Header Ads

Breaking News
recent

چین کی محنتی قوم


مشہور چینی کہاوت ہے کہ ’’دورکے رشتے دار سے قریب کا پڑوسی زیادہ اچھا ہے‘‘ اس کہاوت کو چین کے لوگوں نے سچ بھی کر دکھایا ہے۔ عوامی جمہوریہ چین پاکستان کا ایک پڑوسی دوست جس نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کی دامے درمے سخنے ہرممکن مدد کی ہمیشہ کی طرح آج بھی پاکستان، امریکا، بھارت کی دوستی سے گومگو کی زد میں ہے۔ چینی وزیراعظم کا بیان ہمیں تقویت دیتا ہے کہ ’’پاک چین دوستی نسل درنسل آگے بڑھ رہی ہے۔ پاک چین سفارتی تعلقات کی اس سال 63ویں سالگرہ ہے تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ چین ضرورت کے وقت کام آنے والا حقیقی دوست ہیں۔ پا کستان کے انقلابی شاعر حبیب جالب نے پاک چین دوستی پر ایک نظم میں کہا تھا کہ

چین اپنا یار ہے

اس پر جان نثار ہے

غرض پاک چین دوستی ایک خوبصورت بندھن ہے اس کی صلاحیتوں پر نظر کی جائے تو ہم میں اور ان میں زمین آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔ افسوس بھی ہوتا ہے ہم اتنے اچھے پڑوسی ملک سے کچھ کام کی باتیں کیوں سیکھنے کی کوشش نہیں کرتے ایک زندہ اور محنتی قوم ہونے کے ناتے چینی عوام چھٹیوں کو سارا دن گھر میں ٹی وی کے آگے بیٹھ کر یا سو کر نہیں گنواتی۔ وہ فالتو اوقات ضایع کرنے کے بجائے ملک کی خدمت کو ترجیح دیتے ہیں۔ شہری ان اوقات میں کوئی فلاحی کام مثلاً پودے لگانا یا ساحل سمندر کے کنارے رضا کارانہ صفائی کا کام انجام دیتے ہیں۔ چینی قوم بڑی باصلاحیت محنتی اور سادہ قوم ہیں، ہزاروں سال قبل جب مغربی قومیں بربریت اور جہالت کی تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھیں اس وقت فرزندان چین نے مل جل کر بامقصد زندگی بسر کرنا اور بامقصد چیزیں بنانا سیکھ لی تھیں۔

انھوں نے سب سے پہلے کاغذ اور چھاپے خانے ایجاد کر کے دنیائے علم پر ایک احسان عظیم کیا۔ دنیا میں عرصہ دراز تک چین میں کتابوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی چین میں پہلا ناول چھ سو سال ق م میں لکھا گیا۔ چین کی ابتدائی لکھی گئی تاریخ پر زیادہ تر انسانی رنگ غالب ہے۔ 1929 میں سویڈن کے ماہر ارضیات ڈا کٹر اینڈرسن کو چین کے ایک غار میں ایسے انسانی ڈھانچے ملے جو اس بات کا ثبوت تھے کہ چین میں انسانی تاریخ تقریبا 5لا کھ سال پرانی ہے۔ چین کی قدیم بادشاہت مختلف خاندانوں جن میں شنگ خاندان، منگ خاندان ،چاؤ خاندان، تنگ خاندان، سن خاندان، یان خاندان، ہانگ خاندان، بان اور سنگ خاندان شامل تھے، چین مغرب میں 5ہزار میل تک بلند پہاڑیوں اور ریگستانوں میںگھرا ہوا ہے۔ مشرق میں بحر الکاہل تک بکھرا ہوا ہے۔ محل وقوع کے لحاظ سے کافی بڑا ملک ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایے کہ اس کے ایک صوبے سنکیانگ کا رقبہ انگلستان، جرمنی اور فرانس سے بھی بڑا ہے۔

اتنے بڑے محل وقوع کے باوجود چینی فطری طور پر دنیا سے الگ رہنے کے خواہشمند تھے ان کے فلسفیوں کی تعلیمات نے انھیں اور بھی قدامت پسند اور کنارہ کش کر دیا تھا۔ وہ صلح جو اور امن پسند طبیعت رکھتے تھے، دیوار چین بنانے کی وجوہ بھی شاید یہی رہی ہو گی جو انھیں تاتاریوں کے حملے سے بچنے میں بھی مددگار ثابت ہوئی تھی۔ یہ دیوار چین جسے دنیا ’’دی گریٹ وال آف چائنا‘‘ کے نام سے جانتی ہے، یہ دیوار 300 ق م میں شہنشاہ ہو آن لی نے بنوائی تھی اس کی لمبائی 15میل اور چوڑائی 25فٹ ہے اس کی لمبائی کی بناء پر اسے چاند سے بھی دیکھا جا سکتا ہے چین کی اکثریت بدھ مت کی پیروکار ہے۔ ان کے مذہبی فلسفیوں میں لاؤتسی اور کنفیوشس خاصے مشہور ہوئے۔ خاص طور پرکنفیوشس کے افکار نے ان کے خیالات میں کافی تبدیلیاں پیدا کیں حتیٰ کہ اس کی وفات کے بعد بھی ہر شہر میں اس کے نام کے مندر تعمیر کیے گئے آج بھی اس کے معتقدین کی تعداد کروڑوں میں ہے جو پوری دنیا میں پائے جاتے ہیں۔

اہل مغرب کے قدم چین کے شہر کینٹین میں سب سے پہلے پڑے اور مشہور زمانہ افیون جنگ کا آغاز ہوا جس میں چینیوں کی شکست کے بعد مغربی ملکوں نے یہاں پر اپنے قدم جمالیے ان مغربی ملکوں نے انھیں اپنے زیرنگیں رکھنے کے لیے افیون کا عادی بنا دیا تھا۔ چینیوں نے ایک طویل جدوجہد کے بعد آزادی حاصل کی۔ ہزاروں چینی انقلابیوںکو ایک دن میں تہ تیغ کیا گیا یہاں تک کہ چائنا کی سڑکیں مدتوں خون شہیداں سے رنگین رہیں، چینی قوم ان شہیدوںکی قربانی کبھی نہیں بھولی جنھوں نے اپنی جانوں کا نذارنہ پیش کر کے وطن کو آزادی سے ہمکنار کیا ان شہیدوںکی یاد میں چینی قوم 4مئی کو یوم بیداری مناتی ہے۔

اپنی آزادی کے بعد چینی قوم نے تیزی سے ترقی شروع کی وہ قوم جو پوری دنیا میں افیونی قوم کے لقب سے مشہور تھی اس نے ثابت کر دکھایا کہ اگر پوری قوم متحد ہو کر حالات کا مقابلہ کرے اس کے لیڈرز نیک نیتی سے ملک کی تعمیر میں حصہ لیں تو وہ ضرور کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے۔ وہاں کے عوام اپنے قائد ماوزے تنگ کے افکار پر سختی سے عمل پیرا ہیں جنھوں نے محنت کی عظمت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر چینی اپنے ہاتھ سے کام کرے کہ کسی شخص کے لیے تھوڑا ساکام کرنا مشکل نہیں ہوتا جو چیز مشکل ہے وہ ہے تمام عمر اچھے کام کرنا، محنت کرو گے تو تجربہ ہو گا اور تجربہ ہی علم کا سونا اور معراج ہے۔

چینی قوم انھی افکار کی روشنی میں نیا انفراسٹرکچر تیارکرنا شروع کیا، پورے ملک میں سڑکوںکا جال بچھا دیا گیا، ریلوے لائنیں، بندرگاہیں اور ائیرپورٹس بنائے گئے تعلیم اور صحت کو سب کے لیے عام کیا گیا۔ دنیا میں سب سے بڑی فورس چین کے پاس ہے اس وقت چین کا گروتھ ریٹ پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہے آج دنیا میں ہر گھر، محلہ، دکان، اسپتال، کارخانے غرض ہر جگہ ’’میڈان چائنا‘‘ چھایا ہوا ہے، چین آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہونے کے باوجود بہبود آبادی کے مسائل کا شکار نہیں ہوا۔ ایک بڑی آبادی والا ملک ہونے کے ناتے سب سے بڑی افرادی قوت چین کے پاس ہے جو تقریبا 50کروڑ کے لگ بھگ ہے یورپ اس وقت چین کی مصنوعات کا سب سے بڑا خریدار ہے۔

اس کے بعد امریکا کا نمبر آتا ہے چین نے یہ مقام اپنی محنت اور ایمانداری سے حاصل کیا۔ اس وقت ہمارے صدر اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی چین کے دورے پر ہیں وہ یقینا وہاں ملک کی امداد کے لیے گئے ہیں لیکن! کاش ہمار ے حکمران تھوڑی سی محنت، ایمانداری اور دانشوری بھی پڑوسی دوست سے لا سکتے کہ چینی دانشور اپنی کہاوتوں اور محاوروں کے لیے بھی خاصے مشہور ہیں۔ ان کی کہاوت ہے کہ ’’اگر ایک سال کی منصوبہ بندی کرنی ہے تو مکئی لگاؤ اگر دس سال کی منصوبہ بندی کرناچاہتے ہو تو درخت لگاؤ اور اگر صدیوں کی منصوبہ بندی کرنا چاہتے ہو تو اپنے عوام کی تربیت کرو انھیں بہترین تعلیم دو۔‘‘

عینی نیازی   

 

No comments:

Powered by Blogger.