Header Ads

Breaking News
recent

کیا شریف ہونا جرم ہے؟

 
 

  یخ بستہ رات کی آخری پہر میں، میں میانی صاحب پہنچا تو چار سو سکوت مرگ طاری تھا ۔میں نے شہید کی قبر پر فاتحہ پڑھنے کے بعد اس کے پہلو میں لیٹے ہوئےشخص کو رشک بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے سوچا، دوستی کا تعلق بھی کیسا انوکھا ہوتا ہے۔جب سے گجرات کے عظیم المرتبت قصبے کُنجاہ شریف کے سپوت راحیل شریف نے عساکر پاکستان کے سربراہ کا عہدہ سنبھالا ہے،فاتح سبونہ شبیر شریف کی قبر پر حاضری دینے والوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔

میں بھی اسی بھیڑ چال میں میانی صاحب قبرستان پہنچا تو ایک دلچسپ روداد سامنے آئی۔شبیر شریف نے ازخود اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ انہیں یہاں دفن کیا جائے،صرف یہی نہیں بلکہ انہوں نے اپنی والدہ کو وہاں لیجاکر جگہ کی نشاندہی بھی کر دی تھی۔ اس خواہش کے پیچھے دوستی کی ایک لازوال داستان پوشیدہ ہے۔ان کے ایک دوست نے خودکشی کر لی تھی اور وہ یہیں میانی صاحب میں دفن ہے۔شبیر شریف نے علماء سے استفسار کیا کہ میرے دوست کی بخشش کی کیا صورت ہو سکتی ہے؟

انہیں بتایا گیا کہ اگر اس کی قبر کے ساتھ کسی شہید کو دفن کیا جائے اور وہ شہید اس کا سفارش کنندہ ہو تو معافی کی توقع کی جا سکتی ہے لہٰذا شبیر شریف نے طے کر لیا کہ جب اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے وہ شہید ہوں تو انہیں اس دوست کے پہلو میں سپرد خاک کیا جائے۔فاتح سبونہ کی بہادری تو بے مثل ہے ہی۔ آپ نے محاذ جنگ پر ان کی شجاعت کے بے شمار واقعات سنے ہوں گے مگر میں ان کی دوستی،انسانیت اور دوراندیشی و بصیرت کا معترف ہوں۔ پاک فوج نے مشرقی محاذ سے توجہ ہٹانے کیلئے مغربی محاذ پر دبائو بڑھانے کا فیصلہ کیا تو بھارتی افواج نے پیشگی اس خطرے کو بھانپ لیا اور مغربی سرحد پر ایک مصنوعی پہاڑی بنا لی جسے سبونہ کہا جاتا ہے۔اس پہاڑی کی وجہ سے بھارتی فوج کو دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے میں بھی آسانی ہو گئی۔ پہاڑی کے سامنے ایک اور رکاوٹ کے طور پر دریا کھودا گیا تاکہ پاک فوج پیش قدمی کرتے ہوئے آرٹلری استعمال نہ کر سکے۔ اس دریا پر دو پُل تھے جو بھارتی فوج کے زیر انتظام تھے۔ ان حالات میں میجر شبیر شریف کو حملہ کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔3دسمبر کو بھارتی گائوں بیری والا عبور کر کے پاک فوج کے جوانوں نے اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے یلغار کر دی،دو بنکر پہلے ہی ہلے میں تباہ ہو گئے اور تیسرے بنکر کے سامنے کھڑے میجر شبیر شریف نے دشمن کو للکارا تو اندر سے ہینڈ گرنیڈ پھینکا گیا جو انہوں نے تھام کر واپس دشمن کی طرف اچھال دیا۔

یہ آپریشن 30منٹ میں مکمل ہو گیا اور سبونہ کی پہاڑی پر سبز ہلالی پرچم لہرا دیا گیا۔یہ مورچہ واپس لینے کے لئے بھارتی فوج نے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا لیکن ہر بار منہ کی کھانا پڑی۔میجر نریان سنگھ نے تو کمپنی کمان ہی اس عہد کے ساتھ سنبھالی کے آج سبونہ کی پہاڑی واپس لیکر شبیر شریف کی لاش لائوں گا یا خود مر جائوں گا۔ دوران جنگ ایک موقع پر اس نے شبیر شریف کو للکارا ،اگر ہمت ہے تو سامنے آئو۔ میجر شبیر شریف نے اپنی پوزیشن چھوڑی تو نریان سنگھ نے ہینڈ گرنیڈ اُچھال دیا۔ فاتح سبونہ کی قمیص میں آگ لگ گئی لیکن دوبدو لڑائی میں اپنے مقابل میجر نریان سنگھ کو چاروں شانے چت کر کے چھاتی پر بیٹھ گئے اور اس کی اسٹین گن اپنے قبضے میں کر لی۔کچھ سپاہیوں نے زخمی ہونے کی وجہ سے پیچھے جانے کا مشورہ دیا تو کہنے لگے،جب میں ایک عام لفٹین تھا تب پیچھے نہیں ہٹا تو اب اپنے جوانوں کو چھوڑ کر کیسے واپس جا سکتا ہوں۔ 1965ء کی جنگ میں زخمی ہونے پر اسپتال لایا گیا اور ایک بازو پر پلاستر چڑھانے کے بعد ڈاکٹر نے کہا کہ آپ اب جنگ لڑنے کے قابل نہیں تو اسپتال سے بھاگ نکلے اور باقی جنگ اسی حالت میں لڑی کہ ایک بازو پر پلاستر بندھا تھا۔سبونہ کے محاذ پر دو ایسے واقعات ہیں جو ان کے کردار کی عظمت اور سپاہیانہ بصیرت کو آشکار کرتے ہیں۔

پہلا واقعہ 3 دسمبر کا ہے جب انہوں نے فتح کے جھنڈے گاڑے ہی تھے کہ ایک عمر رسیدہ شخص نے آواز دیکر کہا،بیری والا پر پاکستانیوں نے قبضہ کر لیا ہے۔ہم دوپہر میں بارات لیکر یہاں آئے تھے اب واپس اپنے گائوں Gurmakhera جانا ہے ،ہمیں ان سے بچائو۔ اس کا خیال تھا کہ یہ بھارتی فوج کے جوان ہیں ۔میجر شبیر شریف نے اس بھارتی شہری کو حقیقت سے آگاہ کر کے مزید خوفزدہ کرنے کے بجائے تسلی دی اور کہا کہ آپ فوراً نکلیں یہاں سے،آپ کو کوئی کچھ نہیں کہے گا اور اس کے بعد پوزیشنیں سنبھالے تمام جوانوں کو پیغام دیدیا گیا کہ ایک بارات جا رہی ہے اسے کچھ نہ کہا جائے۔ایک سپاہی نے کہا،سر انہیں ہم بآسانی جنگی قیدی بنا سکتے تھے ،آپ نے کیوں جانے دیا؟میجر شبیر شریف نے کہا ،دل کی سنو جوان! یہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہے، انسانیت بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔دوسرا واقعہ 4 دسمبر یعنی اس سے اگلے دن کا ہے جب بھارتی افواج نے اس پہاڑی کا قبضہ واپس لینے کے لئے ٹینکوں سے دھاوا بولنے کا فیصلہ کیا۔ مخبری مل جانے پر دو راکٹ لانچر اس طرح نصب کئے گئے کہ ٹینکوں کو قریب آنے سے پہلے ہی نشانہ بنا دیا جائے جبکہ ایک راکٹ لانچر میجر شبیر شریف کے قریب رکھا گیا تاکہ اگر پہلے دو نشانے چوک جائیں تو اسے بروئے کار لایا جا سکے۔

ادھر دشمن نے نہایت مہلک چال چلی، ٹینکوں پر سبز ہلالی پرچم لہرا کر اس طرح کا ماحول پیدا کیا گیا جیسے پاک فوج کی کمک آ رہی ہو۔ شب گیارہ بجے کے قریب یہ ٹینک قریب پہنچے اور کوئی فائر نہ ہوا تو میجر شبیر شریف نے وائرلیس پر پوچھا کہ راکٹ فائر کیوں نہیں کئے گئے۔ وہاں موجود سپاہیوں نے کہا،سر!یہ تو پاک فوج کے ٹینک ہیں۔ میجر شبیر شریف کا ماتھا ٹھنکا کہ یہ کہیں دشمن کی چال نہ ہو کیوں کہ پاک فوج کی طرف سے ٹینک آتے تو سامنے کے بجائے پیچھے سے آتے اور پہلے اطلاع بھی دی جاتی۔انہوں نے فائر کرنے کا آرڈر دیا لیکن سب نے پس و پیش سے کام لیا کیونکہ کنفیوژن پیدا ہو گئی تھی۔چنانچہ میجر شبیر شریف نے خود پہل کرتے ہوئے راکٹ فائر کیا اور جب روشنی میں پگڑیوں اور داڑھیوں والے سکھ فوجی نظر آئے تو سب کو دشمن کی اس مہلک چال کا اندازہ ہوا۔

میں نے میجر شبیر شریف کی کتاب زیست سے ان واقعات کا انتخاب اس لئے کیا کہ راحیل شریف کے ایک کورس میٹ کے مطابق انہیں اپنی بھائی کی لاج بہت عزیز ہے اور وہ کوئی بھی کام کرتے وقت یہ ضرور سوچتے ہیں کہ کہیں ان کی خاندانی ناموس پر کوئی حرف نہ آ جائے۔اگر ان کے شہید بھائی نے اپنے دشمنوں سے جنگ کے دوران انسانیت کو مقدم جانا تو مجھے امید ہے کہ جنرل راحیل شریف اپنے باغی ہم وطنوں کے خلاف لڑائی میں احترام آدمیت کو پیش نظر رکھیں گے اور لاپتہ افراد کے سلگتے ہوئے مسئلے پر پہلی فرصت میں غور کریں گے اور اپنے بڑے بھائی کی طرح سپاہیانہ دور اندیشی اور بصیرت کو بروئے کار لاتے ہوئے درست فیصلہ کریں گے۔ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کو کئی دن بیت چکے مگر بھانت بھانت کے تبصروں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔جنرل ہارون کے سپر سیڈ ہونے پر اور نواز شریف کو ہدف تنقید بنانے والوں کو وہ وقت یاد نہیں جب 8 جرنیلوں کو سپر سیڈ کر کے اپنی مرضی کا آرمی چیف لایا جاتا تھا۔ کسی کو نئے آرمی چیف کے شریف ہونے پر اعتراض ہے تو کسی کو ان کا کشمیری پس منظر ایک آنکھ نہیں بھا رہا۔اگر نام کی مماثلت ہی رد کئے جانے کی وجہ قرار پاتی تو پرویز مشرف کے بعد پرویز الہٰی اور پرویز اشرف معتوب قرار پاتے۔جب تنقید و تعریض کی گرد اُڑتے دیکھتا ہوں تو ایک ہی جملہ بار بار ذہن پر ہتھوڑتے برساتا ہے کہ کیا ہمارے ملک میں شرافت کی طرح شریف ہونا بھی جرم ہے؟

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

محمد بلال غوری

 
 
Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.