Thursday, December 26, 2013

صبح بھی آئی تو مجرم ہم ہی گردانے گئے


حکومت طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے جا رہی ہے یا فوج شمالی وزیرستان میں آپریشن؟ وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے ۔ کمانڈر گل بہادر، مولانا فضل الرحمن اور عمران خان کے بیانات آپریشن کی چغلی کھاتے ہیں اور دو قبائل ارکان قومی اسمبلی فوجی ایکشن میں ستر معصوم شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ کرتے ہیں جن میں بچے اور خواتین شامل ہیں مگر حکومت کے طوطی ہفت زبان چودھری نثار علی خاں خاموش ہیں، ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم۔

امریکہ شمالی وزیرستان میں فوری فوجی آپریشن کا خواہش مند ہے اور مذاکرات کا مخالف، اسے خدشہ یہ ہے کہ حکومت طالبان مذاکرات کامیاب رہے تو طالبان کے سارے گروپ افغانستان کا رخ کریں گے جبکہ بھارت خوفزدہ ہے کہ یہ مقبوضہ کشمیر میں اپنے مظلوم کلمہ بھائیوں کی مدد کے لئے قدم بڑھا سکتے ہیں ۔1948ء کی طرح حکومت پاکستان گومگو کا شکار ہے کہ وہ امریکہ کو ناراض کرنا چاہتی ہے نہ بھارت کو پریشان اور پنجاب کو میدان جنگ بنانا بھی نہیں چاہتی اونٹ کی سواری کا شوق اور کوہان کا ڈر۔

ایک فوجی آپریشن آج سے بیالیس سال قبل ہمارے مشرقی بازو، مشرقی پاکستان میں بھی ہوا تھا جہاں فوج ، پولیس، پیرا ملٹری فورسز اور دیگر مسلح اداروں کے باغیوں، بھارت کی تربیت یافتہ مکتی باہنی ،علیحدگی پسندوں، غداروں اور غیر ملکی ایجنٹوں نے ڈھاکہ، چٹاگانگ، کھلنا، کوسیلا، جیسور اور دیگر شہر و دیہات میں پاکستان کے وفادار بنگالیوں اور غیر بنگالیوں، فوجیوں، پولیس و انتظامیہ کے افسروں و اہلکاروں اور ان کے اہلخانہ کو قتل وغارت گری، آبروریزی، آتش زنی اور تشدد کا نشانہ بنا کر نسل کشی کے نئے ریکارڈ قائم کئے تھے۔پاکستان کا پرچم سرعام جل رہا تھا علیحدگی کے نعرے معمول تھے اور جنسی تشدد محبوب مشغلہ خدا کا شکر ہے دس سالہ دہشت گردی میں پاکستان ایسی کارروائیوں کا نشانہ نہیں بنا۔

مشرقی پاکستان میں فوج نے کن حالات میں آپریشن کیا اس کی ایک جھلک ایسوسی ایٹڈ پریس آف امریکہ کی ایک رپورٹ (مئی 1971ء) میں ملتی ہے ’’جن نامہ نگاروں نے ساحلی شہر چاٹگام کا دورہ کیا انہیں معلوم ہوا کہ یہاں باغیوں نے ہزاروں (جی ہاں ہزاروں) غیر بنگالیوں کو چن چن کر موت کے گھاٹ اتارا ، ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ باغیوں نے چاٹگام پر قبضہ کے بعد غیر بنگالیوں کی نسل کشی کی۔11اپریل1971ء کو فوج نے بھرپور کارروائی کے بعد قبضہ چھڑایا ‘‘

امریکہ اخبار واشنگٹن ایوننگ سٹار نے 12مئی 1971ء کو اپنے نمائندے مارٹ روزن بام کی رپورٹ شائع کی ’’اصفہانی جوٹ مل کے کلب میں 180غیر بنگالی عورتوں اور بچوں کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ جنونی باغیوں نے قتل عام سے قبل لوٹ مار کی اور عورتوں کی آبروریزی جبکہ مقامی باشندوں نے بتایا کہ بستیوں اور بازاروں میں غیر بنگالیوں کا پیچھا کرکے مارا گیا 350غیر بنگالی نوجوانوں کو جلا کر مار دیا‘‘

دی سنڈے ٹائمز (لندن) کے مطابق چاٹگام میں ملٹری اکیڈیمی کے کمانڈنگ کرنل کو شہید کر دیا گیا اس کی حاملہ بیوی سے زیادتی کی گئی اور اس کا پیٹ چاک کرکے سڑک پر پھینک دیا۔ ایسٹ پاکستان رائفلز کے ایک اعلیٰ افسر کو زندہ جلا دیا گیا اس کے دو بیٹوں کے سر قلم کئے گئے افسر کی بیوی کا آبروریزی کے بعد پیٹ چیر دیا گیا اور برہنہ جسم پر بیٹے کا سر رکھ دیا گیا۔بہت سے غیر بنگالیوں کی لاشیں ملیں جن کے نازک اعضا میں بنگلہ دیشی پرچم کی ڈنڈیاں گڑی تھیں ‘‘ایسی ہی رپورٹیں 1971ء میں نیویارک ٹائمز اور ڈیلی ٹیلی گراف کے نمائندوں میلیکم برائون اور پیٹر گل کے حوالے سے شائع تھیں مگر آج تک حوالہ صرف ان پمفلٹوں، بیانات اور تشہیری مواد کا دیا جاتا ہے جو بھارت ، عوامی لیگ، مکتی باہنی نے پاکستان، فوج اور رضاکاروں کو بدنام کرنے کے لئے پھیلایا کہ معصوم، غیر مسلح اور سیاسی جدوجہد کرنے والے بنگالیوں کو لاکھوں کی تعداد میں تہہ تیغ کیا گیا، تین لاکھ خواتین سے زیادتی ہوئی اور دانشور و پروفیسر فوجی تشدد کا نشانہ بنے وغیرہ وغیرہ۔

جنرل یحییٰ خان، ٹکا خاں اور نیازی کی حماقتیں اپنی جگہ، غیر ملکی صحافیوں کو فائیو سٹار ہوٹل تک محدود کرنا بہت بڑی غلطی تھی جہاں سے من پسند رپورٹیں بھیجی جاتی رہیں اور یہی پروپیگنڈا، مواد ان دنوں انٹرنیٹ پر موجود ہے مگر بنگالی سکالرز نے جو کتابیں لکھیں، وہ نوجوان نسل بالخصوص ہمارے لکھاریوں کو ضرور پڑھنی چاہئیں بالخصوص وہ بنگال سکالرز جو عوامی لیگ کے حامی اور پاکستان کے مخالف تھے۔ ڈاکٹر عبدالمنعم چودھری انہی میں سے ایک ہیں جو اپنی کتاب BEHIND THE HYTH OF THREE MILLIONمیں بنگالیوں کے قتل، خواتین کی آبروریزی اور دیگر پروپیگنڈے کے واقعات وشواہد اور دلائل کے ساتھ نفی کرتے ہیں اور مکتی باہنی سے مظالم کی داستان تفصیل سے سناتے ہیں۔

سید سجاد حسین کی THE WASTE OF TIME اور ولیم شریف اسحاق کی کتاب BANGLADESH -A UNTOLD STORYمیں بھی شیخ مجیب الرحمن کے بھارت سے رابطوں عوامی لیگ کی غنڈہ گردی اور بہیمانہ مظالم کے علاوہ مکتی باہنی کی تخریب کاری کا ذکر موجود ہے جبکہ عبدالمنعم چودھری نے ڈھاکہ اور راجشاہی یونیورسٹی کے اساتذہ اور بنگالی دانشوروں کے خلاف پاک فوج کی کارروائی، اذیتیں دیکر مارنے اور اجتماعی قبروں میں دفن کرنے کی کہانیوں کا پردہ چاک کیا ہے ۔ اس ضمن میں عبدالمنعم چودھری نے عینی شاہدین کے بیانات واقعاتی شہادتوں سے جیوتی سین گپتا، عبدالحسنات اور جوہری کے دعوئوں اور غیر حقیقی اعدادوشمار کے بخئے ادھیڑے ہیں۔


عبدالمنعم چودھری نے اپنی کتاب میں ایک بنگالی دانشور شہید اللہ قیصر کے چھوٹے بھائی ظہیر ریحان کا حوالہ دیا ہے جو اپنے بھائی کے اصلی قاتلوں کی تلاش میں حقائق اکٹھے کرتا رہا اس کے پاس کچھ تصویریں تھیں اور کلکتہ میں مقیم ایک بڑے عوامی لیگی رہنما کے بارے میں معلومات مگر اسے دن دیہاڑے اغوا کرکے غائب کردیا گیا کیونکہ اغوا کار نہیں چاہتے تھے کہ دانشوروں کے قتل کا افسانہ طشت ازبام ہو اور عوامی لیگی پروپیگنڈے کی قلعی کھلے۔ ان دانشوروں میں منیر چودھری بھی تھے جو ہمیشہ پاکستان دشمنی میں پیش پیش رہے ۔

ڈر یہ ہے کہ جس طرح مشرقی پاکستان میں بغاوت کچلنے اور بے گناہ غیر مسلح پاکستانیوں کا تحفظ کرنے کے لئے پاک فوج میدان میں کودی اور آج تک مجرموں کے کٹہرے میں کھڑی ہے جبکہ اس کا ساتھ دینے اور پاکستان سے وفاداری نبھانے والے عبدالقادر ملا، صلاح الدین چودھری اور مولانا غلام اعظم پر سب وشتم جاری ہے صرف بنگلہ دیش نہیں بلکہ پاکستان میں بھی بالکل اسی طرح کہیں شمالی وزیر ستان کا آپریشن بھی کسی قومی پچھتاوے اور شرمندگی کا باعث نہ بن جائے ۔پاک فوج کیخلاف دشنام طرازی اور الزام تراشی تو قومی اور عالمی میڈیا، دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کا مرغوب موضوع ہے ۔کارگل، بلوچستان، لال مسجد اور مسنگ پرسنز کے حوالے سے مہم بھی سبق آموز ہے ۔

تنہا کھڑا ہوں میں بھی سر کربلائے عصر

اور سوچتا ہوں مرے طرفدار کیا ہوئے

مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن پر سارا مغربی پاکستان بشمول قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو فوج کے ساتھ تھا مگر یہاں تو حکومت بھی یکسو نہیں ۔اگر خدانخواستہ منفی نتائج سامنے آئے تو حکومت سب سے پہلے اظہار جرات کرے گی (کارگل کی طرح) اور سول بالادستی کے ہیضے میں مبتلا انٹیلی جنشیا بڑھ چڑھ کر فوج کو مورد الزام ٹھہرائے گی جبکہ فوج کے روایتی حلیف بھی خاموشی کو ترجیح دیں گئے کیونکہ مشرقی پاکستان، افغانستان اور کشمیر کے زخم ابھی تازہ ہیں آپریشن کی خواہش سے مغلوب فوجی بھائی بھولے نہیں مگر شائد کچھ بھول رہے ہیں ۔

دیتے بھی ہیں لوگ دہائی قاتل کی

اور خنجر بھی آپ فراہم کرتے ہیں

ارشاد احمد عارف

بشکریہ روزنامہ 

جنگ

  

Enhanced by Zemanta
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...