Header Ads

Breaking News
recent

فیصلہ کن مرحلہ


ہم بھی کتنے سادہ بلکہ احمق ہیں کہ جوچیزیں اظہر من الشمس ہیں ، ہم ان کے بارے میں بھی مغالطے کا شکار ہیں۔ لوگ کہتے ہیں ان بزنس مینوں کو سیاست دان کہنا ایسے ہی ہے جیسے مٹی کو سونا یا پتھر کو گہر یا پھر ڈگمگاتے ہوئے کمزور قدموں کو مارشل آرٹس چیمپئن کے پینترے اور دائو قرار دے دیا جائے۔

اب فوج اور اخبار کے قارئین اور حالات پر نظر رکھنے والے افراد کے دل میں مذہبی انتہاپسندی کے اُس خطرے کا احساس جاگزیں ہوچکا جو پہلے افغان جہاد کا شاخسانہ ہے تاہم خاطر جمع رکھیں، اگر ہمارے حکمرانوں کا دماغ ان معاملات کا جائزہ لینے کے بنا ہی نہیں تو پھر گلہ کس سے۔ میں یہاں اُن چیزوں کی فہرست نہیں بنارہا ہوں جن پر وزیرِ اعظم کی فوری بلکہ ہنگامی، توجہ مرکوز ہے کیونکہ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا؟ ظاہر ہے کہ جب فسادی طاقتیں آتش و آہن کی بارش سے فوج کے جوانوں اور نہتے شہریوں کے خون سے ہولی کھیل رہی ہیں اور خون آشام درندے معاشرے کی رگ ِ جاں کاٹ دینے کے درپے ہیں تو راولپنڈی سے اسلام آباد اور پھر اس سے آگے مظفر آباد تک ریلوے لائن بچھانا، کراچی سے لاہور اور گوادر سے خدا جانے کہاں تک موٹروے مع جنگلہ بنانا، استنبول تک ریلوے ٹریک بچھانا، راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان میٹرو بس سروس شروع کرنا اور راوی کے دونوں طرف لاہور میں ان گنت ترقیاتی منصوبے ہی ان حکمرانوں کی اولین ترجیح ہو سکتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے مارگلہ پہاڑیوں میں سے سرنگ گزارنے کا ذہنی منصوبہ پائپ لائن میں تھا۔

ان منصوبوں کے بارے میں سن کر گمان یہ گزرتا ہے کہ شاید یہ مہاتیر محمد کا ملائیشیا یا کیمونسٹ پارٹی کا چین ہے جہاں اگلے پچاس سال کے دوران طے پانے والے منصوبوں کی پیش بندی کی جارہی ہے۔ زیادہ لفاظی کی ضرورت نہیں، ہمیں جن اہم ترین مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ طالبان، امن و امان کی صورتِ حال، صحت کی سہولتیں اور تعلیم کا گرتا ہوا معیار۔ اگر ہم پہلے ان مسائل سے نمٹ سکیں تو پھر مطمئن ضمیر اور کشادہ دلی کے ساتھ اپنے تخیلات کی سنہری سرزمین پرنیا رومانوی سمرقند بسا سکتے ہیں۔ اس وقت جو مسئلہ پاکستان کے لئے دردِ سر بنا ہوا ہے وہ طالبان ہیں۔ اگر شریف برادران کے ذہن پر برق رفتار ٹرینوں اور اوور ہیڈ پلوں کے خاکےگردش نہ کررہے ہوں ... یہ منصوبے بھی اہم ہیں اور یقیناً وقت آنے پر ان کو پایہ ٔ تکمیل تک پہنچایا جائے (لیکن جب پائوں میں کانٹا چبھا ہو تو ہم اسے نکالے بغیر نئے جوتے خریدنے نہیں چلے جاتے)... تو وزیراعظم کا دفتر اور جی ایچ کیو دیگر تمام معاملات کو پس ِ پشت ڈالتے ہوئے طالبان کی طرف سے آنے والی تازہ ترین پیشکش پر توجہ دیں اور دیکھیں کہ ہمارا واسطہ کتنے زیرک اور یکسو دشمن سے ہے۔ طالبان کے ترجمان شاہد اﷲ شاہد نے کہا کہ ان کی طرف سے کی جانے والی امن کی پیشکش حقیقی ہے اور اب حکومت نے سنجیدگی دکھاتے ہوئے مذاکرات کے لئے ماحول پیدا کرنا ہے۔ اس سے پہلے ہمارے وزیر ِداخلہ، جن کی باتوں کو اب کوئی بھی سنجیدگی سے نہیں لیتا، مناسب ماحول پیدا کرنے کے لئے بہت سی کوششیں کر چکے ہیں۔ ہم نے امن کی منتیں کرنے کے لئے بہت سے نامعلوم قاصدوں کو نامے دے کر بھیجنے کے دعوے کئے ہیں... دعووں میں تو کسر نہیں چھوڑی ہمارے وزیر ِداخلہ نے لیکن جہاں عملی اقدامات کا خانہ خالی ہے۔

معاملہ یہ ہے کہ ہم ہوا میں تیر کیوں چلا رہے ہیں جبکہ ہمارا دشمن ہمارے سامنے آتشیں ہتھیاروں سے لیس ہو کر ہم پر حملہ آور ہو رہا ہے ؟ اس دوٹوک صورتِ حال میں کسی نام نہاد ’’اسٹیک ہولڈر‘‘ سے بات کرنے یا پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کی نہیں بلکہ جان لینے پر آمادہ دشمن کی کمر توڑنے کے لئے اس پر کاری ضرب لگانے کی ضرورت ہے۔ اے پی سے، پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا، ان کیمرہ بریفنگ وغیرہ وقت ٹالتے ہوئے کچھ نہ کرنے کے بہانے ہوتے ہیں۔ یہ بات بہت سوں کو معلوم ہے کہ موجودہ وزیرِاعظم کو توجہ مرتکز کرنے کا مسئلہ درپیش رہتا ہے اور وہ معاملات، جن سے ان کا مفاد وابستہ نہیں ہوتا، وہ ان کی توجہ کے دائرے سے باہر رہتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ جب وہ پارٹی میٹنگز میں ہوتے ہیں تو وہ گھنٹوں نوٹس لیتے رہتے ہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ جہاں ان کو اپنا مفاد ہوتا ہے وہ توجہ دے سکتے ہیں۔ اس وقت طالبان کا معاملہ ان کی توجہ کا متقاضی ہے۔ اب معاملہ نہایت آسان ہے۔ فوج کو فائر بند کرنے کا حکم دیا جائے، حکومت روایتی مولانا حضرات کو بیچ میں شامل کئے بغیر بااختیار ٹیم تیار کرے اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں۔ جنگ بندی کرنے کے عمل کو اعتماد سازی، جیسا کہ طالبان کا تقاضا ہے، کے لئے کافی سمجھا جائے تاہم اگر طالبان اس کے علاوہ کچھ اور تقاضا کریں اور حکومت اور فوج کے ساتھ کھیل کھیلنے کی کوشش کریں تو حکومت ان کوخوش کرنے کی مزید کوشش نہ کرے۔ فی الحال مذاکرات کی تمام باتیں بے معنی باتیں ہی ہیں۔ اب طالبان نے خود پیشکش کرتے ہوئے حکومت کو موقع فراہم کیا ہے چنانچہ اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے تاکہ کسی قطعی نکتے پر پہنچا جا سکے۔ اس سے طالبان کی آزمائش بھی ہو جائے گی کہ کیا وہ مذاکرات کے لئے سنجیدہ ہیں یا نہیں تاہم ان باتوں کے کھیل میں وقت ضائع نہیں ہونا چاہئے۔ اس پیشکش کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے تین شرائط پوری کرنا ضروری ہے۔


پہلی یہ ہے کہ وزیر داخلہ کو اس معاملے سے جتنا دور رکھا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جس معاملے میں بھی ہاتھ ڈالتے ہیں اُس کی ناکامی میں کسی شبے کی گنجائش نہیں رہتی۔ دوسری شرط یہ ہے کہ وزیر اطلاعات سے کہا جائے کہ وہ اپنے بیان بازی کے شوق کو قدرے لگام دے کر رکھیں۔ تیسری شرط یہ ہے کہ وزیراعظم کے دفتر کے تمام لاہوری ایڈیشنل سیکرٹریوں کو اس معاملے میں مداخلت کرنے سے روکا جائے۔ ان ایڈیشنل سیکرٹریوں میں سے ایک کا خطاب مجھے بھی سننے کا موقع ملا جب میں اسٹاف کالج میں لیکچر دینے گیا۔ اس نے شاید آئزن ہاور یا ریگن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر نے انسداد ِ دہشت گردی کی پالیسی تو بنائی لیکن اُنہیں یہ علم نہ تھا کہ ان کا دشمن کون ہے پھر اس نے کہا کہ ہم بھی اسی الجھن میں گرفتار ہیں کہ ہمارا دشمن کون ہے۔


ایسے دانائوں کو جتنا دور رکھا جائے اتناہی بہتر ہے۔ اسی طرح مولانا فضل الرحمٰن، مولانا سمیع الحق اور عمران خان کو بھی اس معاملے میں زحمت نہ ہی دی جائے تو بہتر ہے۔ صرف نوازشریف، آرمی چیف، شہباز شریف(جن کے بارے میں امید کرنی چاہئے کہ وہ ڈرون حملوں کو دہشت گردی کی وجہ قرار دینے سے باز رہیں گے اور اگر وہ اسی دوران بلٹ ٹرین چلانے سے بھی کچھ دیر کے احتراز کر سکیں تو بہتر ہوگا)ہوں اور وہ نہایت آسان زبان میں طالبان سے کہیں ہم نہایت خلوص ِ نیت سے بات چیت کرنے آئے ہیں اور طالبان کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے تمام فوجی آپریشن روک دیا گیا ہے۔ اس کے بعد ان کا جواب سنیں۔ اگر ان کی طرف سے کسی مثبت ردعمل کا اظہار کیا جاتا ہے تو بہتر اور اگر اب بھی وہ سدھرنے کے لئے تیار نہیں تو پھر اُنہیں نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ایسا کرنے میں کم از کم حکومت اتمام ِ حجت کرچکی ہوگی۔ اس کے بعد طالبان کی طرف سے دکھائی جانے والی جارحیت سے ’’پرامن مذاکرت ‘‘ کی مالا جپنے والے گروہ کو بھی عقل آچکی ہوگی (اگر آنی ہوئی)۔ اُس وقت تک عوامی رائے بھی واضح ہوچکی ہوگی۔ چنانچہ طالبان نے پیشکش کرتے ہوئے حکومت کی مشکل آسان کردی ہے۔ اس معاملے کو اب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نمٹ جانا چاہئے۔

ایاز امیر


بشکریہ روزنامہ "جنگ"

Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.