقررہ مدت کے اندر واپس بھی لوٹائی جاسکتی ہے۔

پاکستان کو اس وقت پانی کے ذخائر، ڈیمز اور پن بجلی کے منصوبوں کو مکمل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان میں لگائے جانے والے فنڈز کی واپسی بھی ہوسکے اس کے علاوہ جہاں توانائی کے مسائل حل ہوں گے۔ کارخانوں اور ملوں کے لیے سستی بجلی دستیاب ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی زرعی پیداوار کے لیے پانی کی بروقت فراہمی کے باعث پاکستان زرعی پیداوار میں بھی خود کفیل ہو، تاکہ اشیائے خوراک بھی سستی دستیاب ہوں۔ اس کے علاوہ سستی بجلی کا حصول بھی ممکن ہوسکے کیونکہ ہر سرمایہ کار صنعت لگانے سے قبل مصنوعات کی لاگت کا اندازہ لگاتا ہے۔ اس طرح توانائی کے مسائل اگر حل ہوں اور زراعت کے پھلنے پھولنے سے صنعتیں لگانے کے زیادہ سے زیادہ مواقع حاصل ہوتے ہیں تو لوگ بڑی تعداد میں برسر روزگار ہوتے ہیں۔ حکومتی آمدنی میں اضافہ ہونے لگتا ہے جس کے باعث حکومت کو بھی زیادہ قرضے نہیں لینا پڑتے لیکن اکیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان کو امن وامان کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جس کے لیے موجودہ حکومت کچھ سنجیدہ کوشش کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اگرچہ بعض اوقات کچھ غلط فہمیاں بھی جنم لینے لگتی ہیں۔ ان سب باتوں کے تدارک کے لیے بھی ضروری ہے کہ وزیراعظم پاکستان اپنی ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے ایسے اقدامات کریں تاکہ بات دنوں کے بجائے گھنٹوں میں طے ہو اور معاملات پیچھے جانے کے بجائے مثبت انداز میں آگے بڑھیں کیونکہ امن و مسائل کے حل کے ساتھ ہی معاشی مسائل کا حل وابستہ ہے۔

ایم آئی خلیل

Pakistan External Debt      

Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.