Header Ads

Breaking News
recent

مولانا ابو الکلام آزاد ۔ ..... بے باک صحافی، بہترین مفسر.



بے مثل انشاء پرداز، جادو بیان خطیب، بے باک صحافی، بہترین مفسر، عظیم سیاسی رہنما اور تحریک آزادئ ہند کی نامور شخصیت مولانا ابو الکلام آزاد 1888ء میں آج ہی کے روز یعنی 11 نومبر کو مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اصل نام محی الدین احمد تھا جبکہ والد اک تاریخی شخصیت کے نام پر آپ کو فیروز بخت کے نام سے پکارا کرتے تھے۔
آپ تقسیم ہند کے مخالف مسلم رہنماؤں میں سب سے نمایاں نام تھے اور آخری وقت تک اپنے موقف پر ڈٹے رہے حالانکہ آزادئ ہند و پاک کے بعد آپ کو کافی دشواریوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔البتہ آپ کی علمی و ادبی حیثیت مصدقہ ہے۔ آپ صرف پندرہ سال کی عمر میں ماہنامہ لسان الصدق کی ادارت کی اور 1914ء میں الہلال نکالا۔ پھر 1923ء میں انڈین نیشنل کانگریس کے کم عمر ترین صدر بنے جب آپ محض 35 برس کے تھے۔ 'ہندوستان چھوڑ دو تحریک' کے دوران آپ پوری کانگریس قیادت کے ساتھ احمد نگر کے قلعے میں قید کر دیے گئے جس کے دوران آپ نے اپنے دوست کے نام شہرۂ آفاق خطوط لکھے جو بعد ازاں "غبار خاطر" کے نام سے شایع ہوئے۔
آزادئ ہند کے بعد جمہوریہ بھارت کے پہلے وزیر تعلیم بنے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کا یوم پیدائش بھارت میں یوم تعلیم کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 22 فروری 1958ء کو انتقال فرمایا۔ آپ کو بعد از وفات 1992ء میں بھارت کا سب سے اعلیٰ شہری اعزاز 'بھارت رتن' دیا گیا۔
اگرچہ سیاسی حیثیت سے مسلمانان ہند و پاک کی اک قابل ذکر تعداد مولانا ابو الکلام آزاد کے موقف کی حامی نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود ادبی لحاظ سے جو مقام و مرتبہ مولانا کو ہندوستان کے افق پر حاصل رہا ہے، اس پر شاید ہی کسی کو کوئی شبہ ہوگا۔ اردو میں بیک وقت تقریر و تحریر دونوں پر آپ کو ملکہ حاصل تھا البتہ ان کی نثر میں عربی و فارسی رنگ بہت زیادہ گہرا ہے کیونکہ مادری زبان عربی تھی (ان کی والدہ کا تعلق مدینہ منورہ سے تھا)۔
 

Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.