Header Ads

Breaking News
recent

کلاشنکوف کا درد

کلاشنکوف رائفل بنانے والے میخائل کلاشنکوف نے اپنی وفات سے قبل بظاہر روس کے دقیانوسی چرچ کے سربراہ کو لکھا تھا کہ وہ اپنی ایجاد کے نتیجے میں ہونے والی ہر موت کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر محسوس کرتے ہیں۔

میخائل کلاشنکوف جو 94 سال کی عمر میں گذشتہ سال انتقال کر گئے تھے۔ چرچ کے حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے مئی 2012 میں چرچ کے سربراہ کِریل کو ایک جذباتی خط لکھا تھا۔ چرچ حکام نے کہا کہ میخائل ان تمام ہلاکتوں کی وجہ سے ’روحانی کرب‘ میں مبتلا تھے۔

اس سے قبل کلاشنکوف نے ان ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

مگر روسی حکومت کے حامی اخبار اِزویسٹیا میں شائع شدہ ایک خط میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’میرا روحانی کرب ناقابلِ برداشت ہے۔‘

انھوں نے لکھا کہ ’میں اسی ناممکن سوال کا سامنا کرتا رہتا ہوں۔ اگر میری رائفل لوگوں کی زندگیاں ختم کرتی ہے تو کیا یہ ہو سکتا ہے کہ میں ایک عیسائی اور دقیانوسی مسلک کا ماننے والا ان کی ہلاکتوں کا ذمہ دار ہوں؟‘

یہ خط کلاشنکوف کے ذاتی صفحات پر لکھا گیا ہے اور اس پر ان کے لرزتے ہاتھوں سے دستخط ہیں جو اپنے آپ کو ’خدا کا غلام ڈیزائنر میخائل کلاشنکوف‘ کہتا ہے۔

"میرے لیے یہ دیکھنا تکلیف دہ ہے جب ہر قسم کے جرائم پیشہ افراد میری ایجاد کردہ بندوق استعمال کرتے ہیں۔"

کلاشنکوف یا اے کے 47 دنیا کے معروف ترین ہتھیاروں میں سے ایک ہے اور بہت عام استعمال کیا جانے والے ہتھیار ہے۔

اس کی سادگی نے اسے ایک سستا، قابلِ اعتماد اور آسانی سے استعمال کیا جانے والا ہتھیار بنا دیا تھا۔

میخائل کلاشنکوف نے اپنی ایجاد کردہ رائفل سے ہلاک ہونے والے بے شمار لوگوں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرنے سے ہمیشہ انکار کیا اور اس کا الزام دوسرے ممالک کی پالیسیوں پر دھرا۔

روسی چرچ کے سربراہ کِریل کے پریس سیکرٹری نے کہا: ’انھوں نے اس بندوق کو اپنے ملک کی حفاظت کے لیے ایجاد کیا تھا اس لیے نہیں کہ دہشت گرد اسے سعودی عرب میں استعمال کریں۔‘

ماسکو میں موجود بی بی سی کے سٹیو روزنبرگ کا کہنا ہے کہ یہ واضع نہیں ہے اس میں سے کتنا انھوں نے خود لکھا ہے کیونکہ اِزویسٹیااخبار نے ان کی بیٹی الینا کے حوالے سے لکھا ہے وہ سمجھتی ہیں کہ ایک پادری نے انھیں یہ خط لکھنے میں مدد دی ہے۔

روسی چرچ کے سربراہ کے پریس سیکرٹری سرِل الیگزینڈر وولکوف نے اخبار کو بتایا کہ پادری کو خط موصول ہوا اور انھوں نے اس کا جواب لکھا تھا۔

میخائل کلاشنکوف کو ان کی زندگی میں کئی اعزازات سے نوازا گیا

انھوں نے مزید کہا کہ ’چرچ کا اس پر ایک واضح موقف ہے کہ ایسے ہتھیار جو ملک کی حفاظت کے لیے ہیں چرچ ان کے بنانے والوں اور استعمال کرنے والے فوجیوں کی حمایت کرتا ہے۔‘

روسی فوج نے اس رائفل کو سنہ 1949 میں اپنی فوج میں شامل کیا اور سینیئر سارجنٹ میخائل کلاشنکوف کو سٹالن فرسٹ کلاس ایوارڈ سے نوازا۔

یہ ایوارڈ ان اعزازت کی لمبی فہرست میں سے ایک ہے جن سے ان کو نوازا گیا۔ دیگر ایوارڈز میں آرڈرز آف لینن ہے جو ان کو تین بار دیا گیا۔

سنہ 1987 میں ان کوازوسک نامی شہر کا اعزازی شہری بنایا گیا۔

میخائل کلاشنکوف کا 23 دسمبر کو انتقال ہو گیا تھا۔

No comments:

Powered by Blogger.