Header Ads

Breaking News
recent

....حیاتیاتی ہتھیار.....Biological Weapons


حکومت، سیاست اور سیادت کی تاریخ میں جنگیں ایک ناگزیر لازمے کا درجہ رکھتی ہیں۔ حکومتیں عوام و خواص پر، اپنے حلیف اور حریف ممالک پر دھاک بٹھانے کے لیے زیادہ سے زیادہ عسکری قوت جمع کرتی ہیں۔ جدید سائنس اور سائنس دانوں نے حکومتوں کے لیے ایسے ایسے ہلاکت خیز ہتھیار تیار کیے ہیں جو ایک سے زائد مرتبہ اس کرہِ ارضی کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایسی اشیاء کو ہلاکت خیز بنا دیا گیا ہے کہ جن کا تصور بھی عام فرد کے لیے محال ہو مثلاً حیاتیاتی عناصر وغیرہ۔

ان کاوشوں میں سائنس دانوں نے حشرات الارض کو بھی تختہِ مشق بنایا اور انھیں ایسی خطرناک انواع میں تبدیل کر دیا، جو کبھی بھی کہیں بھی ہلاکت تقسیم کر سکے۔ ارضِ پاک میں جب گزشتہ چند برسوں سے ڈینگی کا مرض بڑھا تو ساتھ ہی ساتھ یہ افواہیں بھی گردش کرنے لگیں کہ یہ بیرونی قوتوں کی سازش ہے۔ حقیقتِ حال اللہ بہتر جانتے ہیں یا حکومتوں کے علم میں ہو گی۔ لیکن افواہیں ضرور ہیں اور بقول یوسفی صاحب ہمارے ہاں کی اکثر افواہیں درست بھی ثابت ہو جایا کرتی ہیں۔ شُنید ہے کہ امریکا کے ’’ڈی کلاسیفائیڈ ڈاکومنٹس‘‘ بتاتے ہیں کہ 1956ء سے1958ء تک امریکی فوج نے سوانا، جارجیا اور اے وون پارک فلوریڈا میں ایسے مچھر اور حشرات چھوڑے تھے جنھیں ’’حیاتیاتی ہتھیار‘‘ کے طور پر تجربہ کیا گیا تھا۔ اسی دوران علاقے کے مکین حیرت انگیز طور پر مختلف النوع امراض کے نرغے میں رہے۔ مثال کے طور پر شدید بخار، برونکائٹس، ٹائیفائیڈ، سیفلائٹس وغیرہ۔ نیز اسی دوران کئی اموات بھی ہوئیں۔

’’کیوبا‘‘ کئی دہائیوں سے امریکی ستم ظریفی کا شکار بتایا جاتا ہے۔1981ء میں کیوبا میں ڈینگی بخار وبا کی طرح پھیلا۔ اس نے کم از کم 158 شہریوں کی جان لی۔ ان میں سے51 بچے تھے۔ کیوبا کے صدر فیڈل کاسترو نے اس وبا کا ذمے دار امریکا کو ٹھہرایا اور اسے کیو با کے خلاف امریکی حیاتیاتی جنگ قرار دیا۔ امریکا نے اگرچہ 1972ء کے حیاتیاتی کنونشن پر دستخط تو کیے ہیں لیکن امریکا سمیت کئی ممالک پر گاہے بہ گاہے حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری کا الزام عائد ہوتا رہا ہے۔ امریکا اور مغربی مما لک دیگر کئی ممالک سے تو مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس طرح کے الزامات کے لیے اپنی تنصیبات کا غیر ملکی ماہرین اور مندوبین سے معائنہ کروائیں لیکن وہ خود اپنے لیے یہ اصول پسند نہیں کرتے۔ کیوں؟

اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو 1800ء سے قبل کی ایسی کوئی مثال نظر نہیں آتی جب حشرات کو بہ طور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کی گئی ہو البتہ دیگر حیاتیاتی مظاہر کو جنگی حکمتِ عملی کے طور پر استعمال کرنے کی مثالیں موجود ہیں۔ 600 قبل مسیح (ق م) کی بات ہے جب ایتھنز کے ’’سالون‘‘ نے اپنے مخالفین کو زک پہنچانے کے لیے دریا کے پانی کو حدیقی پودے کی جڑ سے زہریلا کر دیا تھا۔ ’’کیرا‘‘ کے لوگوں نے جب وہ پانی پیا تو وہ شدید اسہال میں مبتلا ہو گئے۔ یوں سالون نے وہ جنگ آسانی سے جیت لی۔200 قبلِ مسیح میں دوسری ’’پیونک جنگ‘‘ کے دوران تاریخ کے عظیم کمانڈر ’’ہنی بال‘‘ کے سواروں کے رسالہ دار ’’جنرل مھابل‘‘ نے عجیب حکمتِ عملی اپنائی۔ اُس نے جنگ کے دوران محاذ سے اس طرح پسپائی اختیار کی جیسے اُسے شکست ہوئی ہو۔ پیچھے ہٹتے ہوئے اس نے جلدی میں شراب کا ایک ذخیرہ بھی چھوڑ دیا۔

دشمنوں نے مال غنیمت سمجھ کر فتح کے جشن میں خوب ہی مفت کی شراب لُنڈھائی لیکن جنرل نے اس شراب کو ’’مینڈاگورا ‘‘ کی جڑ کے شیرے سے لبریز کر دیا تھا۔ اسے پیتے ہی دشمن گہری غنودگی میں چلے گئے۔ جنرل مھابل واپس پلٹا اور سوئے ہوئے مدہوش دشمنوں کی گردنیں اتارنا اُس کے لیے کچھ بھی دشوار ثابت نہ ہوا اور یہ 1343ء کی بات ہے جب منگول تاتار جانی بیگ نے بحر اسود کے کنارے کریمیا، یوکرین کے سواحلی شہر کُفّہ (موجودہ فیوڈوسیا) کا محاصرہ کیا۔ یہ محاصرہ تین برس تک جاری رہا۔ تین برس کے محاصرے کے بعد جانی بیگ نے گوپھن کے ذریعے طاعون ذدہ اجسام اور مُردوں کو شہر پناہ کی دیواروں پر پھنکوا دیا۔ شہر میں طاعون پھوٹ پڑا۔ لوگ شہر چھوڑ کر بھاگنے لگے۔ منگولوں نے باآسانی فتح پائی لیکن یہ واقعی یورپ میں طاعون پھیلنے کا سبب بنا 1348ء سے1350ء یورپ کا وہ تاریک دور ہے جب یہاں ہر طرف طاعون کا دور دورہ تھا۔ حیاتیاتی ہتھیاروں کے استعمال کی یہ پہلی باقاعدہ مثال ہے پھر تو یہ سلسہ چل ہی پڑا تھا۔1763ء میں استعماری قوتوں نے بھارت میں چیچک اسی طرح پھیلائی تھی۔

حیاتیاتی ہتھیاروں کے استعمال کی تاریخ مہذب دنیا کے سیاہ کارناموں سے اَٹی پڑی ہے۔ حشرات کو بہ طور ہتھیار استعمال کرنے کی پہلی باقاعدہ مثال امریکی سول وار کے دوران کی ہے جب ’’ہارلیکوئن‘‘ کو استعمال کیا گیا۔ اس کیڑے نے فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔ بہ ہر حال یہ الزام بھی کبھی ثابت نہیں کیا جا سکا۔ جاپان نے چین سے جنگ کے دوران 1937ء سے1945ء تک متعدد مرتبہ کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیار استعمال کیے۔ روس بھی اس طرح کے تجربات میں کسی سے پیچھے نہ رہا۔ اس مقصد کے لیے روس نے بھی دیگر مہذب اور ترقی یافتہ ممالک کی طرح تمام تر تجربات انسانوں ہی پر کیے۔ عام شہریوں، جنگی قیدیوں اور سیاسی قیدیوں کو چلتی پھرتی تجربہ گا ہ بنا دیا گیا۔1941ء میں ایک ایسا ہی عفونت زدہ قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ اس کی وجہ سے منگولوں کے علاقے میں وبا پھوٹ پڑی۔ روس نے فوراً ہی وبا پر قابو پا لیا۔ دراصل روسیوں نے تمام عفونت زدہ منگولوں کو بم باری کر کے ختم کر دیا۔ یوں وبا بھی ختم ہوئی۔

امریکیوں نے تو خیر ابتداء ہی سے حیاتیاتی ہتھیاروں کی اہمیت کو محسوس کر لیا تھا۔ وہ 1920ء ہی سے اس ’’کارِعفونیت‘‘ میں مصروف ہیں۔ جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد اگست 1945ء میں امریکا نے ’’مین ہٹن‘‘ پراجیکٹ کے لیے4000 شہریوں، فوجیوں اور سائنسدانوں کا انتخاب کیا۔ جنگ کے دوران صرف حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری پر امریکا نے ساڑھے 4سے 5کروڑ ڈالر خرچ کیے تھے۔ سرد جنگ کے دوران ہر دو جانب سے کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات سامنے آئے۔ چین نے امریکا پر الزام لگایا تھا کہ اس نے شمالی کوریا پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔ 1952ء میں چین نے ایسے کئی شواہد جمع کیے تھے۔ ویت نام کی جنگ کے دوران بھی ایسے کئی الزامات سامنے آئے۔ امریکی جنرل اسٹب نے 1962ء میں کانگریس کو بتایا کہ ایسے حشرات تیار کیے گئے ہیں جو موسم اور دیگر حشرات کے مقابلے میں زیادہ سخت جان ہیں۔ لیکن اس بارے میں حکومتیں ابتدا ہی سے شدید اخفا کا شکار ہیں۔1975ء کے بعد سے تو جب معاہدے پر دستخط ہو گئے اور حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری غیر قانونی قرار پا گئی تو یہ تمام تر معاملہ انتہائی اخفا میں چلا گیا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ ترقی یافتہ ممالک ترقی کی کس منزل پر ہیں،انعام یافتہ مصنف اور یونی ورسٹی آف یومنگ کے پروفیسر ’’جیفری اے لاک ووڈ کی کتابیں اس موضوع پر وقیع سمجھی جاتی ہیں۔

آج کے دور کی ایک بد نما حقیقت یہ بھی ہے کہ دنیا بھر کی طاقت ور حکومتیں ملٹی نیشنلز کے اثر سے خالی نہیں۔ کچھ پسِ پردہ ہاتھ اور عوامل ہوتے ہیں جو اشرافیہ کو نوازتے ہیں اور انھیں اشرافیہ بناتے ہیں۔ وہ حکومت میں آنے کے بعد ان بڑی کمپنیوں کے خلاف کوئی قانون سازی کس طرح کر سکتے ہیں؟ جب بھی کہیں کوئی وبا پھوٹتی ہے تو اس کا صاف اور سیدھا مطلب ہے، بڑا دھندا، بڑی کمائی۔ فارما کمپنیوں کی دواؤں، انجیکشنوں، ویکسینوں کی دھڑا دھڑ فروخت۔ اسپتالوں ڈاکٹروں کی کمائیاں۔ کیا اس سے انکار ممکن ہے؟ کیا یہ تمام تر سرمایہ کاری جدید سائنس کے بغیر اور مہذب ممالک کی حکومتوں کے بغیر ممکن ہے؟

برطانوی لیبارٹری ’’اوکزی ٹیک‘‘ نے ڈینگی بخار سے نپٹنے کے لیے جینیاتی متغیر مچھر تیار کیے۔2009ء میں یہ جزائر غرب الہند کے جزیرے ’’گرینڈ کے مین‘‘ میں چھوڑے گئے۔2010ء میں ایسے 30 لاکھ مچھر خفیہ طریقے سے چھوڑے گئے۔ سوال یہ ہے ملٹی نیشنلز، کو حکومتوں کو اور سائنس دانوں کو کیا یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایسے خطرناک اور جینیاتی طور پر متغیر حشرات دنیا بھر میں چھوڑتے پھریں جو انسانی لُہو پر پلتے ہوں۔ کیا انسانیت کے یہ دشمن تعلیم یافتہ اور تہذیب یافتہ کہلائے جا سکتے ہیں؟

Biological Weapons

No comments:

Powered by Blogger.