نہ جانے قومیں اور ریاستیں خود کو خوامخواہ کی مصیبت میں کیوں مبتلا رکھتی ہیں۔ زندگی گزارنے کے اور بھی بہت سے ڈھنگ ہیں جن کو اپنانے سے مشقت اور محنت کم لگتی ہے۔ خوامخواہ پسینہ اور خون ایک نہیں کرنا پڑتا۔ نظام چلتا رہتا ہے۔ جارجیا جیسے ملک میں حکمرانوں کو کیا پڑی تھی کہ وہ ایک سابق وزیر ِاعظم کو بدعنوانی کے الزام میں مقدمات میں الجھا دیں، جیل میں ڈال دیں۔ یعنی سزا کا عمل شروع کر دیں۔ تھوڑے بہت پیسے اس نے بنا لیے تو کیا غضب کیا۔ وہ طاقت ہی کیا جس کو فائدے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ اس پر تمام نظام کو تلملانے کی کیا ضرورت تھی۔ برداشت کر لیتے تو آج خوامخواہ خبریں نہ بن رہی ہوتیں۔ عجیب بیوقوفانہ حرکت کی انھوں نے، اسی قسم کی حرکت اٹلی کے برلسکونی نے کی۔ اتنا طاقت ور آدمی عدالت کے ہتھے چڑھ گیا۔ تاحیات طاقت میں واپس آنے پر پابندی لگ گئی۔ اطالوی قوم میں برداشت کا مادہ نہ جانے کم کیوں ہو گیا۔

برطانیہ کو دیکھیں جمہوریت سے اتنا نام کمایا ہے کہ اچھا برا سب اچھا ہی لگتا ہے۔ مگر پھر جب چند ایک نمایندگان نے کچھ ہزار پاؤنڈ آگے پیچھے کر دیے تو اُن کی درگت بنانے لگ گئے۔ سزائیں ہوئیں سیاست سے نکال دیا۔ ایک ممبر کو علاقے کا کوڑا کرکٹ اٹھانے پر بھی مامور کیا گیا۔ ایسے اقدامات کیے بغیر بہترین زندگی گزاری جا سکتی تھی۔ ہمیں ہی دیکھ لیں کیسے اطمینان سے سب کچھ یعنی جمہوریت وغیرہ چلا رہے ہیں۔ اس ملک کو جی بھر کر کھایا ہے۔ قومی وسائل سے گلچھڑے اڑاے ہیں۔ لوہے کو ہاتھ لگا کر سونا کر دیا ہے۔ پھر بھی کچھ برا نہیں ہوا۔ یہ ملک نہیں ٹوٹا، سر اٹھا کر چلتے ہیں۔ منتخب حکومتیں انھی کرپشن کے انباروں سے بنی ہیں مگر پھر بھی دنیا کا ہر سربراہ سات سلام کرتا ہے۔ ہم سے جمہوریت اور قانون کی بالادستی کے لیکچر سنتا ہے۔ بدعنوانی ختم کرنے کے لیے جستجو کرنا ضروری نہیں۔ جو ہو گیا سو ہو گیا۔ پیسہ ملک کا ہو، دولت عوام کی ہو لیکن ہے تو پاکستانی ہاتھوں میں ہی۔ کس کے پاس زیادہ ہے کس کے پاس کم پیسہ تو ہر جگہ ہے۔ پھر اتنی سعی کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

ایران کے حکمرانوں کو بھی ہر نکتہ سمجھ نہیں آتا۔ کہنے کو تو ہزاروں سال پرانی تہذیب ہے مگر بنیادی قسم کی دانش مندی کے تقاضے بھی پورے نہیں کرتے۔ ہم سے اپنے مغوی بارڈر گارڈز کا پوچھ رہے ہیں۔ پریشان ہورہے ہیں۔ ان کے اغواء شدہ شہری زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ بھئی اتنے زیادہ لوگ ہیں، ایران میں چند ایک غائب بھی ہو گئے تو کیا قیامت آ گئی۔ کسی گروپ نے دوچار اغواء کر لیے تو اس میں بلبلانے کی کیا بات ہے اور پھر ہمیں دھمکی دینے کا کیا جواز ہے۔ ایران کے آرمی جرنیل کو ستو پینے چاہئیں تا کہ خون کا ابال کم ہو جائے۔ یہ کہنا کہ ایران پاکستان کی سرزمین پر خود کارروائی کر کے ان گارڈز کو چھڑائے گا غیر ضروری منصوبہ ہے۔ حالات خراب ہوں گے وقت ضایع ہو گا۔ کدورتیں بڑھیں گی۔ بھائی چارہ کم ہو جائے گا۔ ہم سے سیکھ لیں کہ اغواء کیے ہوئے گارڈز کے معاملے کو کیسے طے کیا جاتا ہے۔ یہ مہینے ہفتوں تک نہیں سالوں تک لٹکائے جا سکتے ہیں۔ 2010 میں اگر کوئی سیکیورٹی اہلکار گم ہوا تو 2014میں مل جائے گا۔ صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اس دوران کوئی حادثہ بھی ہو سکتا ہے۔ اغواء شدگان کی گردنیں تن سے جدا بھی ہو سکتی ہیں۔ ان کو بہت کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ دیکھیں ہم کس خوبصورتی سے حامد کرزئی کو سر آنکھوں پر بٹھا ئے ہوتے ہیں۔ اِن کی راہ میں پلکیں بچھا تے ہیں، وہ جہا ں کہتے ہیں ہم چلے جاتے ہیں۔

کبھی ترکی میں کبھی امریکا میں اگر ملاقات کے لیے دہلی بلائیں گے تو بھی ہم سر کے بل جائیں گے۔ اُن کو خوش کر نے کے لیے ہم نے بہترین طریقہ اپنایا ہوا ہے۔ پہلے کی طرح اس مرتبہ بھی عزت ماب حامد کرزئی نے پاکستان کے ریاستی اداروں کو ترکی میں بیٹھ کر شدید تنقید کا نشا نہ بنایا تو محترم وزیراعظم نے تدبر اختیار کرتے ہوئے عسکری قیادت کو کرزئی صاحب کے سامنے وضاحت کا کہا۔ پھر وضاحت کر دی گئی، افغان صدر مطمئن ہوئے یا نہیں ہوئے ہمیں علم نہیں۔ اُن کے ذہن میں کیا ہے وہ خود جانتے ہیں یا اُن کا ڈاکٹر جو اُن کی مشکل بیماریوں کے لیے دوائیوں کی لمبی چوڑی فہرست تیار کرتا ہے۔ مگر ہم نے تو اپنا کام کر دیا۔ وہ لوگ جو افغانستان میں موجود ہیں اور ہم پر حملے کرتے ہیں اُن کا قصہ اُٹھاتے تو ماحول خراب ہو جاتا۔ تعلقات پر آنچ آ جاتی اور کچھ ایسا ہو جاتا کہ شاید آخر میں ہمیں کابل کو دھمکی بھی دینی پڑتی۔ کتنی بُرائی پھیلتی، ہم پیار، محبت اور اچھائی کو پھیلا نے پر مامور ہیں۔

زند ہ قومیں اور اُن کی قیادت کھاؤ، پیو، موج اڑاو کے فارمولے پر عمل درآمد کرتی ہیں۔ ریاست کو چلانے کے لیے ہر وقت کی پریشانی، کبھی دہشت گردی سے نپٹتے، کبھی معاشی بدحالی سے، کبھی کوئی آپریشن کی پخ چھوڑ دیتا ہے اور کبھی پاکستان کے مفادات کے تحفظ کی گٹھڑی سر پر لاد دیتا ہے۔ زندگی گزارنے کا یہ تو کوئی ڈھنگ نہیں۔ یہ ایک ہی مرتبہ ملتی ہے۔ ایسی بک بک میں پھنسنے کا کیا فائدہ۔ وقت ضایع ہوتا ہے، محنت کر نی پڑتی ہے۔ قربانی دیے بغیر گزارہ نہیں ہو تا ایسی تنگی اب ہر کوئی قائداعظم تو نہیں ہے کہ کام، کام اور بس کام کر کے ٹی بی کروا لے۔ جب آرام، آرام اور حرام کے ساتھ گزارہ چل رہا ہے تو اسی ڈگر کو بہتر ین سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ ہمارا ’’اشٹائل‘‘ ہے دوسری اقوام اس سے سبق حاصل کر سکتی ہیں۔ ہماری کیا بات ہے!


بشکریہ روزنامہ ' ایکسپریس '