Header Ads

Breaking News
recent

والدین توجہ فرمائیں …!


کرسمس کے دنوں میں امریکہ بھر میں مشہور و مقبول نظم Jingle bells, jingle bells, Jingle all the way

(جِنگل بیلز جِنگل بیلز،جِنگل آل دا وے) کی گونج سنائی دیتی ہے۔ سکولوں میں چھوٹے چھوٹے بچوں کو یہ نظم زبانی یاد کرائی جاتی ہے بلکہ بچہ جب ہوش سنبھالتا ہے تو کرسمس کے سیزن میں اس نظم کی دھن کے ساتھ جھومنے لگتا ہے اور وہ جب بولنا سیکھتا ہے تو اسے یہ دھن از بر ہو چکی ہوتی ہے۔ یہ مشہورو معصوم نظم جیمز لارڈ نامی رائٹر نے 1857ء میں لکھی تھی اور اس نے یہ نظم کرسمس کے موقع پر ایک چرچ میں گائی تو اسے بے حد پذیرائی ملی کہ اس نظم کو کرسمس کی علامت بنا دیا گیا۔ امریکہ میں مذہبی و ثقافتی تہواروں کے موقع پر مختلف نظمیں اور گیت لکھے گئے جو ان تہواروں کی پہچان بن چکے ہیں ۔انسانی نفسیات ہے کہ جب وہ کوئی گیت سنتاہے تو لا شعوری طور پر گنگنانے لگتا ہے۔بچے بھی موسیقی کے ساتھ جھومنے لگتے ہیں۔ انسان مو سیقی کا مثبت استعمال کرسکتا ہے۔بچے دھن میں بنی نظمیں جلدی یاد کر لیتے ہیں ۔ہم نے ان باتوں کی طرف اس وقت دھیان دینا شروع کیا جب ہماری بیٹی مومنہ تین سال کی تھی اور اس نے سکول جانا شروع کیا تھا۔ اولاد کی دینی و اخلاقی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری ماں پر عائد ہوتی ہے ۔ایک غیر مسلم معاشرے میں ایک مسلمان کے لئے اپنے بچے کو عقائد اقدار کی تعلیم و تربیت دینا ایک کٹھن آزمائش ہے بلکہ اس منزل سے کامیاب گزرنا ایک پل صراط ہے۔ بچے کی نفسیات چار سال کی عمر میں مکمل ہو جاتی ہے اور ان چار سالوں میں وہ جو کچھ اپنے ماحول میں دیکھتا اور محسوس کرتا ہے اسے اپنے دل و دماغ کے کمپیوٹر میں محفوظ کر لیتا ہے۔ تیس سال پہلے امریکہ آئے تو بچوں کے لئے پڑھائی کی جدید سہولیات اور مواد میسر نہ تھا۔کتابیں اور آڈیو کیسٹس کا زمانہ تھا جبکہ آج انٹر نیٹ نے تعلیم کو سہل بنا دیا ہے بلکہ انٹر نیٹ کو ہی بچوں کی اصل ماں سمجھا جاتا ہے۔ مغرب میں انگریزی میں تعلیم وزبان یہاں کے ماحول میں مل جاتی ہے جبکہ مشکل مرحلہ بچوں کو اسلامی تعلیم اور اردو زبان سکھانا ہے اور دینی و اخلاقی تعلیم و تربیت ماں کی ذمہ داری ہے۔ نادان ہیں وہ ماں باپ جو مغرب میں رہتے ہوئے اپنے بچوں کے ساتھ انگریزی زبان میں بات کرتے ہیں ، شاید بچوں کے بہانے خود انگریزی سیکھ رہے ہوتے ہیں۔ انگریزوں میں رہ کران کی زبان سکھانے کی ضرورت نہیں بلکہ مادری ، عربی اردو جیسی اہم زبانیں سکھانے کے لئے محنت کرنی چاہئے۔ اسلامی کلمات اور دعائیں صرف ماں اور دینی ماحول سکھا سکتا ہے۔ بیٹی نے جب سکول جانا شروع کیا تو کرسمس کے دنوں میں ’’جنگل بیلز جنگل بیلز‘‘ نظم گنگناتی رہتی۔ اس معصوم نظم سے ہمیں کوئی مخالفت نہیں بلکہ اس سے ہمیں یہ سوچنے میں مدد ملی کہ کیوں نہ ننھی مومنہ کو اسلامی نظمیں یاد کرادی جائیں تا کہ دین و دنیا کی تعلیم میں توازن رہے لہذاہم نے برطانوی نژاد نومسلم یوسف اسلام المعروف مشہور پاپ سنگر کیٹ سٹیون کی کیسٹس خریدیں۔ یوسف اسلام نے بچوں کے لئے بہت خوبصورت نظمیں لکھی ہیں جن کی دھنوں کے ساتھ بچے جھومنے لگتے تھے اور یوں اٹھتے بیٹھتے انہیں اسلامی نظمیں یاد ہو جاتی ہیں۔ نبی کریمؐ کی مدینہ منورہ میں ہجرت کے موقع پر مدینہ کے لوگوں نے دف کے ساتھ حضور ؐ کے لئے ایک استقبالیہ نظم گائی۔ ’’ طلع البدر علینا، من ثنیات الوداع‘‘ عربی کی یہ وہ مشہور و مقبول نظم ہے جو پندرہ صدیاں گزر جانے کے باوجود اپنی مقبولیت میں ایک بلند مقام رکھتی ہے۔ہم یہ عربی نظمیں کیسٹس پر لگا دیتے، ہمارے بچے انگریزی نظموں کی طرح عربی نظمیں بھی یاد کرنے لگے اور اٹھتے بیٹھتے گنگنانے لگے۔ ’’طلع البدر علینا‘‘ مدینہ طیبہ کی اس استقبالیہ نظم کا پس منظر بچوں کوبتایا تو ان میںحضورؐ کی حیات طیبہ کی کہانیاں سننے کا شوق پیدا ہو گیا۔ برطانوی سنگر اور نو مسلم کیٹ سٹیون یوسف اسلام کی لکھی ایک مشہور اسلامی نظم

Alif is for Allah, nothing but Allah;

Ba is the beginning of Bismillah;

Ta is for Taqwa, bewaring of Allah;

and Tha is for Thawab, a reward;

(الف سے اللہ، با سے بسم اللہ، تا سے تقویٰ اور ث سے ثواب) نظم کو عربی کے مکمل حروف تہجی کے ساتھ انتہائی خوبصورت انداز میں لکھا اور گایا کہ بچوں کو ازبر ہو گیا اور اردو قاعدہ (الف انار، ب بکری، ت تختی) یاد کرنے میں بھی مشکل پیش نہیں آئی۔ دین و دنیا کی تعلیم ایک ساتھ جاری رہی، ذہانت و قابلیت میں مددگار ثابت ہوئی اور ہماری بیٹی اردو،پنجابی،عربی،فارسی،جرمن زبانیں پڑھنے لگی حتیٰ کہ فلسفہ اقبال پڑھنے کے لئے جرمنی گئی۔ پنجابی صوفیانہ کلام کا انگریزی میں ترجمہ کر کے اپنے امریکی دوستوں کو شیئر کرتی۔ امریکی یونیورسٹی میںفلسفہ اقبال ؒ پر ایک پیپر لکھا جس کو اس قدر پذیرائی ملی کہ بیس سال کی عمر میں ہماری بیٹی کو ڈیوک یونیورسٹی کی ایک اسلامی کانفرنس میں بحیثیت گیسٹ سپیکر مدعو کیا گیا ۔ مغربی تعلیم و ثقافت اور تہوار مسئلہ نہیں بلکہ تشویش دینی تعلیم و تربیت سے دوری ہے۔ تعلیم کے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا بلکہ مسلمان بچوں کے ساتھ ان کے اپنے والدین انصاف نہیں کر رہے۔ انسان خواہ کسی ملک میں رہتا ہو ، انہیں اپنا کھویا ہوا وقار، اعتماد، نظریات، اخلاقیات اور عقائد اسی صورت میں واپس مل سکتے ہیں کہ وہ دین اور دنیا کی تعلیم میں توازن رکھیں ورنہ فرنگی کی اترن کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔

   طیبہ ضیاءچیمہ ....(نیویارک)

Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.