Header Ads

Breaking News
recent

آئی ایم’’مظلوم‘‘ ملالہ

 

 ایک سال قبل نو عمر ملالہ یوسفزئی پر قاتلانہ حملہ ہوا تو پوری قوم کو صدمہ پہنچا۔ ہر ایک نے تین معصوم بچیوں پر گولیاں چلانے والوں کی مذمت کی۔ اس ذہین، دلیر اور اپنے ارادوں میں ثابت قدم بچی کے لئے ہر گھر میں دعائیں مانگی گئیں اور صحتیابی کی اطلاع پر ہر صاحب اولاد نے سکون کا سانس لیا مگر امریکہ و مغرب نے جس طرح اس بچی کی پذیرائی کی یہ اچھنبے کی بات تھی تاہم’’آئی ایم ملالہ‘‘ کے نام سے کتاب منظر پر آئی تو ایک پاکستانی بچی کی عالمگیر پذیرائی اور ملکہ برطانیہ سے لے کر باراک اوباما تک ملاقاتوں کا مقصد عیاں ہو گیا۔ قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا۔

مجھے ملالہ سے پہلے بھی ہمدردی تھی، اب بھی ہمدردی ہے پہلے اس کی معصومیت اور مظلومیت نے مجھے متاثر کیا اب عالمی فتنہ گردی نے اس کی آڑ میں جو کھیل کھیلنے کی کوشش کی اور ایک نوعمر بچی کا ذہنی استحصال کیا میں اس پر مغموم ہوں، زیادہ افسوس باپ پر ہے جس نے اپنی اولاد کو شہرت، دولت اور عزت کے حصول کا ذریعہ بنایا اور سنگدلی کی انتہاء کر دی۔

’’آئی ایم ملالہ‘‘سٹوری تو ملالہ کی ہے مگر لکھی برطانوی صحافی کرسٹینا لیمب نے ہے، یہ وہی محترمہ ہیں جسے پاکستان سے اس بناء پر نکالا گیا کہ اوبی لادن کے نام سے جعلی ٹکٹ کٹوا کر پی آئی اے پر سفر کرنا چاہتی تھیں تاکہ پوری دنیا کو یہ بتا سکیں کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں مقیم اور آزادانہ سفر کرتے ہیں۔ ملالہ، اس کے فنکار والد اور دیگر سرپرستوں نے کتاب اس صحافی خاتون سے لکھوانا کیوں پسند کی؟ یہ کوئی سربستہ راز نہیں، ایسی کتاب صرف کرسٹینا لیمب ہی لکھ سکتی تھی جس میں ملالہ کے والد پاکستان کا جشن آزادی ’’بازوئوں پر سیاہ ماتمی پٹیاں باندھ کر مناتے نظر آتے ہیں، پاک فوج اور آئی ایس آئی طالبان کی ہمدرد اور مددگار فورس ثابت کی گئی، جنرل پرویز مشرف کی تعریف و توصیف اور ملائوں پر جا بجا تنقید میں توازن نظر نہیں آتا اور پاکستان کو ایک ایسی ریاست نے طور پر پیش کیا گیا ہے جہاں عورت سانس لے سکتی ہے نہ گھر سے باہر نکل کر تعلیم، ملازمت اور کاروبار کے قابل۔

مگر مجھے ذاتی طور پر بہت سی باتوں سے اختلاف کے باوجود کتاب کے ان حصوں پر کوئی اعتراض نہیں جو اس حقائق کو توڑ، مروڑ اور ایک مخصوص ایجنڈے کو آگے بڑھایا گیا، پاکستان میں یہ کام ا ور بہت سے افراد اور ادارے تندہی سے کر رہے ہیں اس میں ایک اضافہ یہ بھی سہی۔ ہاتم گستاخ رسولؐ سلمان رشدی اور اس کی دلازار کتاب سیٹانک ورسز کو قابل قبول بنانے، اسے آزادی اظہار رائے کے نام پر ہضم کرنے اور اس کی مخالفت کرنے والے عاشقان رسول اکرمﷺ کو ملا اور ان کے پیروکار قرار دنیے کا معاملہ قابل برداشت ہے نہ نظرانداز کرنے کی چیز۔ یہ عقیدے، ایمان اور بخشش و شفاعت کا معاملہ ہے جسے محض اس بنا پر تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ یہ ایک پندرہ سولہ سالہ معصوم بچی کے جذبات ہیں۔

سلمان رشدی کی کتاب ملالہ کی پیدائش سے کوئی دس سال قبل منظر عام پر آئی اس لئے کتاب میں لکھی گئی باتیں کرسٹینا لیمب کی اختراع ہیں، ملالہ کے فنکار والد کے جذبات کا اظہار ورنہ ساری دنیا جانتی ہے کہ اس کتاب کے خلاف احتجاج صرف پاکستان اور ایران میں نہیں ساری عرب دنیا، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، جرمنی اور سیکنڈے نیویا میں ہوا۔ امام خمینی کے فتویٰ کی تائید حمایت سازی دنیا کے مسلم سکارلز نے کی اور معتدل مزاج مغربی مصنفین نے اس کتاب کو تھرڈ کلاس کہا۔ پاکستان میں احتجاجی مظاہروں کی قیادت نوابزادہ نصر اللہ خان نے کی جو بابائے جمہوریت اور حکمران پیپلز پارٹی کے حلیف تھے۔

سلسلہ مضامین مولانا کوثر نیازی نے شروع کیا جو ذوالفقار علی بھٹو کے دست راست رہے اور بینظیر بھٹو کے دور حکمرانی میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین۔ ملا چونکہ مغرب کے گلے کی پھانس ا ور اسلام کا نام لیوا ہے اس لئے کتاب کی پذیرائی کے لئے اس کا تحقیر آمیز ذکر لازم تھا اور مسلمانوں کا جذبہ عشق رسولؐ تمام اسلام دشمن مذہب بیزار عناصر کے لئے سوہان روح اس لئے اپنے آقا و مولا ؐ کی حرمت و ناموس کے تحفظ کے لئے احتجاج کا جمہوری حق استعمال کرنے والے شیدائیوں کو ملائوں کا پیروکار قرار دینا ازبس ضروری۔ ٹیری جونز، نکولاہیسلے، سلمان رشدی، تسلیم نسرین سمیت جو بھی اسلام اور پیغمبر اسلامؐ کے خلاف ہرزہ سرائی کرے یا سلمان رشدی جیسوں کی آزادی اظہار کا حق کا دفاع کرے وہ امریکہ و یورپ کا ہیرو ہے اور اسے ملکہ برطانیہ سے لے کر اوباما تک سب گلے سے لگاتے آگے آگے بچھے جاتے ہیں اس لئے آئی ایم ملالہ کے مصنفین نے بھی یہ تکنیک مہارت سے استعمال کی۔ ملالہ ایک سطر ہولوکاسٹ کے خلاف لکھی دیتی تو اسے مغرب کے نظر یہ آزادی اظہار کی حقیقت معلوم ہوجاتی مگر پھر ملالہ کو نوبل انعام کے لئے نامزد کون کرتا؟ ملالہ بچی ہے مگر اتنی بھولی نہیں اس لئے اس نے سارا زورِبیان طالبان، پاکستان، پاک فوج، ملّائوں اور عام مسلمانوں کے خلاف صرف کیا جو حضورﷺ کی گستاخی برداشت نہیں کرتے۔ تنگ نظر کہیں کے۔

مجھے دکھ اس بات کا ہے کہ ایک پندر سالہ معصوم بچی کو شہرت کے جال میں پھنسا کر اس ایجنڈے کی تکمیل کی جا رہی ہے جو مسلمانوں کو اجڈ، گنوار، وحشی، اسلام کو پسماندگی کا علمبردار مذہب اور حرمت و ناموس رسولؐ کے منافی دلآزار تحریروں و آزادیٔ اظہار کا حق قرار دے کر امریکہ و یورپ کی ذہنی، سماجی، سیاسی و عسکری بالادستی منوانے کےلئے سوویت یونین کی تحلیل کے بعد ’’نیو ورلڈآرڈر‘‘ کے نام پر وضع کیا گیا اور 9/11 کے بعد زور شور سے پایہ تکمیل کو پہنچایا جا رہا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کے دارالحکومتوں میں کارپٹ استقبال، مقامی و عالمی میڈیا پر مدح سرائی، نوبل، سخاروف اور دیگر ایوارڈ اور پاکستان جیسے ممالک میں وزیراعظم بننے کاجھانسہ، انسان کے پھسلنے میں کتنی دیرلگی ہے ملالہ تو بچی ہے۔

ایک طرف ہالینڈ کا آرنوڈ وین ڈرو ہے جس نےفلم ’’فتنہ‘‘بنائی مگر حضور اکرمﷺ سے مسلمانوں کی والہانہ محبت، دلآزار فلم کے خلاف احتجاجی مظاہروں کو دیکھ کر موم ہو گیا اور ا ب حجاز ِمقدس میں بیٹھا اپنے رب اورمحبوب ِ خداﷺ سے معافی مانگ رہا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسے ایمان کی دولت سے نوازا اور دنیا و آخرت سنوار دی۔ دوسری طرف ملالہ، اس کے والد اور کرسٹینالیمب ہیں جو سلمان رشدی کے گستاخانہ انداز ِفکر کو آزادی ٔ اظہار رائے کی آڑ میں جائز قرار دینے کے لئے کوشاں ہیں ورنہ ’’آئی ایم ملالہ ‘‘میں اس واہیات کتاب، جنونی مصنف اور بکواس اظہار رائے کا ذکر ضروری نہ تھا۔ اس کا ملالہ کی زندگی، جدوجہد اور خدمات سے کیا تعلق؟ شاید نوبل انعام کمیٹی کے ارکان نے یہ کتاب نہیں پڑھی اور سلمان رشدی کے حقوق، مسلمانوں کے جذباتی پن اور ملّائوں کی تقلید والے حصے پر غور نہیں کیا ورنہ انعام دینے سے گریز نہ کرتے۔ مغرب کی دیرینہ روایت تو یہی ہے۔ خدا اس معصوم بچی کو اپنے دوستوں کے شر اور دشمنوں کے حسد سے محفوظ رکھے۔ خاص طور پر والدگرامی جو ذہین بیٹی کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے ہوشیاری سےاستعمال کر رہے۔ محمد نواز شریف، آصف علی زرداری، عمران خان اور بہت سارے دوسرے نوبل انعام نہ ملنے پر مغموم ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

 
 
Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.