Header Ads

Breaking News
recent

کراچی ادب میلہ


گزشتہ برس کی طرح اس بار بھی جرمنی، اٹلی اور فرانس کے سفیروں اور برٹش کونسل کے نمائندے نے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی اور اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا جن کا لب لباب یہی تھا کہ ایسے نامساعد حالات میں اس طرح کے میلے کا کامیاب انعقاد جہاں ایک طرف منتظمین کی محنت اور صلاحیت کا ترجمان ہے وہاں عوام کی پر جوش شمولیت بھی بے حد حوصلہ افزا ہے کہ اس سے ان کی ہمت حوصلے اور فنون لطیفہ سے محبت کی شدت کا اظہار ہوتا ہے۔ تینوں نے گزشتہ سال کے دوران لکھی گئی کتابوں پر ایوارڈز کے سلسلے شروع کیے ہیں جن کا اعلان ان کے خطاب کے دوران کیا گیا اور ہر تقریر کے بعد متعلقہ ایوارڈ جیتنے والوںکو پیش بھی کیے گئے مرکزی میزبانوں یعنی امینہ سید اور ڈاکٹر آصف فرخی کے علاوہ مرکزی سپانسر HBL کے نمائندے نے بھی خوش آمدیدی کلمات کہے لیکن حاصل غزل شعر مہاتما گاندھی کے پوتے راج موہن گاندھی کا کلیدی خطبہ ہی تھا جو اپنے عظیم دادا کی نسبت نہ صرف طویل قامت تھے بلکہ انھوں نے کپڑے بھی پورے پہن رکھے تھے۔

انھوں نے بڑے دلچسپ اور عام فہم انداز میں برصغیر کی مشترکہ تاریخ اور تہذیب کے پس منظر میں آزادی کے بعد دونوں ملکوں کی صورت حال کا جائزہ پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ لڑائی جھگڑے سے معاملات نہ کبھی سلجھے ہیں اور نہ سلجھیں گے۔ سو دونوں ملکوں کو ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ اب Region کی سطح پر سوچنا چاہیے کہ ساری دنیا اسی کی طرف جا رہی ہے اور یہ کہ خارج کے حالات کے ساتھ ساتھ اپنے اندر کی طرف بھی جھانکنا اور دیکھنا چاہیے کہ ہم عالمی برادری کے ممبر تو بن گئے ہیں مگر خود اپنے اپنے ملکوں کے اندر موجود تہذیبوں، زبانوں اور قومیتوں کے ساتھ مکالمہ نہیں کرتے۔ ان کی اس بات نے مجھے اس لیے بھی متاثر کیا کہ آج کل ہم بالخصوص تعلیم کے حوالے سے اندھا دھند اپنے بچوں کو نیشنل بنائے بغیر انٹرنیشنل بنانے کے خبط میں مبتلا ہیں جس کے نتیجے میں ہم اندر کی سطح پر مضبوط ہونے کے بجائے انتشار کا شکار ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

پروگرام کے آخر میں علامہ اقبال کی مشہور غزل ’’ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں‘‘ پر ناہید صدیقی کا ایک رقص رکھا گیا تھا جو میرے خیال میں نامناسب بھی تھا اور بے موقع بھی۔ نامناسب اس لیے کہ اتنی بڑی فن کارہ کا یہ مختصر سا آئٹم اس وقت پیش کیا گیا جب ایک طویل اور سنجیدہ اجلاس ختم ہورہا تھا اور حاضرین ذہنی طور پر ایک بالکل مختلف فضا میں تھے اور بے موقع اس لیے کہ اسٹیج خالی کرانے کے وقفے کے درمیان لوگ منتشر ہونا شروع ہوگئے تھے اور یوں بھی دوپہر کا وقت ایسے عمدہ کلاسیکل رقص کے لیے بہرحال کوئی موزوں وقت نہیں تھا۔ یہ بات کچھ اس لیے بھی بے تکی سی محسوس ہوئی کہ کانفرنس کی آخری شام کو ناہید صدیقی کے رقص کے لیے ایک پوری محفل پہلے سے طے شدہ تھی۔

جیسا کہ میں نے گزشتہ کالم میں واضح کیا تھا کہ افتتاحی اجلاس کے بعد مختلف ہالز اور پنڈالوں میں بہت سے اجلاس ایک ساتھ منعقد ہونا شروع ہوگئے جو بلا شبہ بہت اہم اور اعلیٰ پائے کے تھے مگر مسئلہ پھر وہی تھا کہ بیشتر لوگ اس مخمصے میں مبتلا رہے کہ وہ کس میں شریک ہوں اور کس کو چھوڑیں کہ زیادہ تر پروگرام اس قدر دلچسپ اور پرکشش تھے کہ ہر ایک اپنی طرف کھینچتا تھا مثال کے طور پر افتتاحی پروگرام کے فوراً بعد سوا بارہ سے سوا ایک تک مندرجہ ذیل چھ پروگرام ایک ساتھ چل رہے تھے۔

 مونی محسن سے مکالمہ

  (مباحثہ) Power of the fourth state

  سب کے محبوب شاعر فیض احمد فیض

  کتاب The Kashmir Dispute کی تقریب رونمائی

  ناول کی دنیا

  پتلی تماشا

اور کم و بیش ایسی ہی صورتحال آئندہ تین دنوں تک جاری رہی میرے سامنے کچھ احباب نے منتظمین سے اس الجھن کی شکایت کی تو ان کا کہنا یہی تھا کہ انھیں ہر روز تقریباً 25 سیشن نمٹانے کے ساتھ ساتھ کم و بیش 90 ملکی اور غیر ملکی مندوبین کو بھیadjust کرنا ہے یعنی اگر وہ عوام کو بہتر Choice دینے کے لیے ایک سیشن میں پروگراموں کی تعداد نصف کریں تو انھیں سیشن دوگنا بڑھانا پڑیں گے اور معاملہ پانچ یا چھ دنوں پر پھیل جائے گا جب کہ مصروفیت کے اس دور میں تین دنوں کے لیے بھی مندوبین کو اکٹھا کرنا ایک مہم سے کم نہیں۔ میرے خیال میں اس کا ایک ہی حل ہے کہ مندوبین اور موضوعات دونوں کی تعداد کو 40% کے لگ بھگ کم کردیا جائے۔ بصورت دیگر یہ شکایت برقرار رہے گی اور میلے میں آنے والوں کو انتخاب کے اس کڑے اور بعض صورتوں میں انتہائی مشکل امتحان سے یونہی گزرنا پڑے گا۔ میری طرح کئی دوسرے احباب نے بھی شروع شروع میں تھوڑا تھوڑا وقت ہر پسندیدہ پروگرام کو دینے کی کوشش کی لیکن اس سے یہ معاملہ سلجھنے کی بجائے مزید الجھ گیا اور ہم سب Jack of all Trades ,master of none کی منہ بولتی تصویریں بن گئے۔

KLF کے ان پروگراموں کی ایک اضافی خوبی وقت کی پابندی بھی ہے۔ سو اگر صرف تانک جھانک سے کام چلانے کی کوشش کی جائے تو اس میں بھی کامیابی نہیں ہوتی کہ درمیان میں تصویریں اتروانے، سلام دعا کرنے اور آٹو گراف لینے والوںکا ایک ایسا ہجوم پڑتا ہے کہ ٹک کر بیٹھنے یا دھیان سے سننے کا موقع کم کم ہی ملتا ہے۔ اس بار ایک اچھا اضافہ یہ دیکھنے میں آیا کہ مندوبین کی چائے پانی کے لیے ایک کمرہ الگ سے مخصوص کردیا گیا تھا جہاں آپ چند منٹ رک کر تازہ دم ہوسکتے تھے اس کے باہر والنٹیر بچے اور بچیاں ہمہ وقت موجود رہتے تھے تاکہ غیرمتعلقہ افراد آرام کے اس مختصر وقفے میں دخل اندازی نہ کرسکیں لیکن اب اس کا کیا کیا جائے کہ ہر بار وہاں دو چار ایسے دوست مل جاتے ہیں جن سے بات چیت کے دوران وقت کے گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلتا جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کئی بار کوئی ایسا پروگرام بھی نکل جاتا ہے جس کی مرکزی شخصیت سے آپ شمولیت کا پکا وعدہ کرچکے ہوتے ہیں۔

کم و بیش یہی صورت حال کتابوں کے خصوصی اسٹالز کے درمیان گھومتے پھرتے بھی پیش آتی ہے کہ کئی کتابیں رستہ روک کر کھڑی ہوجاتی ہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ کل ملا کر چند سیشن ہی ایسے تھے جن میں قرار واقعی قسم کی شمولیت کا موقع مل سکا (یہ اور بات ہے کہ ان میں سے تین میں، میں خود کسی نہ کسی حوالے سے شامل تھا) سو اگلے کالم میں ان کے بارے میں گفتگو ہوگی۔ چلتے چلتے پہلے دن کے آخری پروگرام یعنی مشاعرے کے بارے میں کچھ بات ہوجائے جس کی صدارت کشور ناہید نے کی اور میزبانی کے فرائض فاطمہ حسن نے انجام دیے۔ شعرأ میں زیادہ تر کا تعلق کانفرنس کے مندوبین سے ہی تھا یعنی ان سے ایک پنتھ دو کاج کاکام لیا گیا تھا البتہ کراچی کے کچھ شعرأ کو بھی شامل کیا گیا تھا حیرت کی بات یہ ہے کہ اس فہرست میں بھی کئی اہم شعرأ کے نام نہیں تھے اور جن کے تھے ان میں سے بھی کئی ایک وہاں موجود نہیں تھے البتہ برادرم سلیم کوثر کی کمی بہت محسوس ہوئی کہ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے خاصے علیل ہیں۔ میں لاہور سے دل میں ان کی عیادت کا ارادہ کرکے چلا تھا مگر بوجوہ اس کا موقع نہ مل سکا سو ان کے لیے صحت کاملہ عاجلہ کی دعا کے ساتھ اس کالم کو ختم کرتا ہوں۔ یاد رہے تو آپ بھی ان کی صحت یابی کے لیے دعا فرمایے گا۔

امجد اسلام امجد    

No comments:

Powered by Blogger.