Header Ads

Breaking News
recent

ہم اور ہماری سمت

 

 
ٹرین میں ایک شخص سیٹ نہ ملنے کی وجہ سے اپنے ایک بچے کے ساتھ بالکل دروازے کے قریب سفر کر رہا تھا۔اس کا بچہ بار بار دروازے کی طرف لپکتا تو بچے کا باپ بے حس و حرکت کھڑا رہتا جبکہ ارد گرد کھڑے دوسرے مسافر فکر مند ہو جاتے اور اس بچے کو روکنے کی کوشش کرتے کہ کہیں حادثہ نہ ہو جائے اور وہ سوچتے کہ بچے کے باپ کا رویہ اس قدر لاپروا کیوں ہے ۔ ایک دو مرتبہ انہوں نے بچے کے باپ کو تنبیہ بھی کی کہ بچے کا خیال رکھیں لیکن باپ بچے کی طرف ذرا غصے سے دیکھتا اور پھر لاپروائی سے سست ہو کر کھڑا ہو جاتا۔ٹرین میں سفر کرنے والے ایک شخص سے نہ رہا گیا اس نے بچے کے باپ کو جنجوڑتے ہوئے کہا کہ آپ دیکھ نہیں رہے کہ آپ کا بچہ نہ صرف دروازے کے قریب کھیل رہا ہے بلکہ وہ جس طرح خطرناک انداز میں دروازے کی طرف لپکتا ہے اس سے کوئی حادثہ ہو سکتا ہے۔بچے کے باپ نے گھور کر اس شخص کی طرف دیکھا اور بولا کیا حادثہ ہو جائے گا اور کون سا بڑا حادثہ ہو جائے گا۔وہ شخص کچھ لمحے خاموش رہا پھر کہنے لگا کہ کیا اس سے بڑا حادثہ ہوگا کہ میں نے قرضہ لے کر پسند کی شادی کی تھی جس کی پاداش میں والدین نے گھر سے نکال دیا۔والدین تو گئے ہی تھے اور قرضہ بھی میرے سر پر چڑھ گیا تھا لیکن چند سالوں میں بیوی نے ایسے انداز دکھائے کہ دن میں تارے نظر آنے لگے ہیں اور وہ ناراض ہو کر میکے جا پہنچی ہے۔کئی ماہ سے کوششوں کے باوجود واپس آنے کا نام نہیں لے رہی اور اس نے میرے خلاف کیس بھی کر دیا ہے ۔بیوی کو منانے اور بھاگ دوڑ میں جو ایک چھوٹی سی نوکری تھی اس سے بھی فارغ ہو چکا ہوں ۔دو بچے ہیں ایک بچہ پتنگ کی ڈور پھر جانے کی وجہ سے زخمی ہے اسے اپنے ایک عزیز کے پاس چھوڑ کر بیوی کو منانے کی آخری کوشش میں جا رہا ہوں۔آپ حادثے کی بات کرتے ہیں تو آپ کو بتا دوں کہ چلتی ٹرین میں سوار ہونے اور بچوں کو سنبھالنے کی فکر میں بچے کے کپڑوں کا بیگ اسٹیشن پر ہی بھول آیا ہوں۔ آپ حادثے کی بات کرتے ہیں تو سنیں گاڑی میں سوار ہونے کے بعد مجھے احساس ہوا ہے کہ کسی جیب کترے نے میری جیب سے پرس اڑا لیا ہے جس میں کچھ رقم اور ٹرین کے ٹکٹ بھی تھا۔ آپ کسی حادثے کی بات کرتے ہیں۔ کیونکہ مجھے کافی سفر طے کر لینے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ میں غلط ٹرین پر سوار ہو چکا ہوں اور اس وقت اپنی منزل سے بالکل الٹی سمت سفر کررہا ہوں۔ بچے کا باپ ابھی کسی مزید حادثے کی بات کرنا چاہتا تھا کہ ایک مسافر نے بچے کی طرف اشارہ کرکے اسے احساس دلایا کہ اس کے بچے نے وہ کچھ کردیا ہے جس کے لیے پانی اور دوسرے کپڑوں کی اشد ضرورت ہوگی۔


اگر ہم سب اپنے ارد گرد غور کریں تو پاکستان میں بھی ایسی ہی صورتحال ہے۔ ہر طرف کسی نہ کسی کے گرنے کا خدشہ ہے، کسی نہ کسی حادثے کا خدشہ ہے کیونکہ ہم نے حقیقت پسندی سے کام لیے بغیر کہیں پسند کی شادی کی ہوئی ہے اور کہیں زبردستی سے تعلقات کشیدہ ہیں۔ ہم نے نہ خود انحصاری سیکھی ہے اور نہ چادر کی پیمائش کا اندازہ لگایا ہے ہم تو نواب ہیں اور وہ بھی ایسے نواب جو صرف اپنی ذات کے مفاد میں سب کچھ کرتاہے اور جو کوئی کا م کرنا چاہتا ہے اس کے ارد گرد اتنے حصار ہیں کہ ان میں پھنستا چلا جاتا ہے۔ ہم پہلے ٹارگٹ حاصل نہیں کرپاتے کہ نئے ٹارگٹ آجاتے ہیں لیکن اس سے بھی بڑھ کر یہ بات ہے کہ ہم اکثر ایسی ٹرین میں سوار ہیں جو بالکل منزل کی الٹی سمت چل رہی ہے اور حقیقت تو ہے کہ ہمیں درست سمت معلوم ہی نہیں ہے۔معلوم ہی نہیں کہ دہشت گردی کا مسئلہ حل کرنے کے لئے کیا کرنا ہے۔ معلوم ہی نہیں کہ بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لئے کیا کرنا ہے۔معلوم ہی نہیں کہ گیس کی سپلائی کیسے پوری کرنی ہے۔معلوم ہی نہیں کہ معیشیت کو مستقل فروغ کیسے دینا ہے ۔تمام قومیں جو ترقی کرتی ہیں، وہ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت ترقی کرتی ہیں۔ پچھلے دنوں پلاننگ کمیشن آف پاکستان نے کنونشن سنٹر اسلام آباد میں ایک بہت بڑی ـ"ویژن "2025 کے نام سے ایک کانفرنس منعقد کی، جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو ملک کے بہتر مستقبل کی منصوبہ بندی کے لئے ایک ساتھ اکٹھا کیا گیا۔اب لازم ہے کہ اس کانفرنس میں ہونے والی منصوبہ بندی سے ایک پلان تیار کیا جائے جس سے پوری قوم کو بھی آگاہ کیا جائے اور اس پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔تا کہ پاکستان بھی ایک ترقی یافتہ ملک بن سکے۔

Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.