Header Ads

Breaking News
recent

کفارہ


قائداعظم سے کسی نے پوچھا ’’ پہلے تو آپ کانگریس میں شامل تھے اور متحدہ ہندوستان کے بہت بڑے حامی تھے پھر اچانک آپ نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی اور آپ دو قومی نظریے کے سب سے بڑے وکیل بن کر سامنے آ گئے۔ ایسا کیوں کر ہوا؟ آپ کے بارے میں تو کہا جاتا ہے کہ آپ بہت سوچ سمجھ کر کوئی فیصلہ کرتے ہیں اور پھر اپنے فیصلوں پر ڈٹ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کیا آپ کی قوت فیصلہ کمزور ہو چکی ہے؟ یا آپ اپنے فیصلوں کا دفاع کرنے کی اہلیت سے محروم ہو چکے ہیں؟‘‘ قائد اعظم نے اس سوال کا بڑا دلچسپ جواب دیا۔ آپ نے اپنے مخاطب کی طرف مسکرا کر دیکھا اور کہا ’’میں پہلے پرائمری کلاسز میں پڑھتا تھا پھر کالج میں پڑھنا شروع کیا اور اب سیاست اور وکالت کر رہا ہوں۔ آپ کیا چاہتے تھے کہ میں پرائمری کا ہی طالب علم رہتا؟‘‘

یہ حقیقت ہے کہ زمانے میں تبدیلی کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔ ’’ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں‘‘ اس کے ساتھ ساتھ ذہنی بلوغت کا سفر بھی عمر کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتا رہتا ہے۔ حالات و واقعات کی تبدیلی بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مرزا اسد اللہ غالبؔ ابتدائی زمانے میں اسدؔ تخلص کیا کرتے تھے اور ان کی کوشش ہوتی تھی کہ اپنے اشعار میں مشکل ترین الفاظ استعمال کریں۔ شعر و ادب سے دلچسپی رکھنے والے دوستوں نے شکایت بھی کی کہ ’’آپ کے بعض اشعار کے معنی سمجھنا بہت مشکل ہو جاتا ہے‘‘ پہلے تو مرزا نے اس پر کان نہ دھرے اور کہا ’’گر نہیں ہیں میرے اشعار میں معنی، نہ سہی‘‘ لیکن پھر اپنے اشعار کو اتنا زیادہ شوخ و سادہ بنایا کہ ڈیڑھ صدی کے بعد بھی وہ آج کے اشعار معلوم ہوتے ہیں۔ علامہ اقبالؔ کی شاعری کو بھی تین ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ علم و تجربے میں اضافے اور حالات کو سمجھنے کا نتیجہ تھا۔ تحریک پاکستان کی جدوجہد میں مشرقی بنگال کے عوام اور ان کے لیڈروں کا حصہ کم نہ تھا۔ مولوی فضل الحق نے تو 1940 میں قرار داد پاکستان پیش کی تھی۔ حسین شہید سہروردی جو عوامی لیگ کے بانی تھے۔ انھی کی بنائی ہوئی جماعت کے سربراہ شیخ مجیب الرحمن بعد کے حالات دیکھ کر اس نتیجے پر پہنچنے پر مجبور ہو گئے کہ اب مغربی پاکستان کے ساتھ رہنا ممکن نہیں اور مشرقی پاکستان ہم سے علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ علم، عمر، تجربہ، حالات و واقعات کی تبدیلی اور سب سے بڑھ کر نا انصافی خواہ یہ کسی فرد کے ساتھ ہو یا کسی قوم یعنی اجتماعی گروہ کے ساتھ کی جائے تو یہ ناانصافی انسان کے خیالات میں تبدیلی لانے کا سبب بن جاتی ہے۔ اگر اس پر یہ کہا جائے کہ پہلے تو آپ کے خیالات یہ تھے اب آپ اس کے برعکس کیوں سوچ رہے ہیں؟ تو ایسا کہنا ایک بچگانہ بات ہو گی۔ واضح رہے میری اس ساری تمہید کا ان لوٹے سیاستدانوں کے تبدیلی خیالات سے کوئی تعلق نہیں جو اقتدار کا دسترخوان بچھا دیکھ کر بچھانے والی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ’’ہزاروں‘‘ ساتھیوں سمیت برسر اقتدار جماعت میں شمولیت کا اعلان کر کے اقتدار کے دستر خوان پر بیٹھ جاتے ہیں اور اپنی بچی کچھی چند ہڈیاں اپنے پیچھے کھڑے ان چند حامیوں کی جانب بھی پھینکتے جاتے ہیں، جن کی تعداد ’’ہزاروں‘‘ میں بتائی جاتی ہے۔ ایسے سیاستدانوں کا قبلہ صرف اقتدار ہوتا ہے۔ یہ اقتدار جہاں اور جس کے پاس بھی ہو یہ ادھر ہی گھوم جاتے ہیں، ان کے خیالات میں تبدیلی بلکہ بار بار تبدیلی کی وجہ صرف اقتدار ہی بنتا ہے۔

میرے کالم کا موضوع یہ لوٹے سیاستدان نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جو حقیقی تبدیلی کے باعث یا نا انصافی کی وجہ سے اپنے پچھلے خیالات پر نظر ثانی کر کے نئے نظریات قائم کرتے ہیں اور پھر ان پر ثابت قدم بھی رہتے ہیں۔ انھی لوگوں میں ایک نمایاں شخصیت ریٹائرڈ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چوہدری کی بھی ہے۔ بعض جغادری سیاستدان، وکلا، صحافی اور اینکر پرسنز ان کا یہ گناہ معاف کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ انھوں نے پرویز مشرف کے ابتدائی دور میں پی سی او کے تحت حلف کیوں اٹھایا تھا؟ وہ دبی زبان میں اصرار کرتے ہیں کہ ان لوگوں پر بھی مقدمات قائم ہونے چاہئیں۔ میرا ان حضرات سے صرف ایک ہی سوال ہے کہ آج جب وہ کسی ڈکٹیٹر اور پی سی او جج پر مقدمہ چلانے کی بات کرتے ہیں تو وہ کس بنیاد پر ایسا مطالبہ کرتے ہیں؟ اسی بنیاد پر نا کہ آج عدلیہ مضبوط اور آزاد ہے۔ اور یہ عدلیہ کس نے آزاد کی؟ کس کے بل بوتے پر اور کس کے حوصلے کی بنا پر عدلیہ کی یہ شکل وجود میں آئی کہ ہر شخص ببانگ دھل کھڑا ہو کر یہ کہہ سکے کہ فلاں پر مقدمہ چلاؤ اور فلاں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا ہونا چاہیے۔ یہ آزاد عدلیہ کا نیا جنم کیا افتخار چوہدری کا مرہون منت نہیں ہے؟ یہ درست ہے کہ افتخار چوہدری نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا، لیکن اس حلف کا انھوں نے جو کفارہ ادا کیا، کیا کسی اور پی سی او اور جج کو اس کی توفیق ہوئی یا کسی اور جج کو اس قسم کا کفارہ ادا کرنے کی سعادت حاصل ہوئی؟ آج اگر حکومت کسی فرد، سرکاری ملازم یا ادارے کے خلاف غیر قانونی یا غیر آئینی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے زیادتی یا نا انصافی کرتی ہے تو اسی افتخار چوہدری کی جدوجہد کے نتیجے میں بحال ہونے والی طاقتور عدلیہ ہی ریاستی جبر کا شکار ہونے والے فریق کا آخری سہارا نظر آتی ہے۔ اور اسے انصاف فراہم کرتی ہے۔

کرکٹ بورڈ کے چیئر مین ذکا اشرف، نادرا کے سربراہ اور پیمرا چیئرمین کی بحالی اس کی حالیہ اور بہترین مثالیں ہیں۔ پوٹھوہار کے علاقوں میں تین ماہ کے لیے سی این جی کی بندش کے حکومتی فیصلے کو آخر اسی عدلیہ نے ہی تو کالعدم قرار دیا۔ جسے افتخار چوہدری اپنے گناہ کا کفارہ کرتے ہوئے چھوڑ گئے تھے۔ موجودہ آزاد اور مضبوط عدلیہ افتخار چوہدری کے اس چھوٹے سے گناہ کا اتنا بڑا ادا کیا ہوا کفارہ ہے، جس کے بارے میں دوسرا کوئی سوچ ہی سکتا ہے، عملاً کچھ کر نہیں سکتا۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر افتخار چوہدری ابتدائی دنوں میں پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھاتے تو چیف جسٹس کے منصب تک کیوں کر پہنچ پاتے؟ معزول ہوتے اور ساتھی وکلأ کے ساتھ مل کر نا انصافی کے خلاف جدوجہد کا نشان بن کر یہ عظمت کیوں کر حاصل کر پاتے؟ ہر عمل کے نتیجے میں قدرت کا بھی لازمی عمل دخل ہوتا ہے۔ اور خدا نے ہر کام کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے اور جو بڑا کام قدرت نے جس کے ذریعے بھی لینا ہو اسے بھی پہلے ہی سے چن لیتی ہے۔ اکیلے افتخار چوہدری ہی نہیں اب تک درجنوں ججوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا اور درجنوں نے انکار کیا منصب چھوڑا اور گھر جا کر بیٹھ گئے۔

ان میں جسٹس سعید الزماں صدیقی اور جسٹس خلیل الرحمٰن جیسے نیک نام ججز بھی شامل تھے۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی افتخار چوہدری بن سکا اور نہ ہی عدلیہ کو انتظامیہ کے پنجوں سے آزاد کروا سکا۔ آزادی ایسے شے ہے جسے کوئی بھی گنوانا پسند نہیں کرتا۔ طاقت ایسی شے ہے ، جس میں کوئی بھی کمی لانا نہیں چاہتا۔ افتخار چوہدری جو کفارہ ادا کر گئے ہیں اس کفارے کے نتیجے میں جو آزاد اور طاقتور عدلیہ وجود میں آ چکی ہے، بے فکر رہیں کوئی بھی جج اپنے ادارے کو نہ تو کمزور کرے گا اور نہ ہی اس کی آزادی کا سودا کرے گا یہ اور مضبوط اور مزید آزاد ہو سکتی ہے۔ لیکن کمزور یا انتظامیہ کے ہاتھوں اپنی آزادی کا سودا ہرگز نہیں کر سکتی۔ سپریم کورٹ کے اس سابق چیف جسٹس نے پی سی او کے تحت حلف ضرور اٹھایا تھا، لیکن کفارہ صرف اسی نے ادا کیا اور کتنے شاندار اور باوقار انداز میں ادا کیا۔ ناقدین گناہ سے پہلے کفارے پر بھی ایک نظر ڈال لیں تو شاید خود ہی شرما جائیں۔

ایس نئیر   

No comments:

Powered by Blogger.