Header Ads

Breaking News
recent

ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق




سیدّ منور حسن کے بیان کے بعد ٹی وی چینلز پر مناظروں کی جو آندھی چل پڑی تھی، اب تھم گئی ہے ۔ پاکستان میں ایسا ہی ہوتا ہے ع
ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق
ہر روز اودھم مچانے کیلئے کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے۔ منور حسن نے ایک اینکر کے سوال بلکہ حسن طلب پر جو کہا، اس کا مسالہ اور کتنے دن کام آ سکتا تھا۔ ان کو منور حسن کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ تین چار دن کیلئے زور دار ریٹنگ مل گئی۔ بلکہ انہیں آئی ایس پی آر کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اصل طوفان اُسی کے بیان کے بعد آیا۔ وہ بے شمار جو نہیں جانتے تھے کہ منور حسن نے کیا کہا ہے ، انہیں پتہ چل گیا۔ سچ ہے، قومی مباحثہ اسی کو کہتے ہیں جو آئی ایس پی آر کے بیان کے بعد شروع ہوا۔ منور حسن کے بیان سے بڑا نقصان ہوا، یہ ایک تبصرہ نگار کا کہنا تھا۔ تبصرہ نگار لحاظ کر گیا ورنہ بڑا نقصان ، جو ابی بیان سے ہوا۔ ساری دنیا کو پتہ چل گیا کہ پاکستان میں انتشار اس مقام بلند کو چھو رہا ہے جہاں دوسری انتشارز وہ ریاستیں چاہیں بھی تو نہیں پہنچ سکتیں۔
اب ایک نئی مہم چلی ہے کہ کون شہید ہے، اس پر مناظرہ ہونا چاہیے تو دوسری نئی مہم یہ ہے کہ اس بحث کو روکو، ورنہ اور زیادہ نقصان ہو گا، اتنا زیادہ کہ ملک اس کا بوجھ نہیں اٹھا سکے گا۔ کہا جا سکتا ہے کہ نقصان سے مت ڈراؤ، یہ ملک بڑے بڑے نقصان سہار چکا ہے۔ مشرف جیسی شے بھارت پر آٹھ سال حکمرانی کرتی تو اس کے اب تک ایک سو آٹھ ٹکڑے ہو چکے ہوتے۔ امریکہ پر کرتی تو امریکہ سکڑ کر نکاراگوا بن چکا ہوتا۔ مبالغہ ہو گیا، نکارا گوا بہت ہی چھوٹا ہے، یوں کہہ لیجئے کہ افغانستان بن جاتا۔ فرض کریں مشرف بھارت کے راشڑ پتی کے طور پرجھاڑ کھنڈ میں نہ ختم ہونے والی بمباری شروع کر دیتا، تلنگانہ پر ٹینک چڑھا دیتا، تمل ناڈ یا کرناٹکا میں لشکر کشی کر دیتا، اتر اور مدھیہ پردیش میں شہریوں کو لاپتہ کرنا شروع کردیتا ، ارو ناچل اور آسام پر امریکہ سے منّت ترلے کر کے ڈرون حملے کرانے لگتا اور دلّی، چنائے میں اپنے خاص کارندوں کے ذریعے بم دھماکے کرادیتا، کٹک کے مندر کو فاسفورس بموں سے آگ لگا دیتا تو بھارت کا کیا ہوتا۔ یا بطور امریکن پریذیڈنٹ ٹیکساس پر بمباری کردیتا، کیلیفورنیا پر ٹینک چڑھا دیتا، پروٹسٹنٹ چرچ کے ہیڈ کوارٹر کو نذر آتش کر دیتا تو کیا ہوتا۔
بہت کچھ ہوتا۔ لیکن دیکھ لیجئے، پاکستان تو پھر بھی بچ نکلا۔ یہ ملک ہرگز نہ بچتے۔ بہرحال، نقصان سے نہ ڈرانے کی بات اپنی جگہ با وزن ہونے کے باوجود یہ مشورہ نہیں دیا جا سکتا کہ مزید نقصان کرو۔
آئی ایس پی آر نے جلدی کی، اور ان لوگوں کی بن آئی جو پہلے ہی پاکستان کے دن گنتے گنتے سر سے گنجے ، عقل کی بیوہ ہو چکے ہیں۔

No comments:

Powered by Blogger.