Header Ads

Breaking News
recent

مشکل فیصلوں کی گھڑی........طلعت حسین

  ہمارے سیاستدانوں نے تو بڑی کوشش کی کہ اہم فیصلے نہ کرنے پڑیں۔ مگر کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اسے مجبور کر دیا کہ کم از کم کچھ کرنے کی سوچ پیدا کریں۔ اگر آر اے بازار کا حملہ نہ ہوتا، بنوں کا دھماکا نہ ہوتا اور اکا دکا قتل جو اب ہر گھنٹے ہماری زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں نہ ہوتے تو وفاقی حکومت اتنے ہی آرام سے بیٹھی ہوتی جیسے اتنے ماہ سے بیٹھی ہوئی تھی۔ عمران خان کا کام بھی چلتا رہتا وہ حکومت کی خاموشی پر تلملاتے رہتے مگر سیاسی فائدہ بٹورتے رہتے۔ کراچی کی حد تک سخت کارروائیوں کی تاکید بھی کرتے رہے اور خیبر پختونخوا میں بات چیت پر زور بھی دیتے رہتے۔ پاکستان کی فوج بھی نہ جنگ نہ امن کی حالت میں رہتی۔ تمام تر وسائل مہیا ہونے کے باوجود، تعیناتیاں کرنے کے باوجود کوئی خاص فیصلہ نہ کرنا پڑتا۔ وہی صورت حال رہتی جو رہی ہے۔ ڈیڑھ سال سے شمالی وزیرستان پر جتنی پریزنٹیشنز دی جا چکی ہیں، اگر ان کو کاغذ پر منتقل کر کے اکٹھا کیا جائے تو ایک نیا انسائیکلو پیڈیا بن سکتا ہے۔ جتنے فوجی اس وقت اس ایجنسی میں موجود ہیں، ان سے ایک چھوٹے ملک کو فتح کیا جا سکتا ہے۔

جتنی شہادتیں ہم دیکھ چکے ہیں، اس کے برابر کی قربانی تو کوئی جنگ بھی نہیں مانگتی۔ مگر پھر بھی نہ کوئی امن لانا چاہتا ہے نہ جنگ لڑنا چاہتا ہے۔ عسکری لائحہ عمل کا یہ حیرت کدہ ایسے ہی چلتا رہتا ، اگر دوسرا گروپ پکار پکار کر یہ نہ کہہ رہا ہوتا کہ ’’خود میں کچھ تحریک پیدا کیجیے‘‘ ۔ ’’آئیے ہم سے نپٹیے ‘‘ یا ’’ جنگ جیتیے‘‘ یا ’’ہار مانیے‘‘ ’’کچھ تو کیجیے‘‘ ’’ایسے نہ بیٹھے رہیے‘‘۔ مگر اب شاید ایسے بیٹھے رہنا ریاستی اداروں اور حکومت وقت کے لیے ممکن نہ ہو۔ جس قسم کے حملے کیے جا رہے ہیں اور جس تواتر سے ان حملوں کی ذمے داری قبول کی جا رہی ہے۔ اس کے بعد خمار کی اس کیفیت جس میں ہماری فیصلہ ساز قوتیں اس وقت موجود ہیں کو جاری رکھنا ممکن نہیں ہو گا۔ اگر طالبان اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کا ر لاتے ہوئے ان تمام اہداف کو حاصل کرنا چاہتے ہیں جو انھوں نے اپنے نقشوں میں بنائے ہوئے ہیں تو اس کے بعد پالیسی سازی کی گنجائش محدود ہو کر صرف دو آپشنز میں تبدیل ہو گئی ہے۔ پہلی آپشن وفاقی حکومت کی طرف سے ایک اور مشترکہ کل جماعتی کانفرنس کی طلبی ہے جس میں سے علماء کو طالبان کے ساتھ بات چیت کرنے کی ذمے داری سونپنے کے بجائے سیاستدانوں پر یہ ذمے داری ڈالنے کا راستہ نکالنا ہو گا۔

چونکہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ قومی پالیسی کے لیے سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنا ہے تو بہت ضروری ہے کہ اب عمران خان اور منور حسن کو تمام سیاسی جماعتیں یہ ذمے داری سونپیں کہ وہ اپنے وفد بنا کر ان گروپوں میں سے ایک، چند یا سب سے بات چیت کا آغاز کریں۔ عسکری قیادت کو بھی واضح انداز سے عمران خان اور منور حسن کے گروپ کی حمایت کرنی ہو گی تا کہ بعد میں کوئی یہ اعتراض نہ اٹھا پائے کہ ان کے بات چیت کا مینڈیٹ یا اختیار آدھا، نا مکمل یا بے اثر تھاکیونکہ یہ دونوں جماعتیں اپنے افکار اور سیاسی نظریات میں تحریک طالبان کے قریب ترین ہیں۔ لہذا کل جماعتی کانفرنس کے مینڈیٹ سے لیس ہو کر یہ کوئی نہ کوئی راہ تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔ محترم منور حسن فصیح و بلیغ ہیں۔ شریعہ کے تمام پہلووں پر گرفت رکھتے ہیں۔ عمران خان قد آور سیاسی شخصیت ہیں۔ لوگوں کو اپنی بات منوانے کا فن جانتے ہیں۔ مقبول بھی ہیں۔ ان دونوں کی سر براہی میں بننے والی بات چیت کی کمیٹی یقیناً رنگ لا سکتی ہے۔ وفاقی حکومت بات چیت کے عمل کو بڑھانے میں نا کام رہی ہے۔ چوہدری نثار علی خان جن کے گلے میں وزارت داخلہ کا طوق روز بروز بھاری ہوتا جا رہا ہے، اپنی تمام تر شہرت کے باوجود کوئی خاص پیش رفت سامنے نہیں لاسکے۔ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی کابینہ کو کھلے دل سے اپنی ناکامی تسلیم کرنی چاہیے۔

قوم کو واضح انداز سے بتانا چاہیے کہ اتنے عرصے سے چلنے والی ہر گاڑی گول گول کیوں گھومتی رہی اور اپنی منزل کے قریب بھی نہ پہنچ پائی۔ اپنی غلطی کو تسلیم کرنا اخلاقی اور سیاسی طور پر لازم ہے۔ اگر حکومت ظاہراً خود کو بات چیت کے زاویے سے پر امید ثابت کرتی رہی اور حقیقت اس کے بالکل الٹ رہی تو دو ہفتوں کے بعد ناکامی تسلیم کرنے پر تعریف نہیں ہوگی بلکہ شدید شرمندگی اٹھانی پڑے گی۔ یقیناً مولانا فضل الرحمان نہیں چاہیں گے کہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کو تحریک طالبان سے بات چیت کرنے میں مرکزیت حاصل ہو۔ مگر یہ معاملہ عمران خان اور فضل الرحمان کو خوش کرنے کا نہیں ہے۔ یہ ملک کسی شخص کے جذبات یا احساسات کے ماتحت نہیں چلا یا جا سکتا۔ حکومت کی ناکامی میں جمعیت علمائے اسلام کا حصہ بھی موجود ہے۔ انھوں نے بھی پریس ریلیز جاری کرنے کے سوا کوئی کام نہیں کیا۔ عمران خان کمپین کے دوران ایک نعرہ لگایا کرتے تھے ’’میاں صاحب جان دیو ساڈی واری آن دیو‘‘ کم از کم بات چیت کی حد تک میاں نواز شریف کو اب یہ باری عمران خان کے حوالے کر دینی چاہیے۔ وکٹ کے دوسری جانب جماعت اسلامی کھڑی ہو گی۔ دیکھتے ہیں یہ ڈبل وکٹ ٹورنامنٹ کیا رخ اختیار کرتا ہے ۔

دوسرا راستہ بھی واضح ہے۔ ریاست کے اختیار کو کچوکے تو کب سے لگ رہے تھے۔ اب ان حملوں کے نتیجے میں اس کی چیر پھاڑ ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ زمانہ قدیم ہو یا جدید، ریاست جمہوری ہو یا غیر جمہوری، باد شاہت ہو یا یک جماعتی آمریت۔ ایک نیام میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں۔ ایک سر زمین پر ایک ہی ادارے کا اختیار چلتا ہے۔ ایک ملک میں ایک وقت میں ایک ہی فوج موجود ہوتی ہے۔ ایک طرح کے ادارے کو ہی یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ کس وقت کتنی طاقت کس کے خلاف استعمال کریں۔ تحریک طالبان کا کہنا ہے کہ یہ طاقت ان کے پاس ہے۔ پاکستان کی ریاست کو ثابت کرنا ہے کہ یہ اختیار ان کا ہے۔ دیکھتے ہیں پہلا راستہ اخیار کیا جاتا ہے یا دوسرے سمت کی جانب رخ ہوتا ہے۔ نیم بے ہوشی اور نیم پالیسی کی صورت حال اب نہیں چل سکتی۔ اس کا وقت گزر گیا ہے۔کاش ایسا نہ ہوتا۔ کاش!ہماری حکومتوں،سیاستدانوں اور مقتدر حلقوں کو یہ زحمت نہ دی جاتی کہ وہ کچھ کریں، کچھ تحریک پیدا کریں، ایسے ہی نہ بیٹھے رہیں۔

طلعت حسین

بشکریہ روزنامہ " ایکسپریس"

No comments:

Powered by Blogger.