Header Ads

Breaking News
recent

نجکاری، پاکستان برائے فروخت۔ ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی


پاکستان کے اوپر بد نصیبی کا چھایا ہوا بادل گہرا ہوتا جارہا ہے گذرتے وقت کے ساتھ عام آدمی کی زندگی میں ہر لمحہ درد کے پیوند بڑھتے ہی جارہے ہیں۔پاکستان کی برباد معیشت میں عوام سلگ رہے ہیں ان کی اکثریت غربت، محرومی اور ذلت کی گہرائیوں میں غرق ہونے پر مجبور ہے۔ حکومتی اشرافیہ کی غلط اور مجرمانہ پالیسوں کی بدولت خود اپنے ہاتھوں عوام اپنی زندگی کو ختم کررہے ہیں المیہ یہ ہے کہ کوئی نوحہ کرنے والا،درد وتکلیف کواپنی تکلیف محسوس کرنے والا بھی نہیں ہے اور آج بھی غلامانہ ذہنیت کے مالک حکمراں وہی فیصلے کررہے ہیں جس کہ نتیجے میں بین الااقوامی قوتوں اور طاقتوں کو فائدہ حاصل ہو اور ان کی خواہش کے مطابق اسٹرایٹجک لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ملک افراتفری اور انتشار کا شکار رہے۔نواز حکومت نے ایک بار پھر عوام دشمن اور ملک دشمنی پر مبنی فیصلوں کے تسلسل میں بڑے پیمانے پر ملک میں نج کاری کا فیصلہ کرلیا ہے۔ نج کاری کمیشن کے بورڈ آف ڈائرکٹرز نے 8 جنوری 2014ء کو اعلیٰ سطحی اجلاس میں قومی فضائی کمپنی کے 26 فیصد حصص کی فروخت کے علاوہ ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس اور نیشنل پاور کنسٹرکشن کمپنی لمیٹڈ کی نج کاری کی منظوری دی ہے اور 31اداروںکو شارٹ لسٹ بھی کیا گیا ہے۔لیکن بات صرف اتنی نہیں ہے نج کاری کے عمل میں چند ادارے شامل نہیں ہیں اس فہرست میں 65 سرکاری اداروں کے نام شامل ہیں۔جن کے نام دیکھ کر لگتا ہے نواز حکومت اس بار پورا ملک ہی فروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

حکمراں طبقہ آئی ایم ایف کے دباؤ پر ملک کی صنعت وزراعت، معدنیات اور دوسرے معاشی شعبوںو قومی اثاثوں کوچن چن کر منصوبے کے تحت بے دردی سے اجاڑ رہے ہیں اورقومی ملکیت سے نکلنے والے اداروں کو ملکی اور بین الاقوامی بڑے بڑے مگر مچھ نگل رہے ہیں اور ملک کے قیمتی اثاثوں کوگھریلو سامان کی طرح اونے پونے داموں بیچ رہے ہیں۔

ا س سے قبل پاکستان میں نج کاری کی پہلی کوشش بے نظیر بھٹو کی سربراہی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت کے دور میں کرنے کی کوشش کی گئی جو کہ احتجاج کے باعث ناکام رہی۔ نواز شریف کی پہلی حکومت میں بھی 150ارب روپے کے خسارے کو پورا کرنے کے لیے 68صنعتی ادارے دو بنکوں،سوئی ناردرن گیس کے دس فی صد شیئرزکواونے پونے داموں میں بیچا گیاجس کے نتیجے میں مخصوص اشرافیہ تو مالا مال ہوگئی لیکن پاکستان اور پاکستان کے عوام قیمتی اثاثوں سے بھی محروم ہوگئے اور ہمارا خسارہ بھی کم نہیں ہوابلکہ بڑھتا ہی رہا۔پھر نواز حکومت کے خاتمے کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت نے بیس سے زائد اداروں کی نج کاری کی جن میں بجلی بنانے کی ایک کمپنی بھی شامل تھی۔اسی حکومت میں ایک بد نیتی پر مبنی معاہدے کے نتیجے میں آئی پی پیز کی آمد ہوئی اور توانائی کے شعبے میں نہ ختم ہونے والے بحران،خساروں اور لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اور مقامی سطح پرسیاست دان بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لیے نجی شعبے میں بجلی بنانے کے دھندے میں کود پڑے جس کے نتیجے مییں لوڈ شیڈنگ کا عذاب اور نرخ ہر آنے والے دن کے ساتھ بڑھتاہی جارہا ہے۔اور اب تو سردی کے موسم میں بھی عوام لوڈ شیڈنگ سے محفوظ نہیں ہیں۔اس بدترین صورتحال کے نتائج آج پاکستان کے غربت زدہ عوام بھگت رہے ہیں۔نج کاری کا عمل عالمی بنک کے ملازم وزیراعظم کے دور میں بھی تیزی سے جاری رہا اور شوکت عزیز نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن جیسے ادارے کو تقریباَ مفت میں دبئی کی کمپنی اتصالات کودے دیا جس کا ٹیکس کی ادائیگی کے بعدسالانہ منافع 37 ارب روپے سے زائد تھا جو‘ اب نجی شعبے میں سات ارب روپے سالانہ کی سطح پر گر چکا ہے۔اسی طرح قومی ائیر لائنز کے بارہ فی صد شیئر کی نج کاری بھی اسی دور میںکی گئی تھی۔اس پس منظر کے ساتھ فرائیڈے اسپیشل نے ماہر معیشت اور چیئرمین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک بنکنگ اینڈ فنانس ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ پاکستان میں گذشتہ پچیس سالوں میں ہونے والے نج کاری کے عمل سے کیا فائدہ ہوا اور موجودہ نواز حکومت ایک بار پھر نج کاری کا جو عمل شروع کیا ہے اس سے پاکستان کی معیشت کو کتنا استحکام ملے گا تو ان کا کہنا تھا کہ سابقہ تمام نج کاریوں سے ملکی معیشت ٹھیک ہوئی نہ قرضے اترے اور نہ ہی خسارہ کم ہوا۔ پاکستان میں نجکاری کا عمل ہمیشہ غیر شفاف، کرپشن و اقربا پروری کا بڑا ذریعہ اور متنازع،رہا ہے۔ گزشتہ تقریباً 23 برسوں میں بہت سے اہم، حساس، قیمتی اور سال بہ سال منافع بڑھاتے چلے جانے والے ادارے کوڑیوں کے مول من پسند افراد اور اداروں بشمول غیر ملکیوں کے ہاتھ فروخت کر دیئے گئے جو کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور کی یاد دلاتی ہے۔ بہت سے ادارے نجکاری کے بعد بدعنوانی اور نااہلی کے باعث بند ہو گئے جبکہ کچھ دوسرے اداروں نے اپنی خدمات اور مصنوعات کی قیمتوں میں زبردست اضافہ کیا جس سے عام آدمی کی مشکلات بڑھی ہیں۔نجکاری کے بعد ہزاروں افراد اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ اثاثوں و آمدنی کی تقسیم مزید غیر منصفانہ ہو گئی۔ ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’’منفعت بخش اداروں کو غیر ملکیوں کے ہاتھ فروخت کرتے وقت یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہئے کہ یہ ادارے منافع ملکی کرنسی میں کمائیں گے جبکہ غیرملکی خریدار اپنے منافع کی رقم غیرمعینہ مدت تک بیرونی کرنسی میں ملک سے باہر لے جائیں گے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ پڑے گا۔ اس خدشے کو بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ جو اہم ادارے ہم غیرملکیوں کو فروخت کر رہے ہیںبینکوں کے علاوہ وہ ادارے آنے والے برسوں میں ایک سازش اور مربوط حکمت عملی کے تحت ہمارے دشمن ممالک کے سرمایہ کار ان غیر ملکیوں سے خرید سکتے ہیں جو کہ انتہائی خطرناک اور تباہ کن ہو گا۔ عالمی بینک کے ایک سابق چیف اکنامسٹ کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں نجکاری کے عمل کی ناکامی کی مثالیں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نجکاری کے عمل کی ناکامی کا ثبوت یہ ہے کہ 166 قومی اداروں کی نجکاری ہو چکی ہے جن میں تقریباً 80 فیصد کی کارکردگی خراب رہی ہے۔اس سے قبل بینکوں کی نج کاری کے بعد کی کارکردگی کے بارے میں سوال کے جواب میں ڈاکڑ شاہد حسن صدیقی نے فرائیڈے اسپیشل سے گفتگو میں کہا کہ نجی شعبے کے بینکوں کی شاندار کارکردگی کے دعوے حقیقت کے برعکس ہیں۔ دراصل بینکوں نے اجارہ داری قائم کی ہے۔ اور اعداد و شمار پیش کی روشنی میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 2001ء میں پاکستان میں کام کرنے والے بینکوں نے صرف 1100 ملین روپے کا منافع دکھایا تھا۔ 2012ء میں ان بینکوں کا منافع حیرت انگیز طور پر بڑھ کر 1,87,000 ملین روپے ہو گیا۔ دنیا بھر میں حالیہ برسوں میں ٹیکس سے قبل منافع میں ایسے زبردست اضافے کی مثال نہیں ملتی۔ اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ نفع و نقصان میں شراکت کی بنیاد پر کھولے گئے کھاتوں پر دی جانے والی شرح منافع گرا کر بینکوں نے اپنا منافع بڑھانا شروع کر دیا جو کہ کھاتے داروں کے ساتھ معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ اور اس پر اسٹیٹ بینک نے یہ کہا کہ کھاتے دار بھی ذمہ دار ہیں کیونکہ انہوں نے شور نہیں مچایا۔ اندازہ ہے کہ اس مدت میں بینکوں نے کھاتے داروں کو 2001ء کی حقیقی شرح کے مقابلے میں 1200 ارب روپے منافع کی مد میں اس رقم سے کم ادا کئے جو ان کا حق تھا۔دوسری بات یہ ہے کہ نجی شعبے کو منتقل کئے گئے حبیب بینک نے 2004ء اور 2009ء کے درمیان 40ارب روپے اور یونائیٹڈ بینک نے 45ارب روپے کے قرضے معاف کئے تھے۔ اس کے مقابلے میں حکومتی شعبے کے نیشنل بینک نے اسی مدت میں صرف 19ارب روپے کے قرضے معاف کئے تھے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان بینکوں کو سستے داموں اس لئے بھی بیچا گیا تھا کہ طاقتور طبقوں کے بینکوں کے قرضے معاف کرائے جا سکیں۔پی آئی اے کے حوالے سے سوال کے جواب میں ڈاکٹر شاہد حسن کا کہنا تھا کہ پی آئی اے منافع بخش ادارہ ہے اس کی نج کاری کا فیصلہ بھی آئی ایم ایف کے دباؤ پر کیا جارہا ہے ان کا کہنا تھا کہ 9اگست کو وزیر خزانہ اورگورنر اسٹیٹ بینک کے دستخطوں سے14۔ 2013ء سے 3 برسوں کیلئے آئی ایم ایف کو پیش کی گئی معاشی اور مالیاتی پالیسیوں کی یادداشت میں کہا گیا ہے کہ 65 حکومتی شعبے کے اداروں کی نجکاری وغیرہ کے ضمن میں مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری حاصل کر لی گئی ہے۔ ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ دسمبر 2013ء تک پی آئی اے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ اس کا دوسرا حصہ پی آئی اے 2 ہو گا جس میں اس ادارے کے خراب حصے منتقل کر دیئے جائیں گے تاکہ ان ملازمین کو فارغ کیا جا سکے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ جون2014ء تک خطیر رقوم کی ادائیگی کے بعد اس ادارے کو تحلیل کر دیا جائے گا۔ پی آئی اے کے پہلے حصے کو کامیابی سے چلانے کیلئے حکومت اس ادارے میں مزید سرمایہ کاری کرے گی مگر اس اہم اور قیمتی ادارے کو بھی جون 2014ء تک نجی شعبے کے حوالے کر دیا جائے گا۔ڈاکٹر شاہد حسن کا کہنا تھا کہ قوم حکومت سے یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہو گی کہ ایک منفعت بخش ادارے کی نجکاری آخر کیوں کی جا رہی ہے؟ پاکستان اسٹیل جسے تمام صنعتوں کی ماں کہا جاتا ہے اور پی آئی اے جیسے اہم قومی اداروں کی نجکاری قومی المیہ سے کم نہیں ہے۔آئی ایم ایف اور نج کاری سے متعلق ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان نے 9اگست 2013ء کو آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کو ایک خط لکھا تھا جس کے ساتھ معاشی و مالیاتی پالیسیوں کی یادداشت بھی منسلک کی گئی تھی۔ اس خط میں یہ بات دہرائی گئی تھی کہ ان پالیسیوں بشمول نجکاری پروگرام کو صوبائی حکومتوں کی بھی زبردست تائید حاصل ہے۔کیونکہ مشترکہ مفادات کونسل نے ان پالیسیوں کی منظوری دے دی ہے۔حلانکہ یہ بات حقائق کے برخلاف ہے دو صوبوں کو تو اعتراض ہے اور اس کے برخلاف پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے پی آئی اے کی نجکاری کی پرزور مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ 18ویں ترمیم کے تحت پی آئی اے کی نجکاری کیلئے مشترکہ مفادات کونسل کی باضابطہ منظوری لازمی ہے۔ سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے اس ادارے کی نجکاری کے فیصلے پر اپنی پارٹی کی تنقید کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب اس ادارے کی نجکاری کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل کے سامنے منظوری کیلئے پیش ہو گا تو وہ اس معاملے کو دیکھیں گے۔ ہم پوری ذمہ داری سے یہ سمجھتے ہیں کہ ری اسٹرکچرنگ کے بعد اگر پی آئی اے کو پیشہ ورانہ اصولوں کے مطابق چلایا جائے تو یہ یقیناً منافع میں آ جائے گی۔ ڈاکٹر شاہد حسن نے کہا کہ امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن نے نج کاری کے خلاف مہم چلانے کا اعلان کیا ہے اور اس پر سب کو آواز اٹھانی چاہئیے ان کا کہنا تھا کہ ماہرین پر مشتمل ایک کمیشن بنایا جائے جو گزشتہ 20 برسوں کے نجکاری کے عمل اور نجی شعبے کو منتقل کئے گئے بڑے اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے اور اس وقت تک نجکاری کا عمل شروع نہ کیا جائے۔

نواز حکومت نے پاکستان بچانے کے نام پر پاکستان کے اثاثوں کو کوڑیوں کے مول فروخت کرنے کا اعلان کر کے چند اداروں کو نہیں بلکہ پاکستان کو فروخت کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے کیونکہ سوال یہ ہے کہ اگرآج اسی طرح ایک ایک کرکے تمام اثاثے فروخت کر دئیے گے تو آئندہ بیچنے کے لیے کیا رہے گا اور کتنا خود مختار پاکستان رہے گا اور پھر یہ سلسلہ کہاں جاکرروکے گا؟ان سوالوں پر غور آج ہی ہوسکتا ہے ورنہ خون چوسنے والی جونکوں کی طرح حکومتی اشرافیہ نے نجکاری کے نام پر جو گندا کھیل شروع کیاہوا ہے اس کی آڑ میںابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے مستقبل اوراثاثوں کو بچانے کے لئے منظم انداز میں میدان عمل میں آیا جائے اور ظلم واذیت کی تاریکیوں کا ہر نشان مٹانے کے لیے جدوجہد کا حصہ بنا جائے۔اسی میں سب کا بھلا ہے۔

اے اے سید

Privatization in Pakistan


 

No comments:

Powered by Blogger.