Thursday, December 26, 2013

مستقبل کا سفر


ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف جو اس وقت پاکستان کے آئین سے غداری اور ملک میں دو دفعہ ہنگامی حالت نافذ کرنے کے علاوہ پاکستان کی سپریم کورٹ کے ججوں کو نظر بند کرنے کے الزامات کے تحت پاکستانی عدالتوں میں انصاف کیلئے سرگرداں ہیں نے موجودہ پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کو ایک فوجی انقلاب کے ذریعے اقتدار سے ہٹا کر قیدو بند میں ڈال دیا تھالیکن بعض عالمی طاقتوں کے دباؤ پر رہا کرکے سعودی عرب جلاوطن کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ مزید برآں ملک میں گزشتہ عام انتخابات کے نتیجے میں جب پیپلزپارٹی برسراقتدارآئی تو انہیں صدارت سے استعفےٰ دے کرآصف علی زرداری کے لیے جگہ خالی کرنی پڑی اور وہ بذات خود ، خودساختہ جلاوطنی پر لندن روانہ ہوگئے۔اب یہ قدرت کا نظام ہے کہ وہی پرویز مشرف جنہوں نے نواز شریف کو قید میں ڈالا تھا خود اپنے ہی گھر میں نظر بند ہے اور نواز شریف گزشتہ عام انتخابات کے نتیجے میں پاکستان کے تیسرے وزیر اعظم منتخب ہو چکے ہیں جو پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک ریکارڈ ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں معیشت کا حال دگرگوں تھا، توانائی کا بحران شدت اختیار چکا تھا، نیزدہشت گردی اور خودکش بم دھماکوں نے پاکستانی عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی تھی۔یہی وجوہ تھیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو پاکستانی عوام نے مسترد کردیا اور نواز شریف کو یہ مینڈیٹ دیا کہ وہ ملک کی معاشی حالت سدھارنے کے علاوہ توانائی کے بحران کو بھی حل کریں، نیز ملک سے دہشت گردی کا بھی خاتمہ کریں جیسا کہ انہوں نے اپنے منشور میں عوام سے وعدہ کیا تھا۔

حکومت میں آتے ہی نواز شریف اور ان کی کابینہ نے متذکرہ بالا اہداف کے حصول کے لیے کوششیں شروع کردی اور مختلف قسم کی حکمت عملیاں اپنائی جن کے نتیجے میں حالات میں پہلے سے کہیں بہتری نظر آرہی ہے۔ سال روا ں میں پاکستان کے اعلیٰ عہدوں پر فائز بعض عہدے داران کی مدت ملازمت بھی ختم ہوئی اور ان کے جانشینوں کا مسئلہ بھی بخوبی حل کر لیا گیا۔

جسٹس تصدیق حسین جیلانی کے پاکستان کے چیف جسٹس بنتے ہی ملک نے سال رواں کا تیسرا سفر مکمل کر لیا ہے۔ ایک تاریخی سیاسی سفر کے دوران ایک منتخب حکومت نے دوسری منتخب حکومت کو اقتدار منتقل کیا اور اس کے نتیجے میں محمدنواز شریف نے پاکستان کا تیسری دفعہ وزیراعظم منتخب ہو کر ریکارڈ قائم کیا۔اگلا سفر بھی نہایت ہی پُرسکون انداز میں طے پایا یعنی پاکستان کے نئے سپہ سالارنے کمان سنبھالی۔ لیکن اب ملک کا چوتھا سفر، ملک کے مستقبل کے لیے نہایت ہی فیصلہ کن اور نتیجہ خیز ثابت ہوگا۔ یہ ملک کا معاشی سفر ہے ۔۔۔ جس کے آغاز میں دگرگوں معیشت موجود ہے لیکن اس سفر کا اختتام لازمی طور پر ترقی اور سرمایہ کاری کی معیشت کے حصول پر ہونا چاہیے۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر ملک کو غیرمستحکم اور غیریقینی داخلی اور غیرملکی قرضوں یا امداد پر انحصار کے بجائے قومی وسائل وذرائع کی مناسب تقسیم اور نقل وحرکت پر انحصار کرنا چاہیے۔

اب جبکہ نواز شریف نے ملک کے معاشی احیا کو اپنی پہلی ترجیح بنا لیا ہے، انہیں چاہیے کہ وہ اپنی جماعت کے منشور پر نظر رکھتے ہوئے اس مشکل سفر کے لیے سمت مقرر کریں۔ ان کے جماعتی منشورکے مطابق،ٹیکسوں کے ذریعے آمدنی میں اضافہ اور غیرملکی قرضوں پر انحصار کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ منشور میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ادائیگیوں کے توازن میں خسارہ کم کیا جائے، توانائی کے بحران کو حل کیا جائے اور سرمایہ کاری کے لیے ماحول سازگار بنایا جائے۔

ان ترجیحات کی نشاندہی کے بعد حکومت نے اپنے پہلے چند ماہ میں کہیں زیادہ تیزرفتاری سے کام کیا تاکہ معاشی استحکام اور ترقی کے لیے سازگارماحول تشکیل دینے کے درمیان توازن قائم کیا جائے۔ اس ضمن میں مطلوب طریقوں میں مالی استحکام، وسیع پیمانے تشکیل دی گئی توانائی حکمت عملی کے مطابق الیکٹریسٹی کے ٹیرف میں اضافہ اور نج کاری کے عمل کو تیز کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کو مشکلات کا احساس ہے اور یہ بھی بخوبی علم ہے کہ ان مشکلات سے کیسے نمٹا جا سکتا ہے۔ حکومت کو یہ بھی علم ہے کہ ادائیگیوں کے تواز ن کے خسارے کو کس طرح دور کیا جا سکتا ہے، معاشی اصلاحات کیسے انجام دی جا سکتی ہیں، نیز کاروباری اعتماد کیسے تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ اب ضرورت ہے کہ ان تمام اہداف کے حصول کے لیے بیک وقت اور بلا تاخیر اقدامات اٹھائے جائیں۔

مزیدیہ کہ حکومت کے ابتدائی اقدامات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں مالی ماحول کی تشکیل اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، ملک میں معاشی ترقی کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس حکمت عملی کی تشکیل کے بعد حکومت کو چاہیے کہ وہ اس ضمن میں کی گئی کارروائیوں کا تسلسل جاری رکھے۔ اس سے یہ بھی مراد ہے کہ وعدے کے مطابق،حکومت کو جامع ٹیکس اصلاحات کی طرف قدم بڑھانا چاہیے۔ بلاشبہ، یہ کام ،سیاسی طور پر آسان نہیں اور مشکل حالات میں مشکل فیصلے درکار ہیں۔ یہ حکمت عملی،رعایتوں اور مراعات کے خاتمے پر مشتمل ہے جو کافی عرصہ سے سماجی اداروں اور افراد کو دی گئی ہیں۔ ایس آر او کلچر کے باعث ملک کو کروڑوں کا نقصان اٹھانا پڑا جس کے باعث ملک میں کاروباری ماحول تشکیل نہیں پا سکا۔ حقیقت یہ ہے کہ 2007ء اور2012ء کے درمیان نجی سرمایہ کاری کی شرح13سے کم ہو کر 9 فیصد ہو چکی تھی۔ 2012ء میں بنک کریڈٹ کا بہت کم حصہ نجی شعبے کو ملا۔ 2013ء میں نجی شعبے کو کل کریڈٹ کا بھی بہت کم حصہ ملا۔ سرمایہ کاری کے لیے مستحکم ماحول کی تشکیل کے لیے حکومت کی طرف سے قرضے حاصل کرنے کی شرح کم ہونی چاہیے۔ ان کے علاوہ ملکی معیشت کی ترقی کے لیے توانائی کے بحران کے خاتمے کے علاوہ نج کاری کا عمل تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ وزیراعظم نے حزب مخالف کو با رہا کہا ہے کہ ملک کی معیشت کی ترقی کے لیے سیاست کے کھیل سے باہر رہا جائے۔ مزیدبرآں وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ ملک کی معاشی ترقی کے لیے مطلوب اقدامات کے ضمن میں قومی اتفاق رائے پیدا کریں تاکہ معاشی طور پر مستحکم پاکستان کے خواب کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔

ڈاکٹر ملیحہ لودھی

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

Enhanced by Zemanta