Header Ads

Breaking News
recent

پھر وہی چین


میں آپ کو ایک بادشاہ کا قصہ سنانا چاہتا تھا لیکن ایک مختصر سی خبر سامنے آ گئی جو تحریر میں لمبی ہو گئی۔ آج یہی سہی۔ خبر یہ کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف چین کے دورے پر چلے گئے ہیں جو وہاں چار پانچ روز تک نئے چین اور پرانے چین کو دیکھیں گے۔ منٹوں سیکنڈوں میں تعمیر ہونے والی نئی بلند عمارتیں اور قدیم دیوار چین۔ یہ سب چین کے عجوبے ہیں۔ ابھی وزیراعلیٰ نے چین کی سرزمین پر قدم نہیں رکھا کہ ہمارے صدر صاحب بھی ان کے تعاقب میں چین پہنچ رہے ہیں۔ ہمیں ایک طاقت ور دوست مل گیا ہے چنانچہ ہم کمزور لوگ حسب روایت اپنے طاقت ور دوست کے ہاں بار بار آتے جاتے ہیں اور اپنی کمزوری کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں، نیا کٹورا ملا ہے اور پیئے چلے جا رہے ہیں خواہ پیٹ پھٹ ہی جائے۔

یوں تو ہم ایک مدت سے چین جا رہے ہیں مگر ہم نے پاکستان سے ایک برس بعد نمودار ہونے والے نئے چین کی ترقی سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ مانگا بہت کچھ ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ مجھے ایک بار چین جاکر بڑی شرمندگی ہوئی۔ میں چین کے ایک مشہور اسٹور پر پہنچا۔ ان دنوں ڈالر کے ریٹ شریفانہ ہوتے تھے اور ڈالر کے بدلے بہت سارے چینی سکے مل جاتے تھے اس لیے میری جیب بھری ہوئی تھی۔ میں نے اسٹور میں داخل ہوتے ہی خوبصورت کپڑوں کے تھان دیکھے جو پہلے سے موجود پاکستانی خواتین دیکھ رہی تھیں اور مجھے بتا رہی تھیں کہ میں خواتین کے لیے کون سا کپڑا خریدوں لیکن مجھے تو اعلیٰ قسم کی بوسکی کی ضرورت تھی۔ ’دو گھوڑا بوسکی‘۔ معلوم ہوا کہ ہمارے ہاں چین کی یہ مقبول ترین بوسکی خود چین میں دستیاب نہیں ہے۔ یہ صرف برآمد کرنے کے لیے بنتی ہے مقامی طور پر فروخت کرنے کے لیے نہیں۔ میں اس بوسکی کے تھان خریدنا چاہتا تھا مگر وہاں تو اس کا ایک گز بھی دستیاب نہیں تھا۔ مایوس ہو کر میں نے خواتین کے لیے کچھ کپڑے خرید لیے اور شاپنگ ختم ہو گئی۔

میں کہہ رہا تھا کہ ہم نے چین سے مانگا بہت ہے۔ اپنی ایک بات پھر دہرا رہا ہوں۔ بھارت سے ایک جنگ کے زمانے میں (ہم کبھی بھارت کے ساتھ تجارت کے علاوہ جنگ بھی کر لیا کرتے تھے) ایوب خان نے ائیر مارشل اصغر خان کو اسلحہ کے لیے چین بھیجا۔ ائیر مارشل بتاتے ہیں کہ ایک بہت بڑے جہاز میں اکیلا بیٹھا عجیب محسوس کر رہا تھا۔ بہر کیف چین میں وزیر اعظم چو این لائی سے ملاقات ہوئی اور جو مانگا وہ مل گیا بلکہ کچھ زیادہ ہی کیونکہ چین کے پاس جو نئے ہتھیار موجود تھے اور ابھی چینی توشہ خانے میں پہنچے ہی تھے وہ بھی وزیر اعظم نے دے دیے۔ وزیر اعظم چو این لائی سے فارغ ہو کر میں نے ایک چینی افسر سے کہا کہ کیا بابا ماؤزے تنگ سے ملاقات ممکن ہے۔ اس افسر نے کچھ مہلت مانگی اور کچھ وقت بعد یہ خوشخبری ملی کہ یہ ملاقات ہوگی اور فلاں وقت پر ہو گی۔ میں حاضر ہوا۔ بے حد تپاک سے ملے اور باتوں باتوں میں پوچھا کہ چو این لائی نے میری ضرورت پوری کی ہے یا نہیں۔ میں نے ہاں میں جواب دیا تو یہ بزرگ مسکرا کر کہنے لگا، خیال کرنا چو این لائی بہت کنجوس ہے، وہ کہیں پرانا اسلحہ نہ دے دے۔

چین آج دنیا کی ایک بڑی طاقت ہے اور بہت پھیل چکا ہے لیکن وہ کمزور پاکستان کا پھر بھی دوست ہے، ایک ایسا دوست جس پر آپ بھروسہ کر سکتے ہیں۔ چین کے کاروباری تعلقات بھارت کے ساتھ بھی ہیں اور بہت بڑھ بھی چکے ہیں لیکن پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات جماندرو قسم کے ہیں۔ فوجی اور مالی امداد کے علاوہ ہمیں ہزاروں سال پرانی چینی دانش کی روشنی بھی ملتی رہتی ہے، اب یہ ہماری سمجھ اور عقل پر منحصر ہے کہ یہ ہمارے سر کے اوپر سے گزر جاتی ہے یا دل و دماغ میں بھی اترتی ہے۔ ہمارے یہ درمیانے یا پست قد کے زرد رو دوست جن کے چہروں پر اب خوشحالی کی سرخی نمودار ہو رہی ہے اپنی اس آزاد زندگی اور اس سے پہلے کی ہزاروں برس کی زندگی میں معجزے دکھائے ہیں جو چین کی سرزمین پر جگمگا رہے ہیں اور اس قوم کے دست ہنر کو یاد دلاتے ہیں۔ عالمی ضرب المثل ہے کہ قدرت نے عرب کی زبان‘ فرنگی کے دماغ اور چینی کے ہاتھ کو خاص مہارت عطا کی ہے اور ہم نے یہ سب دیکھا ہے۔

ان دنوں ہمارے دو اہم لیڈر بیک وقت چین کی سرزمین کے مہمان ہیں۔ ایک صدر مملکت دوسرے ہمارے زبردست قسم کے کارکن وزیر اعلیٰ دیکھیں یہ دونوں ہمارے لیے کیا لاتے ہیں۔ چینیوں کے دروازے کھلے ہیں اور ہم مانگنے میں ماہر خصوصاً ان سے جن کے ساتھ ہمارا تکلف کا رشتہ نہیں ہے۔ اگر کوئی میرے جیسے فقیر کی بات مانے تو ہمیں اس وقت اسلحہ سے زیادہ چینی دانش کی اشد ضرورت ہے۔ ہم چاروں طرف سے جان کے خطروں کی زد میں ہیں۔ غریب کی جورو سمجھ کر ہمیں ہر کوئی آنکھیں دکھا رہا ہے اور تو اور اب ایران فوجیں بھیجنے کی دھمکی بھی دے رہا ہے۔ بھارت اور افغانستان تو جو ہیں وہ ہیں معلوم ہی ہے اب تک تو ہم دکانداری کی باتیں ہی کر رہے تھے لیکن اب کچھ سوچیں کہ یہ بھارت ہی ہے جو کسی دوسرے کے منہ اور ہاتھ سے ہمارے در پے ہے۔ ہم بہت لالچ دیتے ہیں لیکن بھارت کا وزیر تجارت ہماری ہر پیش کش پر تھوک دیتا ہے۔ ہم تو اچھے تاجر بھی نہیں۔ یہ ہنر بھی چین سے سیکھ لیں۔ کوالالمپور میں ملائیشیا کا سربراہ کہہ رہا تھا ہماری تجارت زیادہ تر چینیوں کے ہاتھ میں ہے اور چینی اس میں اس قدر ماہر ہیں کہ ہم بے بس ہیں۔ ہمارے دو تجارت پیشہ لیڈر چین میں ہیں۔ کیا وہ چین سے کوئی ہنر سیکھ کر آئیں گے یا چینی کھانوں سے لطف اندوز ہو کر؟

عبدالقادر حسن    

No comments:

Powered by Blogger.