Header Ads

Breaking News
recent

’’چلو بھر پانی میں ڈوب مرنے کا موقع‘‘



برطانوی اخبار گارڈین میں امریکی فضائیہ کی اہلکار ہیدر لی لائن بو کا مضمون پڑھ کر ان سیاست دانوں اور ان کے ابلاغی مشیروں کو شرم سے ڈوب مرنا چاہئے جو گزشتہ کئی سال سے ڈرون طیاروں کی سو فیصد درست اور بے خطا نشانہ بازی کے حق میں رطب اللسان ہیں۔

ڈرون آپریٹر نے لکھا کہ ’’میں جب بھی سیاست دانوں کو پریڈیٹر جیسے ڈرون پروگرام کا دفاع کرتے سنتی ہوں تو میرا دل چاہتا ہے کہ میں ان سے چند سوالات پوچھوں، پہلا سوال یہ کہ آپ نے ایک ہیلی فائر میزائل سے کبھی عورتوں اور بچوں کو زندہ جلتے دیکھا ہے؟پھر پوچھوں گی آپ نے کتنے مردوں کو ٹانگیں کٹنے کے بعد لہولہان، کھیت میں گھسٹے دیکھا ہے ؟ان سیاست دانوں میں سے کسی کو اندازہ بھی ہے کہ یہ ڈرون آخر ہے کیا ؟‘‘ ہیدر مزید لکھتی ہے ’’بہترین روشنی والے دن بھی ڈرون سے ملنے والی ویڈیو اتنی صاف نہیں ہوتی کہ آپ یہ معلوم کر سکیں کہ نظر آنے والے شخص نے ہتھیار اٹھا رکھا ہے یا بیلچہ‘‘

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کا شکار ہونے والے بے گناہ سویلین مردوں، عورتوں اور بچوں کی مستند تعداد وہی ہے جو پشاور ہائیکورٹ کے سامنے پولیٹکل حکام نے بیان کی چودہ سو سے اوپر، زخمی، اپاہج اور نفسیاتی مریض بننے والے اس سے کہیں زیادہ ہیں جبکہ عسکریت پسند حکیم اللہ محسود اور قاری ولی الرحمان کوملا کر ٹوٹل تیس (30) ان ساڑھے چودہ سو میں سے کوئی القاعدہ کا رکن تھا نہ طالبان کا ساتھی، البتہ اس کی شکل وصورت دیگر قبائلیوں کی طرح طالبان سے ملتی جلتی تھی وہی لباس، باریش چہرہ، ہاتھ میں تسبیح اور سر پر پگڑی، ہاں کسی مدرسے یا مسجد میں بوقت نماز موجودگی بھی، روز قیامت جب بارک اوبامہ اور بش کے ساتھ ہمارے فوجی اور سول حکمران و حکام ان مقتولوں بالخصوص بچوں کے سوالات کا جواب دینے کیلئے خدا کے حضور پیش ہوں گے تو ہمنوا دانشوروں کی گواہی قبول ہو گی یا نہیں کوئی نہیں جانتا۔

لاہور، اسلام آباد اور کراچی کے آرام دہ دفاتر اور سہولتوں سے آراستہ ڈرائنگ روموں ،چائے خانوں میں ان بے گناہ قبائلیوں کو عسکریت پسندوں کا ساتھی، پناہ دینے کا مرتکب قرار دینے اور گہیوں کے ساتھ گھن پسنے کے محاورے سنانے والے بزعم خویش انسانی حقوق کے علمبرداروں کو یہ معلوم کرنے کی فرصت کہاں کہ غریب اور بے آسرا قبائلی کس حال میں ہیں اور ڈرون نے علاقے پر کیا اثرات مرتب کئے ہیں، خوف کا یہ عالم کہ لوگ گھروں سے نکلتے ڈرتے، کھلے آسمان کو دیکھنے کے لئے ترستے اور معذور، نفسیاتی مریض عزیز رشتہ دار کو ہسپتال لے جاتے گھبراتے ہیں مبادہ اس جہنمی کھلونے کا نشانہ بن جائیں جسے ہمارے سیاست دان اور دانشور دہشت گردوں کے خلاف موثر ہتھیار سمجھ کر صبح و شام مدح وثنا میں مصروف رہتے ہیں قبائلی علاقوں میں خواب آور گولیاں سب سے زیادہ بکنے والا آئٹم ہیں۔

ہیدر سے قبل ایک ڈرون آپریٹر برنیڈن برنیٹ نے اس بے رحمی، شقاوت قلبی اور انسان دشمنی سے اکتا کر ایئرفورس چھوڑی اور اس وحشیانہ کھیل کا پردہ چاک کیا برنیڈن نے ایک معصوم تین چار سالہ بچے کو نشانہ بنانے کے بعد جب ساتھی سے پوچھا کہ کہیں ہم معصوم انسانی جان تو ختم نہیں کربیٹھے تو ساتھی کا جواب تھا نہیں ! یہ کتے کا پلا تھا ’’دو ٹانگوں والا جانور ‘‘ نیویارک ٹائم نے ڈرون پروگرام سے وابستہ اہلکاروں سے انٹرویوز کے بعد رپورٹ میں لکھا تھا کہ ’’ان اہلکاروں کو انسانی جذبات و احساسات سے مکمل لا تعلقی پر مجبور کیا جاتا ہے اور یہ سوچنے کا عادی کہ دشمن رحم کے قابل نہیں ہوتا خواہ وہ غیر مسلح شہری، عورت اور بچہ ہی کیوں نہ ہو اور اسے کسی حملے کے وقت صرف یہ سوچنا چاہئے ۔I have a duty and I execute the duty

ایلزبتھ بلیر کی رپورٹ (نیو یارک ٹائمز 29جولائی 2012ء) کے مطابق ڈرون پروگرام سے وابستہ افراد ذہنی دبائو، اعصاب شکنی، بے خوابی اور افسردگی کا شکار ہوتے ہیں جبکہ ہیدر کے مطابق بہت زیادہ خواب آور اور دیگر ادویات استعمال کرنے والے اہلکار دوران ملازمت یا علیحدگی کے ایک سال بعد بالعموم خودکشی کر لیتے ہیں کیونکہ بے گناہوں پر نشانہ بازی کے اثرات سے وہ چھٹکارا نہیں پاسکتے۔ دماغی و نفسیاتی امراض کے ہسپتالوں میں داخل ہونے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔

امریکی ڈرون اہلکاروں کے برعکس ہمارے سیاست دان اور دانشور بے شرمی اور ڈھٹائی سے ڈرون حملوں کے فوائد وبرکات بیان کرتے اور ان کی درست نشانہ بازی کے حق میں ایسے ایسے دلائل و شواہد پیش کرتے ہیں کہ برنیڈن، ہیدر، کرنل برنٹین جیسے تجربہ کار، ڈرون ٹیکنالوجی سے مکمل طور پر آگاہ اور اس کے منفی اثرات کے واقف امریکی سنیں تو حیران رہ جائیں حیران کیا ان کی جہالت اور ہٹ دھرمی پر سرپیٹ لیں کہ دنیا میں ایسے احمق بھی بستے ہیں۔

سیاست دانوں کا معاملہ تو قابل فہم ہے انہوں نے اپنے اقتدار کے تحفظ، قرضوں اور امداد کے حصول اور مستقبل میں اقتدار تک رسائی کے نقطہ نظر سے امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانی ہوتی ہے انہیں پڑھنے، سوچنے، سمجھنے کی فرصت نہیں اور ڈرون کا شکار ہونے والوں سے کسی قسم کی ہمدردی بھی نہیں جنہیں بندوبستی علاقوں میں بھوک، بیماریوں اور ٹارگٹ کلنگ سے مرنے والے معصوم عوام کی فکر نہیں انہیں دور دراز بسنے والے قبائلی عوام کی فکر کیوں ہو مگر جن کا اوڑھنا، بچھونا ہی امریکہ و برطانہ کا میڈیا اور اس میں شائع ہونے والی رپورٹیں ہیں وہ آخر یہ رپورٹیں پڑھتے اور پاکستان کے اقتدار اعلیٰ ،قبائلی عوام کے انسانی حقوق کی پامالی اور بے گناہ بچوں اور عورتوں کی جانوں کے اتلاف پر ضمیر کی خلش کا شکار کیوں نہیں ہوتے؟

کیا طالبان سے نفرت، امریکہ کی محبت اور ہر حال میں ڈرون حملوں کی حمایت نے انہیں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے عاری کر دیا ہے اس بنا پر یہ نیٹو سپلائی روکنے پر تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کو ہدف تنقید بناتے، عمران خاں کا مذاق اڑاتے اور یہ بے پرکی ہانکتے ہیں کہ بھلا امریکہ کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے اس کے پاس متبادل راستے بہت ، حالانکہ امریکہ تلملا رہا ہے اس کی کانگریس شور مچا رہی ہے کہ سپلائی کا خرچہ کئی گناہ بڑھ گیا ہے اور پاکستان کو امداد بند کرنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔

ہیدر لائن بو کا مضمون چشم کشا ہے اور ڈرون حملوں کے مخالفین کی اخلاقی برتری کا ثبوت، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس بنا پر قرارداد منظور کی اور دنیا میں آواز بلند ہو رہی ہے مگر جن کو معصوم بچوں اور بے گنا عورتوں کے جسم کے چیتھڑے اڑتے اور خون کے فوارے چھوٹتے دیکھ کر کبھی رحم نہیں آیا وہ ایک مضون سے متاثر ہونے والے کہاں ؟وہ تو بنگلہ دیش میں پاکستان کے وفاداروں کو تختہ دار پر لٹکانے کی کارروائی کو حق بجانب قرار دیتے ہیں۔

ضمیر زندہ، انسانی حس بیدار،جذبہ ہمدردی برقرار اور غیرت وحمیت کی رمق باقی ہو تو انسان خلش، اضطراب، افسردگی اور بے خوابی کا شکار ہوتا ہے خواہ وہ امریکی ہو، برطانوی یا کوئی عراقی و افغان مگر جہاں’’غیرت ‘‘ کے لفظ کا تمسخر اڑایا جاتا ہو اور انسانی جذبات و ایمانوں رشتوں کی تذلیل و تحقیر کا رواج وہاں ہیدر، برنیٹ جیسے ضمیر کی خلش کا شکار ہو کر پرکشش ملازمتیں چھوڑنے والے جذباتی لوگوںکی بات کون سنے اور کیوں؟

ارشاد احمد عارف

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

No comments:

Powered by Blogger.