Header Ads

Breaking News
recent

Income Tax Details of Pakistani Parliamentarians

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاری کردہ اراکین پارلیمنٹ کے ٹیکس
گوشواروں کی ڈائریکٹری اس عہد کی ’’ طلسم ہوشربا ‘‘ ہے، ’’ پڑھتا جا ..... شرماتا جا ..... کے مصداق ان گوشواروں میں ملک کے قومی راہنمائوں، جغادری لیڈروں، وزیروں، مشیروں اور دیگر اراکین پارلیمنٹ نے اپنے ہاتھوں سے خود یہ پول کھولا ہے کہ وہ اپنی نیک کمائیوں میں سے قومی خزانہ میں ٹیکس کی شکل میں کیا کچھ ادا کرتے ہیں۔ ان راہنمائوں میں وزیراعظم سے لے کر عام ارکان اسمبلی تک شامل ہیں۔

ڈائریکٹر ی کے مطابق تمام ارکان پارلیمنٹ نے اپنا نیشنل ٹیکس نمبر حاصل کر رکھا ہے۔ 1172۔ ارکان پارلیمنٹ میں سے 1072۔ ارکان نے رواں مالی سال کے اختتام پذیر ہونے تک ٹیکس گوشوارے جمع کرائے۔ ان میں سے سو ارکان نے گوشوارے جمع کرانے کی زحمت گوارہ نہ کی۔ قومی اسمبلی کے 319 ارکان نے انکم ٹیکس ریٹرن بھری۔ جن میں سے 108 نے کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا، ارکان سینٹ کی طرف سے ٹیکس ادائیگی کی صورت حال قدرے بہتر رہی۔ اس ضمن میں ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والے 86۔ ارکان میں سے صرف 3 نے کوئی ٹیکس نہیں دیا جبکہ 14 سینٹرز نے ٹیکس رول پر اپنا نام ہونے کے باوجود ریٹرن فائل نہیں کرایا۔ اس طرح پنجاب اسمبلی کے 353 ٹیکس گوشوارے داخل کرانے والے ارکان میں سے 176 نے کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا، جبکہ ٹیکس رول پر نام ہونے کے باوجود ریٹرن فائل کرنے والے ارکان کی تعداد صرف 18 رہی، سندھ اسمبلی کے ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والے 53۔ ارکان اسمبلی میں سے 95 نے انکم ٹیکس کی مد میں کوئی رقم سرکاری خزانے میں جمع نہیں کرائی جبکہ 15 ۔ ارکان نے ٹیکس رول پر نام ہونے کے باوجود گوشوارے جمع نہیں کرائے۔ خیبر پختون خواہ اسمبلی سے 97۔ ارکان نے ٹیکس ریٹرن جمع کرائی، مگر ان میں سے 61 ۔ ارکان نے کوئی ٹیکس ادا نہ کیا۔ اسی طرح 27۔ ارکان کے نام ٹیکس رول پر درج تھے۔ مگر انہوں نے گوشوارے جمع نہیں کرائے۔ بلوچستان اسمبلی سے ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والے 61 ارکان ہیں۔ 44۔ ارکان نے اپنی آمدنیوں پر کوئی ٹیکس نہیں دیا، جبکہ 4۔ ارکان نے سرے سے ریٹرن فائل ہی نہ کی۔

ٹیکس ڈائریکٹری کے مطابق ملک کی بعض اہم شخصیات نے اپنی آمدن میں ٹیکس کی شکل میں جو رقوم قومی خزانہ میں جمع کرائیں اس کی تفصیل اس طرح ہے۔

وزیراعظم نوازشریف نے 26 لاکھ 64ہزار، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے 36 لاکھ 44 ہزار، وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے 8 لاکھ 24 ہزار، حمزہ شہباز شریف نے 43 لاکھ 83 ہزار، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ایک لاکھ 94 ہزار، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے 13 ہزار، قائد حزب اختلاف اور پیپلز پارٹی کے راہنما خورشید شاہ نے 64 ہزار، سینٹر رضا ربانی نے 3 لاکھ اعتزاز احسن نے 87 لاکھ، سینٹر عبدالنبی بنگش نے 4 لاکھ 73 ہزار، وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے 2 لاکھ، مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے 18 لاکھ 24 ہزار، چودھری پرویز الہٰی نے 7 لاکھ 91ہزار، قومی اسمبلی کے رکن جمشید دستی نے 20ہزار وفاقی وزیر کامران مائیکل نے 69 ہزار 65 روپے، عوامی مسلم لیگ کے قائد شیخ رشید نے 58 ہزار، وزیر دفاع خواجہ آصف نے 58 ہزار 7 سو 29 روپے، مشاہد اللہ خان نے 31 ہزار 6 سو ایک روپے، متحدہ قومی موومنٹ کی رکن قومی اسمبلی نسرین جلیل نے 43 ہزار 3 سو 31 روپے، فاٹا کے سینٹر عباس خان آفریدی نے ایک کروڑ 80 لاکھ، سینٹر طلحہ محمود نے ایک کروڑ 29 لاکھ، قومی اسمبلی کے رکن شیخ فیاض نے ایک کروڑ ایک لاکھ، خیبر پختون خوا کے رکن اسمبلی نور اسلم نے ایک کروڑ 15 لاکھ 12 ہزار، جبکہ عبدالحسیب خان نے سب سے زیادہ 2 کروڑ 45 لاکھ روپے ٹیکس جمع کرایا۔

اس فہرست میں ایسے عوامی راہنما بھی شامل ہیں جن کی ٹیکس ریٹرن کا فگر صرف دو ہندسوں پر محیط ہے یعنی انہوں نے ایک سو روپے سے بھی کم انکم ٹیکس جمع کروایا، حاتم طائی کی سخاوت کو لات مارنے والے ان نیک نام عوامی نمائندوں میں محترمہ عائشہ ناز تنولی، محمد زین الہٰی اور عزت مآب طاہر بشیر بھی شامل ہیں۔ جنہوں نے اپنی آمدن میں سے بالترتیب 88 روپے 72 روپے اور 55 روپے کی رقم قومی خزانہ کو دان کی۔ غریب غربا ارکان اسمبلی میں وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک، تحریک انصاف کے مرکزی راہنما جاوید ہاشمی، وفاقی وزیر سردار یوسف، طاہر مشہدی اور گل محمد لاٹ نے تو سرے سے ہی اپنے گوشوارے جمع نہیں کرائے۔

یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ دنیا بھر کی حکومتوں کا دارومدار عوام و خاص کی طرف سے قومی خزانہ میں جمع کرائے گئے ٹیکسوں پر ہوتا ہے مگر ساری دنیا میں پاکستان وہ نرالا ملک ہے جہاں سب سے زیادہ ٹیکس عوام دیتے ہیںان میں سے بیشتر وہ لوگ ہیں جو ’’ خطِ غربت ‘‘ سے بھی نیچے زندگی گزار رہے ہیں انہیں ہر وقت دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے رہتے ہیں۔ ان بے بسوں اور بے کسوں پر صرف بجلی کی مَد میں ہی کئی طرح کے ٹیکس عائد ہیں۔ ہمارے ہاں بے لگام ٹیکسوں کے نام پر غریبوں کا خون نچوڑا جارہا ہے دوسری طرف بیشتر ایلیٹ کلاس سرے سے ہی کوئی ٹیکس ادا نہیں کررہی، جن میں بڑے جاگیر دار، سرمایہ دار بھی شامل ہیں حالانکہ دنیا کے کئی ممالک میں امیروں سے ٹیکس لے کر وہ رقوم غریبوں کی فلاح بہبود پر خرچ کی جاتی ہیں.... یہی گڈ گورنس ہے۔ مگر ہمارے ہاں کا باوا آدم ہی نرالا ہے اور آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، یہاں غریبوں سے ٹیکس لے کر امیروں بالخصوص حکمرانوں کی موج مستیوں اورٹور ٹپوں پر خرچ کیا جاتا ہے۔

ٹیکس ڈائریکٹری ایک ایسا آئینہ ہے جس میں اقتدار کے بھوکوں اور خالی جیبوں کا دعوی کرنے والے ارب پتی سیاستدانوں کا کچا چٹھا کُھل کر سامنے آگیا ہے۔ اس میں سرے سے اس بات کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا کہ ان معزز اراکین پارلیمنٹ کے ذرائع آمدن کیا ہیں؟ ایک سو روپیہ ٹیکس کی بھی گنجائش نہ رکھنے والے لیڈر کا کچن کیسے چلتا ہے؟ ان کے، ان کے بیوی بچوں اور خاندان کے دیگر افراد کے پاس کتنے پلاٹ، کوٹھیاں، فیکٹریاں، پلازے اور زرعی زمین ہے عوام کو ان کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی جانی چاہئیں تاکہ وہ آئندہ بہتر انداز میں اپنے نمائندوں کا انتخاب کرسکیں۔ بلاشبہ FBR نے اراکین پارلیمنٹ کے ٹیکس گوشواروں کی ڈائریکٹری جاری کرکے ایک احسن اقدام اٹھایا ہے مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ جو ارکان غلط گوشوارے جمع کراکے بددیانتی کے مرتکب ہوئے ہیں انہیں آئین پاکستان کی روح سے پارلیمنٹ کی رکنیت سے نااہل قرار دیا جائے۔

Income Tax Details of Parliamentarians Pakistan


No comments:

Powered by Blogger.