Header Ads

Breaking News
recent

ایڈورڈ سنوڈین: 2013 کا امر کردار!



ایڈورڈ سنوڈین 2013 میں سامنے آنے والا جاسوسی کی تاریخ میں ایک ایسا نام ہے جس کے انکشافات نے نہ صرف امریکا بل کہ پوری دنیا کے عام لوگوں سے لے ترقی یافتہ ممالک کے سربراہان تک کو ہلا کر رکھ دیا۔

یوں سنوڈین کا یہ قدم گذشتہ سال کے اہم ترین واقعات میں شمار ہوا۔ ایڈورڈ کی جانب سے افشا کیے گئے رازوں نے عالمی سطح پر ایسا زلزلہ پیدا کر دیا، جس کے آفٹر شاکس آج بھی شدت سے محسوس کیے جا رہے ہیں۔ تقریباً چھے ماہ گزر جانے کے بعد بھی سنوڈین کا نام دنیا کے متعدد ممالک کے ممتاز جرائد اور اخبارات کی شہ سرخیوں میں نظر آرہا ہے۔ ایڈورڈ کے انکشافات نے نہ صرف امریکی بل کہ پوری دنیا میں ٹیکنالوجی کی صنعت سے وابستہ کمپنیوں کی کارکردگی اور کاروبار کو خطرے دوچار کردیا ہے۔ امریکا کی نیشنل سیکیوریٹی ایجنسی دنیا بھر میں معلومات کے حصول کے لیے کیا ہتھکنڈے استعمال کیے اور ایڈورڈن سنوڈین نے کن وجوہات کی بنا پر دنیا کے سامنے حقائق لانے کا فیصلہ کیا، اس حوالے سے امریکی رسالے ’’ٹائم‘‘ میں چھپنے والی رپورٹ کا ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔

نگرانی سے بچنے کے لیے ماسکو آنے والے ان چاروں امریکیوں کے پاس کوئی موبائل فون اور لیپ ٹاپ نہیں ہے۔ یہ واشنگٹن سے آنے والے والی ڈیلٹا ایئر لائن کے ذریعے ماسکو پہنچے ہیں، جس کے ٹکٹ انہیں ڈچ کمپیوٹر ہیکر نے فراہم کیے ہیں۔ اِن کا ماسکو آنے کا مقصد اس شخص سے ملاقات کرنا ہے جس نے امریکی ایوانوں میں ہل چل اور عالمی راہ نمائوں کو نگرانی کے خوف میں مبتلا کر رکھا ہے۔ یہ چاروں افراد امریکی سی آئی اے کے سابق اہل کار ’’ایڈورڈ سنوڈین‘‘ کو ایک خاص ایوارڈ دینے ماسکو پہنچے ہیں۔ ماسکو کے ریڈ اسکوائر سے قریب پہلے سے منتخب کردہ ایک ہوٹل میں چیک ان کے بعد وہ ایک وین کے منتظر ہیں جو انہیں ڈنر کے لیے ایڈورڈ کے پاس لے جانے والی ہے۔

انتظار کی ساعتیں ختم ہوئیں اور ایک نامانوس روسی سیکیوریٹی اہل کار کے ساتھ ان کے سفر کا اختتام ایک بڑی عمارت کے سامنے ہوا۔ چھت پر کسی گرجا گھر کی طرح نفیس رنگ اور دیواروں اور سنہرے فریموں پر بالکل ’’ایلکس ان دی ونڈر لینڈ‘‘ کی طرح آئل پینٹ کیا گیا تھا۔ کمرہ ختم ہونے کے بعد ان کا استقبال رم لیس گلاسسز، بلیک سوٹ اور نیلی شرٹ میں ملبوس تیس سالہ نوجوان نے کیا۔ یہ نوجوان ’’ایڈورڈ سنوڈین‘‘ تھا، جس کا نام جاسوسی کی دنیا میں تاحیات یاد رکھا جائے گا۔ امریکی حکومت سے اختلاف کے باوجود اپنے ہم وطنوں کو دیکھ کر ایڈورڈ کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوگئی۔ اس موقع پر سی آئی اے کے سابق اینالسٹ رے میک گورن نے روسی زبان میں ’’الیگزینڈرپشکن‘‘ کی نظم ’’دی پریزنر‘‘ گنگنانا شروع کردی۔

یہ نظم اس نے سوویت یونین میں اپنی جاسوسی کے دنوں میں یاد کی تھی۔ چند لمحے بعد امریکی محکمۂ انصاف کے سابق اٹارنی جیسلین ریڈیک نے نیوکلیئر ایج کے ’’البرٹ کاموس‘‘ کا قول دہرایا،’’اب ہمارے پاس کھونے کے لیے سب کچھ کے علاوہ کچھ نہیں ہے، لہٰذا ہمیں آگے بڑھنے دو۔‘‘ اس ملاقات میں موجودایک اور فرد ایف بی آئی ایجنٹ کولین رولے نے ایڈورڈ سنوڈین کا موازنہ ’’بینجمن فرینکلین‘‘ سے کیا جس نے 1773میں ایک پوسٹ ماسٹر کی حیثیت سے ان خطوط کو افشا کرنے میں مدد کی تھی جو امریکی حکام نے خفیہ طور پر برطانوی حکومت کو بھیجے تھے۔

خاموشی سے سب کی باتیں سننے والے ایڈورڈ سنوڈین کے روسی وکیل Anatoly Kucherena نے کھانے پر سے نظریں اٹھا کر ان افراد کی طرف دیکھا، انتولے کو کریملین کا قریبی ساتھی اور پریس کو گم راہ کرنے کا ماہر سمجھا جاتا ہے۔ ’’ایڈ، میں تمہیں سب سے اچھا تحفہ دینا چاہ رہا ہوں جو میں تمہیں دے سکتا ہوں،‘‘ انتولے نے ایک مترجم کے ذریعے سنوڈین سے کہا، ’’میں تمہارے بارے میں ایک ناول لکھ رہا ہوں۔‘‘ اس ملاقات کا اہتمام امریکی قومی سلامتی سے منحرف ان چار اہل کاروں نے ایڈورڈ کو ’’سیم ایڈمز ایوارڈ‘‘ دینے کے لیے کیا تھا۔ ویت نام جنگ کے دوران منحرف ہونے والے امریکی سی آئی اے کے اہل کار ’’سیموئیل اے ایڈمز‘‘ کے نام سے شروع ہونے والا یہ ایوارڈ ہر سال خفیہ ایجنسی کے اس اہل کار کو دیا جاتا ہے جس نے دیانت اور اخلاقیات کے لیے کو ئی قدم اٹھایا ہو۔

لیکن سنوڈین کے لیے یہ بات ایوارڈ سے زیادہ کچھ اور تھی، ایک ایسا موقع جس سے اپنے اقدام کی دنیا کے سامنے تجدید کرنے کا، جس کی بنیاد پر اس کی عدم موجودگی میں اسے چور اور جاسوسی ایکٹ کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔

مئی2013 میں خفیہ راز افشا کرنے کے بعد سے سنوڈین نے اپنا طرِزِزندگی تبدیل کرلیا ہے۔کوئی ٹوئٹر اکائونٹ نہیں، کوئی ٹی وی انٹر ویو اور نہ ہی امریکی حکام سے براہ راست رابطہ۔ اس کی زبان Kucherena ہے، جو میڈیا کوماسکو میں سنوڈین کی انٹرنیٹ پر نئی ملازمت، اس کی نئی روسی گرل فرینڈ اور اس کی معاشی مشکلات سے آگاہ کرتا رہتا ہے۔ سنوڈین سے باقاعدگی سے رابطہ کرنے والے افراد کے مطابق یہ سب ایک فکشن ناول کا حصہ لگتا ہے۔

روس میں ایک سال کی سیاسی پناہ حاصل کرنے والے سنوڈین کی زندگی ابھی ٹھیک سے شروع نہیں ہوئی ہے ۔ وہ روسی زبان سیکھ رہا ہے اور حال ہی میں اس نے Fyodor Dostoyevsky کی کتاب Crime and Punishment پڑھی ہے۔ وہ کئی ہفتوں سے اپنی وکی لیکس پروٹیکٹر سارہ ہیریسن کے ساتھ رہ رہا ہے۔ جو برلن سے سنوڈین کے پاس آئی ہے کیوں کہ اسے ڈر تھا کہ اگر وہ اپنے آبائی وطن برطانیہ گئی تو اسے کرمنل چارجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایڈورڈانٹر نیٹ پر اپنے انکشافات کے بعد امریکا کے لیے پیدا ہونے والی سفارتی مشکلات، کانگریس کی اصلاح کی کوششیں، نئے وفاقی قانون، امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو پہنچنے والے معاشی نقصانات اور بہت کچھ دیکھ سکتا ہے۔سنوڈین کے لیے ان اثرات کا اختتام مختلف ہے۔اس نے اپنی آزادی جرمن چانسلر اینجیلا مرکل کے موبائل فون کی امریکی جاسوسی اور نیشنل سیکیورٹی کونسل کی مبینہ طور پر جہادیوں کے فحش ویب سائٹ دیکھنے کے الیکٹرونیکلکی ریکارڈ کی تفصیلات بیان کرنے کے لیے نہیں ختم کی ہے۔

وہ تو دنیا کو ایک تنبیہ جاری کرنا چاہتا تھا اور اسے یقین تھا کہ اس کے پاس موجود خفیہ معلومات کو افشا کرنا اس کے لیے بہترین طریقہ ہے ۔ اور اس کی شطرنج کی چال اس کی امید سے زیادہ کام یاب ہوچکی ہے۔ وہ زندہ ہے، آزاد ہے اور چھے ماہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اس کی دستاویزات روزانہ اخبارات کی سرخیاں بن رہی ہیں، لیکن اس کا کام ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس نے اکتوبر میں اپنے ہی جیسے کچھ افراد کو ماسکو آنے کی دعوت دی جو اسے ’’سیم ایڈمز‘‘ ایوارڈ دینے کے خواہش مند تھے۔

کھانے کے بعد فوٹو سیشن اور ایوارڈ دینے کی ایک مختصر تقریب ہوئی۔ سنوڈین نے ایک بار پھر شرکاء کوبہ حیثیت سی آئی اے کنٹریکٹر اپنے کام اور کمپیوٹر نیٹ ورکس پر موجود خفیہ معلومات کے بارے میں بتانا شروع کردیا۔وہ ایسی جگہ تھی جہاں وسیع پیمانے پر حفظِ ماتقدم کے طور پر عام شہریوں کی معلومات جمع کی جاتی تھیں، ایک ایسی جگہ جہاں امریکی قانون اور پالیسی ملک سے باہر غیر ملکیوں کی پرائیویسی کے حق کے بارے میں نہیں جانتی تھی، ایک ایسی جگہ جہاں اسے جدید جمہوری ریاستوں کی بنیادی آزادی ’’بولو، سوچو زندہ رہو اور تخلیقی بنو، تعلقات بنائو اور آزادی سے رہو ، کے خطرے میں ہونے کا یقین تھا۔‘‘

ایڈورڈ سنوڈین نے اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ ان قانونی پروگرامز کے درمیان کافی فرق تھا، حسب قانون جاسوسی، قانونی طور پر قانون کا نفاذ، جہاں شک کی بنیاد پر انفرادی اور گروہی طور پر ٹارگٹ کیا جاتا ہو یہ ایک ایسا پروگرام تھا جس کی ایک آنکھ مستقل سب پر تھی کون کیا کر رہا ہے کون کیا نہیں جہاں یہ ضروری نہیں تھا وہاں بھی یہ سب تھا۔ یہ ایک طرح امریکا میں حکومت اور نگرانی کے مابین ایک مخصوص رشتہ تھا۔

اس تقریب میں موجود وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کا کہنا تھا کہ ان سب وجوہات نے سنوڈین کو قانون توڑنے پر مجبور کیا۔ نگرانی کا یہ پروگرام شہریوں کی نجی زندگی کی جڑیں کاٹنے کے مترادف تھا۔ یہ تصور سنو ڈین سے پیدا نہیں ہوا تھا، لیکن کسی اور نے اس میں آگے پیش قدمی نہیں کی۔ یہ اثرات انقلابی تھے۔ جولین اسانج کہتے ہیں،’’ہم نے ماہرین کے چھوٹے گروپ بنائے اور اس بات کو سمجھنا شروع کیا کہ این ایس اے (نیشنل سیکوریٹی ایجنسی) کے ماس سرویلینس (بڑے پیمانے پر نگرانی) کے حقائق سے عوام میں شعور کس طرح اجاگر کیا جائے۔‘‘

٭انفارمیشن گرڈ

برقی نگرانی کا آغازٹیلی گراف اور ریڈیو کی ایجاد ہی سے ہوگیا تھا اور یہ انک اورکاغذ کی مدد سے ریکارٖڈ کرنے کا واحد ذریعہ تھا۔ لیکن اب جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک دن میں فائبر آپٹک کیبل یا ہوا کے دوش پر گزرنے والی اربوں لوگوں کی معلومات کو ریکارڈ کرنا، نقل کرنا اور محفوظ کرنا آسان ہو گیا ہے، جو بذات خود ایک انقلابی ترقی ہے۔ لیکن حقیقی طاقت لوگوں کے باقاعدہ طریقے سے اپنا طرزِعمل تبدیل کرنے سے حاصل ہوئی۔ انیسویں صدی میں انسان نے شاذونادر ہی برقی سگنل پیدا کیے، لیکن اب زندگی کا ہر شعبہ ’’بٹس‘‘ اور ’’بائٹس‘‘ پر مشتمل ہے۔

آپ کی جیب میں موجود موبائل فون آپ کی نقل و حرکت اور سروس کیریئر (موبائل فون آپریٹر) آپ کی محفوظ کی گئی تمام معلومات کو ریکارڈ کرتا ہے۔ ای میل، چیٹ اور ٹیکسٹ میسیجزآپ کے سماجی تعلقات اور خیالات کا نقشہ بنا دیتے ہیں۔ کریڈٹ کارڈ سے کی گئی خریداری خرچ کرنے کی عادت اور مزاج ظاہر کرتی ہیں۔ انٹرنیٹ پر صرف کیا گیا وقت آپ کے لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر کی وہ تمام معلومات بھی اپنے پاس جمع کرلیتا ہے جو کہ آپ کے محبوب یا قریبی دوست تک کو پتا نہیں ہوتی۔

ہر گزرتے وقت کے ساتھ ٹیکنالوجی جدید سے جدید تر ہوتی جا رہی ہے۔ اب ایسے ویئر ایبل (پہننے کے قابل) کمپیوٹرائزڈ آلات آگئے ہیں جو آپ کی نبض کو مانیٹر کرتے ہیں، چہرے کے نقوش کی شناخت کرنے والے سافٹ ویئر سے لیس نگرانی کے جدید کیمرے اور ایسے اسمارٹ میٹرز جو اس بات کو بھی ریکارڈ کرتے ہیں کہ رات میں آپ نے کس وقت لائٹ بند کی تھی۔ نورڈ اسٹارم اور ایپل جیسی ریٹیل کمپنیاں ایسی ٹیکنالوجی استعمال کر رہی ہیں جو آپ کے موبائل فون سے اس بات کو ٹریک کرتی ہیں کہ کسی سنگل ڈسپلے سے پہلے آپ کس حد تک کاہلی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ سنوڈین کی فراہم کردہ کچھ دستاویزات تک رسائی حاصل کرنے والے سیکیوریٹی ٹیکنالوجسٹ Bruce Schneierکا کہنا ہے،’’نگرانی انٹرنیٹ پر ایک بہترین بزنس ماڈل بن گئی ہے۔‘‘

سنوڈین کی چوری نے امریکا کی قومی سلامتی کے اس عظیم راز کو فاش کر دیا جس کے لیے امریکی حکومت صرف ’’این ایس اے ‘‘ اور اس کے 30ہزار سے زاید ملازمین پر ہی سالانہ 52ارب 60کروڑ ڈالر 52.6) بلین( پر خرچ کر رہی تھی، اور اس کا مقصد نائن الیون کے بعد غفلت کی نیند سے بیدار ہونا اور نگرانی کے معاملات پر زیادہ توجہ مرکوز کرنا تھا۔ الیکٹرونک انٹیلی جنس کا مقصد غیرملکی حکومتوں اور ان کے عوامی نمائندوں کی تاریخی حیثیت پر توجہ مرکوز کرنا تھا، لیکن ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ کرنے والے افراد کی جائے پیدائش امریکا نہیں تھی۔ ورلڈ ٹریڈ ٹاور کے ملبے میں سلگتی چنگاریوں نے این ایس اے کو دنیا بھر کی نگرانی کرنے کے لیے اکسایا۔ نگرانی کے اس پروگرام میں پوری آبادی کا ہسٹوریکل ڈیٹا جمع کیا گیا، جس سے انفرادی طور پر کسی بھی شخص کے مشکوک ہونے سے پہلے گذشتہ کئی سالوں کی معلومات حاصل کی جاسکتی تھیں۔

اس مقصد کے لیے صحرائے اتھاہ (Utah)میں ایک عظیم الشا ن ’’کلاسیفائیڈ ڈیٹا ‘‘ سینٹر بنایا گیا، جس کے کمپیوٹر سرورز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے روزانہ 17لاکھ گیلن (64لاکھ لیٹر) پانی درکار ہے۔ اس ڈیٹا سینٹر کے قیام کے بعد امریکی حکومت نے 2006 سے امریکا سے کی جانے والی فون کالز کا ریکارڈ جمع کرنا شروع کردیا۔ کچھ عرصے کے لیے حکومت نے انٹرنیٹ ٹریفک سے میٹا ڈیٹا (معلومات کا ایسا ذخیرہ جو دوسری معلومات تک رسائی دیتا ہے) بھی حاصل کیا۔ موبائل فون کے محل وقوع (سیلولر لوکیشن ڈیٹا) کا ڈیٹا جو کہ زیادہ تر غیرملکی فونز کا تھا، تقریباً5 ارب ریکارڈز فی دن کے حساب سے ڈیٹا سینٹر میں جمع کیا گیا، جسے بعد میں اس شخص کی نقل و حرکت یا بند دروازے کے پیچھے ہونے والی میٹنگ میں شریک افراد کے بارے میں جاننے کے لیے استعمال کیا جاسکتا تھا۔

سنوڈین کی جانب سے منکشف کی گئی نیشنل سیکیوریٹی ایجنسی کی دستاویزات کے مطابق 2002 میں دنیا بھر کی99 فی صد انٹرنیٹ بینڈوتھ اور2003 میں دنیا بھر کی 33فیصد فون کالز امریکی کمپنیوں کے تعاون یا بنا تعاون کی بدولت امریکی نگرانی سے گزری ہیں۔ اس ایجنسی نے غیرملکی کیبلز اور سیٹلائیٹس کو ہیک کرنے کے ساتھ ساتھ اندر ہی اندر امریکی ٹیکنالوجی کی کمپنیوں (گوگل، یاہو وغیرہ) کے غیرملکی کلائوڈ سرورز سے گزرنے والی معلومات کو بھی حاصل کیا۔ این ایس اے نے اربوں کی تعداد میں یاہو اور فیس بک کے اکائونٹ سے انسٹنٹ میسیجنگ اور ذاتی ای میل ایڈریسز بھی اپنے پاس جمع کیے۔ این ایس اے کے ایک پروگرام Dishfire کے تحت کئی سال تک دنیا بھر میں کیے جانے والے SMS جب کہ Tracfinکے نام سے چلنے والے ڈیٹا بیس میں رقوم اور کریڈٹ کارڈ سے ہونے والی ٹرانزیکشن ریکارڈ کی گئیں۔

کچھ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کا یہ کھیل صرف امریکا ہی نہیں کھیل رہا بل کہ روس اور چین نے بھی نگرانی کے لیے اپنا انفرااسٹرکچر بنایا ہوا ہے، جب کہ مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے کچھ آمروں نے بھی اوپن مارکیٹ سے ان آلات کو خرید کر اپنی عوام کی جاسوسی اور نگرانی کے لیے استعمال کیا، جس کی بڑی مثال لیبیا کے مرد آہن معمر قذافی تھے، جب 2011میں باغیوں نے معمر قذافی کے محل پر چڑھائی کی تو اُنہیں وہاں سے فرانسیسی کمپنی {{“Amesys” کی ایک ڈیوائس بھی ملی تھی، جسے معمر قذافی لیبیا کے عوام کی انٹرنیٹ پر ہونے والی تمام سر گرمیوں کا ڈیٹا جمع کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اس ڈیوائس کی بدولت کسی بھی لیبیائی شہری کی ’’انکریپٹو ای میل‘‘ یا فیس بک پر کی جانے والی پوسٹ یا اسٹیٹس محفوظ نہیں تھا۔

٭پرائیویسی پروٹیکشن

امریکی نگرانی سے متعلق دستاویزات عوام کے سامنے آنے بعد لوگوں کے ذہنوں میں بہت سے سوالات مچل رہے ہیں:

بڑے پیمانے پر نگرانی کے بعد ایک جمہوری اور مطلق العنان حکومت میں کس طرح فرق کیا جائے؟

پرائیویسی پروٹیکشن بنیادی انسانی حق ہے یا محض قومیت کے لیے سہولت؟

کیا امریکی حکومت کے قومی سلامتی کے مواد پر بھروسا کیا جانا چاہیے؟

امریکی ہفت روزہ ’’ٹائم‘‘ نے ان تمام باتوں کے جوابات جاننے کے لے ماسکو میں موجود سنوڈین سے بذریعہ ای میل ایک انٹرویو کا اہتمام کیا۔ عام شہریوں کی خلوت سے متعلق سنوڈین کو یقین ہے کہ یہ ہر انسان کو حاصل ایک عالم گیر حق ہے۔ امریکی نگرانی کے خطرے نے بیسویں صدی کے اس تاریک پہلو کو روشن کر دیا ہے۔ سنوڈین کی دلیل ہے کہ ’’این ایس اے یقینی طور پر Stasi(سابق جرمن ڈیمو کریٹک ری پبلک کی خفیہ تنظیم جو 1990میں ختم کردی گئی تھی) نہیں ہے، لیکن ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ خفیہ اداروں (سیکیوریٹی سروسز) کی جانب سے معاشرے کو لاحق خطرات اس طرح نہیں ہیں کہ وہ چرمی فوجی جوتے پہن کر مونچھوں کو تائو دیتے ہوئے ہمیں گھسیٹ کر کال کوٹھری میں دھکیل دیں گے، لیکن بنیادی پالیسیوں میں آہستگی سے ہونے والی تبدیلیوں سے ایسا ہی ہوگا جیسے مونچھیں پر تائو دیتے چرمی فوجی جوتے پہنے افراد ایک ضروری مقصد کی جانب عملی فائدے کے لیے ظاہر ہوں۔

سنو ڈین کو امید ہے کہ ان کے انکشافات پانچ نمایاں شہری حلقوں ’’عوام‘‘،’’تینیکی ماہرین‘‘، ’’امریکی عدالتیں‘‘، ’’کانگریس‘‘ اور ’’ایگزیکٹو برانچ‘‘ اس طریقہ ٔکار پر نظرثانی کے لیے دبائو ڈالیں گے۔

سنوڈین کا کہنا ہے،’’امریکی صدر عوام کے مینڈیٹ کو معقول طریقے سے استعمال کرتے ہوئے ان پروگرامز میں عوام کے لیے قابل قبول تبدیلیاں کریں اور نیشنل سیکیوریٹی ایجنسی کو ہدایات دیں کہ وہ اپنی بے انتہا طاقت کو استعمال کرتے ہوئے دنیا کے لیے ایسے نئے ٹیکنیکل معیارات بنائیں جن سے کسی کی نجی زندگی متاثر نہ ہو۔‘‘

وہ لوگوں کی جان و مال کو محفوظ بنانے کے لیے نئے طریقے ایجاد کر سکتے ہیں اور ’’ہر سیاسی مسئلے کا ٹیکنیکل حل ہے۔‘‘ این ایس اے کے ایک اور پروگرام ’’ {Bullrun‘‘ کے تحت امریکی اور غیر ملکی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صنعت سے وابستہ کمپنیوں سے خفیہ طور پر معلومات چرانے یا حاصل کرنے کی کوششوں پر سالانہ 250ملین ڈالر خر چ کیے گئے۔ جاسوسوں کو غیرقانونی طور پر انکرپٹڈ کمیونیکشن فراہم کی گئی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مقصد بظاہر دہشت گردوں کی انکرپشن (کسی بھی معلومات یا ڈیٹا کو کوڈ میں منتقل کرنا) معلومات کا حصول تھا۔ سنوڈین کا کہنا ہے کہ عام شہریوں کو بھی ان بریک ایبل انکرپشن سافٹ ویئر بنانے کا حق حاصل ہے۔ اس بات کو اس طرح واضح کر سکتے ہیں کہ اگر آپ پہلی بار اصولوں میں ترمیم کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ انکرپشن کے لیے تیار ہیں جو کہ محض ایک کوڈ ہوتا ہے۔

٭امریکا ان دی ڈارک

امریکا کی نیشنل سیکیوریٹی ایجنسی کو ہمیشہ خود پر فخر رہا ہے کیوں کہ وہ خود کو آمرانہ حکومتوں کی اینٹیلی جنس سروسز سے خود کو بالکل الگ سمجھتی ہے۔

سنوڈین کی جانب سے امریکی ایجنسیوں کی نگرانی کے جس پروگرام کا انکشاف کیا گیا۔ اس کا کم ازکم 1970 سے باقاعدہ آڈٹ اور چیک اینڈ بیلنس کا نظام موجود ہے اور اس کے لیے نہایت سخت اصول بھی متعارف کرائے گئے ہیں، جس کی رو سے مخصوص حالات میں امریکیوں کی جمع کی گئی معلومات کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ سنوڈین کی اب تک شایع کی گئی دستاویزات کے مطابق کوئی ایسا پروگرام جاری نہیں ہے، جس سے واضح طور پر موجودہ قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہو، اور این ایس اے کے اس پروگرام کو امریکی حکومت کے تین اہم اداروں کی منظوری سے چلایا جا تا رہا ہے۔ سنوڈین کے انکشاف کے بعد نہ صرف امریکی عوام کو اندھیرے میں رکھا گیا بل کہ انہیں اس حکومتی اقدام کے حوالے سے گم راہ بھی کیا گیا کہ 2001 میں پیش کیے گئے ’’پیٹریاٹک ایکٹ‘‘ کے تحت امریکیوں کے فون ریکارڈز کو جمع کرنے کی منظوری دی گئی تھی اور امریکی محکمۂ انصاف کی گرانڈ جیوری کی جانب سے اس ایکٹ کے بارے میں عدالتی حکم عوام کے سامنے بھی پیش کیا گیا تھا، جس میں انفرادی طور پر خفیہ وارنٹ جاری کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی تھی۔

لیکن خفیہ ترجمان ایک الگ کہانی بیان کرتے ہیں۔ نگرانی کے اس پروگرام پر طویل عرصے سے تنقید کرنے والے ریاست اوریگن کے سینیٹرRon Wyden کا کہنا ہے،’’کیا آپ نے کبھی گرانڈ جیوری کا وہ عدالتی حکم نامہ دیکھا ہے جس میں حکومت کو لاکھوں عام امریکی شہریوں کی فون کالز ریکارڈ کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔‘‘

دوسری جانب 2012 میں نیشنل سیکیوریٹی ایجنسی کے ڈائریکٹر نے اپنی تقریر میں کہا تھا، ’’ہم امریکی شہریوں کا ڈیٹا ہولڈ نہیں کرتے۔‘‘ بظاہر انہوں نے اپنے بیان کو غیرمعمولی معنی رکھنے والے لفظ ’’ہولڈ‘‘ سے درست قرار دے دیا تھا، جب کہ نیشنل انٹیلی جینس ڈائریکٹر جیمز کلیپر نے ایک اوپن سیشن میں کانگریس کو بتایا تھا کہ این ایس اے لاکھوں امریکیوں کی کسی بھی قسم کی معلومات کو ’’کلیکٹ (جمع)‘‘ نہیں کرتی۔ سنوڈین کی جانب سے خفیہ دستاویزات جاری ہونے کے جیمز کلیپر نے اپنے اس ’’بلاشبہہ غلط ‘‘ جواب پر معذرت کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے صرف اُس صورت حال میں ممکنہ حد تک ’’کم سے کم جھوٹا‘‘ ردعمل دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی مجھے کہے ’’کلیکشن‘‘تو میرے لیے اس کا ایک مخصوص مطلب ہے، لیکن دوسرے فرد کے لیے اس لفظ کا مطلب الگ ہوسکتا ہے۔

سنوڈین کے انکشافات کے بعد انٹیلی جینس حکام کو عوامی بحث میں حصہ لینے پر مجبور کیا جارہا ہے اور اوباما ہزاروں صفحات پر مشتمل دستاویزات کو ڈی کلاسیفائیڈ (منظر عام پر لانا) کرنے کی منظوری دے چکے ہیں۔ تاہم موجودہ اور سابق حکومتی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ سنوڈین کی چوری اور افشا کی گئی دستاویزات سے ملک کی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔ امریکا کے قومی انسداد دہشت گردی مرکز کے ڈائریکٹر میتھو اولسن نے جولائی میں سنوڈین کے انکشافات کے بعد متنبہ کیا تھا کہ القاعدہ اور اس سے منسلک دہشت گرد گروپ اپنی حکمت عملی میں تبدیلیاں کر رہے ہیں، جب کہ سنوڈین کا کہنا تھا کہ اس نے ایسی معلومات ڈائون لوڈ نہیں کی ہیں جس سے امریکا کے حریفوں کو فائدہ ہو یا دیگر امریکی انٹیلی جینس حکام کو خطرات لاحق ہوں۔

ہانگ کانگ میں اپنے مختصر قیام کے دوران ’’سائوتھ چائنا مارننگ پوسٹ‘‘ کو دیے گئے انٹرویو میں سنوڈین نے کہا تھا کہ این ایس اے چینی یونیورسٹیز کی جاسوسی بھی کر رہی ہے، کیوں کہ مایوس امریکی، امریکی فرمز کے خلاف صنعتی جاسوسی میں کمی کے بعد چین کو شرمندہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جرمنی کے ہفت روزہ رسالے ’’Der Spiegel‘‘ میں شایع ہونے والی سنوڈین کی دستاویزات پر مبنی اسٹوری سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانوی جاسوسوں نے امریکا کے ساتھ مل کر غیرملکی ٹیلی کام پرووائیڈرز کے کمپیوٹرز پر مال ویئر (مہلک وائرس پر مشتمل سافٹ ویئر جسے خصوصاً کسی کمپیوٹر سے حساس معلومات جمع کرنے اور کمپیوٹر کے افعال کو غیرموثر بنانے کے لیے بنایا جاتا ہے) انسٹال کرنے کے لیے Linked­In کے جعلی اکائونٹس استعمال کیے۔

اخبار کی دیگر اسٹوریز میںاس بات کو بھی تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ این ایس اے کے جاسوسی پروگرام کے تحت بین الاقوامی کانفرنسوں میں شامل سفارتی وفود کی بھی نگرانی کی گئی اور صرف یہی نہی بل کہ اس نگرانی کا نشانہ غیر ملکی سربراہوں کو بھی بنایا گیا۔

امریکا کی ٹیکنالوجی اور مواصلاتی کمپینوں جن میں سے کچھ این ایس اے کے ساتھ تعاون بھی کرتی رہی ہیں سنوڈین کے انکشافات کے بعد بری طرح متاثر ہوئی اور اب وہ اپنے غیر ملکی صارفین کی نجی معلومات کو راز رکھنے کا وعدہ کرتے ہوئے اپنے نظام کو مزید بہتر بنا نے کی تگ و دو کر رہی ہیں۔ جب کہ ’’فیس بک‘‘،’’ایپل‘‘اور ’’گوگل‘‘ سمیت امریکا کی آٹھ بڑی ٹیکنالوجی کی کمپنیوں نے امریکی حکومت سے کہا ہے کہ وہ ’’انٹرنیٹ کمیونی کیشن سے معلومات جمع کرنا بند کرے، اور نگرانی کے پروگرام کی مخصوص حد متعین کرے۔‘‘ دوسری جانب بھارتی حکام جلد ہی اُن ای میل اکائونٹس تک رسائی پر پابندی عاید کرنے والے ہیں، جن کے سرور امریکا میں ہیں اور اگر ایسا ہوا تو امریکی کمپنیوں کو 180ارب ڈالر نقصان کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ایڈورڈ اخبارات میں لکھی گئی کسی بھی اسٹوری کی طرف داری نہیں کرتے لیکن ان کا کہنا ہے کہ میں نے اپنے فعل سے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ میں کوئی ثالث نہیں ہوں کہ کیا عوام کے سامنے آنا چاہیے اور کیا نہیں۔ سنوڈین کا کہنا ہے کہ یقیناً ان میں سے کچھ اسٹوریز ایسی ہیں جن میں میرے نزدیک عوام کی دل چسپی کے لیے کچھ نہیں لیکن رپورٹرز کی سوچ اس معاملے میں الگ ہے اور اشاعت کا فیصلہ کرنا صحافیوں اور ان کے مدیروں کے سپرد ہے۔

سنوڈین کی جانب سے امریکی نگرانی کا پروگرام منظر عام پر آنے کے بعد سے دنیا بھر میں امریکا کے خلاف شدید رد عمل سامنے آیا ہے، جب کہ امریکیوں کی اکثریت کو اپنی پرائیویسی کے حق کی خلاف ورزی کا یقین ہے۔ حال ہی میں ’’واشنگٹن پوسٹ ‘‘ اور ’’اے بی سی نیوز‘‘ کی جانب ہونے والے سروے کے مطابق اٹھارہ سے تیس سال کی عمر کے 35 فی صد امریکیوں کا کہنا ہے کہ ایڈورڈ کو اس کے جرم کی سزا ملنی چاہیے، جب کہ تیس سال اور اس سے زاید عمر کے 57 فی صد افراد کے مطابق اُس (سنوڈین) نے بالکل صحیح کام کیا۔

نوجوانوں نے فیس بک چھوڑ کر اسنیپ چیٹ جیسی سوشل میڈیا کی ویب سائٹس استعمال کرنا شروع کردی ہیں، جو چند سیکنڈ بعد ان کے پیغامات کو ڈیلیٹ (ضایع) کردیتی ہیں، جب کہ چند روز قبل ہی امریکی عدالت نے کہا ہے کہ نیشنل سیکیوریٹی ایجنسی کی جانب سے بڑے پیمانے پر ٹیلی فون کی معلومات (ڈیٹا) کا حصول غیرآئینی ہے۔ اپنے فیصلے میں جج رچرڈ جے لیون نے کہا کہ جاسوسی ادارے کا یہ عمل شہریوں کی نجی زندگی میں ’’بے جا مداخلت‘‘ تھی۔ انہوں نے یہ فیصلہ قدامت پسند کارکن لیری کلیمین کی جانب سے دائر مقدمے میں سنایا ہے۔ کلیمین ویری زون موبائل کے صارف ہیں اور انھوں نے نیشنل سیکیوریٹی ایجنسی کی میٹا ڈیٹا (معلومات کا ایسا سیٹ جو دوسرے ڈیٹا (معلومات) کی معلومات فراہم کرتا ہے) اکٹھا کیے جانے پر عدالت میں کیس دائر کیا تھا۔

کیوں کہ این ایس اے نے ویری زون موبائل کمپنی سے بھی اس کے ’’صارفین کی تعداد‘‘،’’کالنگ کارڈ نمبر‘‘، ’’موبائل فون کے سیریل نمبرز‘‘ سمیت لاکھوں کالز کا ریکارڈ (میٹا ڈیٹا) ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ عدالت کے اس فیصلے پر ایڈورڈ سنوڈن کے قریبی صحافی دوست گلین گرین والڈ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ایک خفیہ پروگرام جس کی عدالت نے اجازت دی رکھی تھی جب دن کی روشنی میں منکشف ہوا تو اسے امریکیوں کی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے دیا گیا۔‘‘ تاہم یہ فیصلہ شہریوں کی پرائیویسی کے تحفظ کی جانب پہلا قدم ہے۔

جب کہ نیشنل سیکوریٹی ایجنسی کے سابق جنرل کونسل اسٹیورٹ بیکر کا کہنا ہے کہ اگر اپیل کی جائے تو عدالت کا یہ فیصلہ تبدیل ہو سکتا ہے، تاہم اس فیصلے سے امریکی حکومت پر دبائو بڑھے گا۔

دوسری جانب وائٹ ہائوس سنوڈین کو معاف کرنے کے لیے قطعی تیار نہیں ہے اور امریکی حکومت اس تجویز کو بھی مسترد کر چکی ہے کہ اگر سنوڈین خفیہ دستاویزات کو منظر عام پر لانا بند کردے تو اس کی سزا معاف یا اس میں کمی کی جاسکتی ہے۔ اور اس مسئلے پر ہونی والی قانونی کارروائی میں کئی مہنے یا سال بھی لگ سکتے ہیں۔

امریکی حکومت کی جانب سے سنوڈین پر حکومتی راز کی چوری، اور قومی سلامتی سے متعلق حساس معلومات کو بنا اجازت منتقل کرنے اور جان بوجھ کر عوام کے سامنے لانے کے الزامات عاید کیے گئے ہیں اور جرم ثابت ہونے پر ہر الزام میں کم از کم دس سال قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔

روس میں سیاسی پناہ حاصل کرنے والے ایڈورڈ سنوڈین کی قسمت کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ روس کی جانب سے ان کی سیاسی پناہ کی مدت جولائی 2014میں ختم ہورہی ہے اور اس کی تجدید ہوگی یا نہیں اس بارے میں کچھ کہنا قبل از قیاس ہے، فی الوقت سنوڈین کی باہر سے مالی امدد جاری ہے، دنیا کے بہترین وکلا کی ٹیم اسے معاونت فراہم کر رہی ہے، اور وہ (سنوڈین)سیاسی پناہ کی مدت میں اضافے یا امریکی حکام کی جانب سے گفت و شیند کے لیے کسی پیش کش کا منتظر ہے۔ جب کہ امریکی محکمہ انصاف اس بات کا وعدہ کر چکا ہے کہ اسے سزائے موت نہیں دی جائے گی لیکن سنوڈین اپنے مستقبل کے بارے میں خود نہیں جانتا۔

کب کیا ہوا؟

20مئی: نیشنل سیکیوریٹی ایجنسی میں کنٹریکٹر کی حیثیت سے ملازمت کرنے والے ایڈورڈ سنوڈین چھٹی لے کر ہانگ کانگ پہنچ گئے۔

5جون: برطانوی اخبار’’دی گارجین‘‘ نے پہلی خبر شایع کی کہ نیشنل سیکیوریٹی ایجنسی (این ایس اے) لاکھوں امریکیوں کی فون کالز کا ریکارڈ جمع کر رہی ہے۔

6جون: امریکی اخبار ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ اور ’’دی گارجین‘‘ نے رپورٹ شایع کی کہ نیشنل سیکیوریٹی ایجنسی ’’گوگل‘‘،’’فیس بک‘‘،’’ایپل‘‘ اور دیگر ویب سائٹس پر موجود شہریوں کی معلومات جمع کر رہی ہے۔

8جون: امریکی صدر باراک اوباما نے این ایس اے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’’کوئی بھی آپ کی فون کالز نہیں سن رہا۔‘‘

9جون: ایڈورڈ سنوڈین نے اپنے ویڈیو بیان میں این ایس اے کی خفیہ دستاویزات افشا کرنے کا اعتراف کیا۔

13جون: ایف بی آئی کے ڈائریکٹررابرٹ میولر نے کانگریس کو بتایا کہ ’’اسنوڈین نے امریکا کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اور جلد ہی اسے پکڑ لیا جائے گا۔

17جون: سی این این کی جانب سے کرائے گئے ایک سروے کے مطابق امریکی نگرانی کا پروگرام منظر عام پر آنے کے بعد صدر باراک اوباما کی مقبولیت 53فی صد سے کم ہو کر45فی صد ہونے کا انکشاف ہوا۔

18جون: این ایس اے کے ڈائریکٹر ’’کیتھ الیگزینڈر‘‘ نے کانگریس کو بتایا کہ این ایس اے کے خفیہ نگرانی کے پروگرام کی بدولت دہشت گردی کے 50ممکنہ واقعات کو بروقت روکنے میں مدد ملی۔

22جون: وائٹ ہائوس نے ہانگ کانگ سے سنوڈین کو امریکا کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔

23جون: سنوڈین ہانگ کانگ سے ماسکو پہنچ گیا اور ہوائی اڈے پر عارضی قیام کرتے ہوئے سیاسی پناہ کے لیے کوشش شروع کردی۔

29جون: جرمنی کے جریدے Der Spiegelنے رپورٹ شایع کی کہ امریکی حکومت نے واشنگٹن میں یورپی یونین کے دفاتر اور نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر کی جاسوسی کی۔

یکم اگست: روس نے سنوڈین کو ایک سال کے لیے سیاسی پناہ دے دی جس کے بعد اس نے ایئر پورٹ چھوڑ دیا۔

15اگست: واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ شایع کی کہ این ایس اے نے ہزاروں مرتبہ اپنی قانونی حد سے تجاوز کیا۔

17ستمبر: برازیل کی صدر Dilma Rousseffنے امریکا کی جانب سے اپنی اور ریاستی انرجی کمپنی کی جاسوسی کی خبروں پر احتجاجاً اپنا دورہ امریکا ملتوی کردیا۔

21اکتوبر: یورپین پارلیمانی کمیٹی نے پرائیویسی کے قوانین کو مزید سخت کردیا جن کی خلاف ورزی پر امریکی کمپنیوں کو بھاری جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔

22اکتوبر: فرانسیسی اخبارLe Mondeنے رپورٹ شایع کی کہ این ایس اے نے اقوام متحدہ میں فرانسیسی وفد اور واشنگٹن میں فرانسیسی سفارت خانے کی ٹیلی فون کالز ریکارڈ کیں۔

28اکتوبر: این ایس اے کی جانب سے اسپینش شہریوں کی معلومات پر نظر ثانی کرنے کی دستاویزات منظر عام پر آنے کے بعد اسپین نے امریکی سفیر کو سمن جاری کردیا۔

29اکتوبر: ڈیموکریٹک سینیٹرPatrick Leahy اورجی او پی کے نمائندے Jim Senenbrenner (جنہوں نے امریکی نگرانی کو بڑھانے کے لیے پیٹریاٹ ایکٹ لکھا تھا) نے’’یو ایس فریڈم ایکٹ‘‘ متعارف کروایا۔ یہ بل امریکیوں کی فون کالز اور انٹرنیٹ پر کی جانے والی سر گرمیوں کی وسیع معلومات جمع کرنے کے لیے حد متعین کرے گا۔

30اکتوبر: واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ شایع کی کہ این ایس اے اور اس کے برطانوی ساتھیوں نے’’گوگل‘‘ اور ’’یاہو‘‘ کے غیرملکی سرورز کو ملانے والے فائبر آپٹک کیبلز سے معلومات حاصل کیں۔

31اکتوبر: اسنوڈین کی جانب سے جاری کی جانے والی دستاویزات میں ظاہر ہو ا کہ آسٹریلیا نے چین اور دیگر ایشیائی اقوام کی کی جاسوسی کے لیے امریکا کی مدد کی۔

31اکتوبر: سینیٹ اینٹیلی جنس کمیٹی کی چیئر پرسنDianne Feinstein نے ایک بل متعارف کرایا جس کی رو سے این ایس اے سالانہ ٹرانپیرینسی رپورٹ شایع کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر اقدامات بھی کرے گی۔

20نومبر: برطانوی اخبار گارجین نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ’’اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ این ایس اے ’’برطانوی’’،’’امریکی‘‘ اور امریکا کے دیگر اتحادی ممالک کے شہریوں کی جاسوسی کرنے کی مجاز ہے۔

26نومبر: اقوام متحدہ کے پینل نے انٹرنیٹ کی نگرانی سے مرتب ہونے والے’’منفی اثرات‘‘ پر جرمنی اور برازیل کے تحفظات اور دبائو پر ایک قرارداد کا مسودہ پاس کیا۔

4دسمبر: واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ شایع کی کہ این ایس اے دنیا بھر سے روزانہ 5ارب موبائل فونز لوکیشن کا ریکارڈ جمع کر رہی ہے۔

9دسمبر: ’’ایپل‘‘،’’گوگل‘‘،’’مائیکروسافٹ‘‘،’’فیس بک‘‘ سمیت آٹھ بڑی امریکی کمپنیوں نے واشنگٹن کو بھیجے گئے خط میں نگرانی کے پروگرام میں اصطلاحات کا مطالبہ کیا ۔

نیشنل سیکیوریٹی کونسل کے تحت چلنے والے نگرانی کے پروگرام

امریکا کی نیشنل سیکیوریٹی ایجنسی دنیا بھر میں نگرانی اور جاسوسی کے لیے مختلف پروگرام چلا رہی ہے، جن میں سے کچھ قابل ذکر پروگرام درج ذیل ہیں:

پرزمPrism : اس پروگرام کے تحت این ایس اے کا نے امریکی کمپنیوں ’’فیس بک‘‘،’’گوگل‘‘،’’ایپل‘‘ سمیت ٹیکنالوجی کی دوسری کمپنیوں سے غیرممالک کی نگرانی کے لیے معلومات کے حصول کے لیے درخواستیں کیں۔

مین وے MainWay : مین وے نامی اس پروگرام میں امریکا کی مواصلاتی کمپنیوں سے اُن کے ریکارڈ میں موجود کالز، ایس ایم ایس اور دیگر ریکارڈ این ایس اے کے حوالے کرنے کی درخواست کی گئی۔

فیئر ویو،Blarney,Oakstarاور اسٹارم بریو: نیشنل سیکوریٹی ایجنسی نے ان پروگرامز کے تحت فائبر آپٹک کیبلز سے گزرنے والی مواصلاتی معلومات جمع کیں۔

بل رنBullrun : این ایس اے کے بل رن پروگرام کے تحت کام کرنے والے امریکی ماہرین نے کوڈ پر مشتمل پیغامات (انکرپٹڈ میسیجز) کو ڈی کوڈ کرنے کا کام سر انجام دیا۔

ایکس کی اسکورXKeyscore : دنیا بھر میں انٹرنیٹ پر کسی مواد کی تلاش کے لیے درج کی گئی اصطلاحات پر مشتمل معلومات کو ایکس کی اسکور پروگرام کے ذریعے بڑے پیمانے پر جمع کیا گیا۔

ٹریک فنTracfin : اس پروگرام کے تحت این ایس اے نے رقوم اور کریڈٹ کارڈ کے ذریعے کی جانے والی ٹرانزیکشن کی معلومات حاصل کیں۔

٭ نیشنل سیکیوریٹی ایجنسی کے کام کرنے کا طریقۂ کار:

این ایس اے نے دنیا بھر سے معلومات کے حصول اور نگرانی کے لیے اپنے انفرااسٹرکچر کو تین حصوں میں تقسیم کیا۔

1۔ڈیوائسز، 2۔کمپنیاں، 3۔کمیونیکیشن اسٹرکچر

٭ ڈیوائسز کے ذریعے معلومات کا حصول

لینڈ لائن ٹیلی فونز: این ایس اے نے ’’لینڈ لائن ٹیلی فونز‘‘ کی مدد سے بات کرنے والوں کے فون نمبرز، اور کال کے دورانیے پر مشتمل دیٹا جمع کیا، جب کہ مکمل گفت گو تک رسائی کے لیے عدالتی حکم کی ضرورت تھی۔

جب کہ نیشنل سیکیوریٹی ایجنسی مستقبل میں جاسوسی اور معلومات کے حصول کے لیے ’’کیمرے‘‘،’’گھریلو بجلی کے میٹرز‘‘ اور ’’ہاتھ پر پہننے والے آلات‘‘ جو (عموماً نبض کی رفتار مانیٹر کرنے کے لیے پہنے جاتے ہیں) استعمال ہوسکتے ہیں۔

کمپیوٹرز: نیشنل سیکیوریٹی کونسل نے ٹارگٹ کیے گئے کمپیوٹرز کی نگرانی اور معلومات چرانے کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے۔

موبائل ٹیلی فونز: این ایس اے نے بڑے پیمانے پر نگرانی کے اس عمل میں دنیا بھر کے موبائل فون صارفین کی ’’کونٹیکٹ لسٹ‘‘،’’ای میلز‘‘ اور SMSتک رسائی حاصل کی۔

٭ کمپنیوں کے ذریعے معلومات کا حصول

نیشنل سیکیوریٹی ایجنسی نے نگرانی اور معلومات حاصل کرنے کے لیے تین مواصلاتی شعبوں پر توجہ مرکوز کی۔

بینکس ٹیلی کومز: این ایس اے نے بینکوں کو مواصلاتی سہولیات فراہم کرنے والی کمپنیوں سے دنیا بھر میں رقوم کی آن لائن منتقلی پر مشتمل معلومات حاصل کیں۔

ٹیکنالوجی کی کمپنیاں: امریکی کی ٹیکنالوجی کی صنعت سے وابستہ کچھ کمپنیوں نے این ایس اے کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کیا جبکہ نیشنل سیکیوریٹی ایجنسی نے کچھ کمپنیوں کے علم میں لائے بنا ان کے صارفین کی معلومات چرانے کا کام بھی سر انجام دیا۔

فون کیریئرز: نیشنل سیکیوریٹی کونسل نے عدالتی حکم کے ذریعے ’’ویریزون‘‘ اور ’’AT&T‘‘جیسی موبائل فون سروس پرووائیڈر کمپنیوں سے ان کے صارفین کی معلومات پر مشتمل ریکارڈ کے حصول کے لیے درخواست کی۔

٭ کمیونی کیشن انفرا اسٹرکچر کے ذریعے معلومات کا حصول

نیشنل سیکیوریٹی ایجنسی نے کمیونی کیشن انفرا اسٹرکچر کے ذریعے معلومات تین طریقوں سے حاصل کی۔

موبائل فون ٹاورز:اس طریقۂ کار میں این ایس اے نے فون کرنے یا وصول کرنے والے فرد کی پوزیشن اور سفر کی سمت معلوم کرنے کے لیے موبائل فون ٹاورز کا انتخاب کیا۔ کسی فرد کے موبائل فون کا ٹاور سے رابطہ ہوتے ہی این ایس اے کے ماہرین اس فون کال کی نوعیت اور اسے ریکارڈ کر سکتے تھے۔

فائبر آپٹک: این ایس اے دنیا بھر میں بچھے فائبر آپٹک کیبلز کے جال سے استعمال کنندہ کی ’’ای میلز‘‘،’’یوزر نیم‘‘،’’پاس ورڈز‘‘ اور ’’سوشل میڈیا‘‘ پر کی جانے والی تمام اپ ڈیٹس کو اپنے پاس کاپی (نقل) کر سکتا ہے۔

سیٹلائیٹس: این ایس اے نے ’’واکی ٹاکی‘‘،’’موبائل فونز‘‘ اور ’’راڈار سسٹم‘‘ پر کی جانے والی تمام تفصیلات سیٹلائٹ کے ذریعے حاصل کیں۔

Edword Snowden and US NSA Program
Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.