Thursday, August 29, 2013

افسوس اس قوم پر۔۔۔

  •  
    افسوس اس قوم پر۔۔۔

    میرے دوستو اور ہم سفرو
    افسوس اس قوم پر جو یقین سے بھری لیکن مذہب سے خالی ہو
    افسوس اس قوم پر جو ایسا کپڑا پہنے جسے اس نے خود بنا نہ ہو...
    جو ایسی روٹی کھائے جسے اس نے اگایا نہ ہو
    ایسی شراب پیےجو اس کے اپنے انگوروں سے کشید نہ کی گئی ہو

    افسوس اس قوم پر جو دادا گیر کو ہیرو سمجھے
    اور جو چمکیلے فاتح کو سخی گردانے
    افسوس اس قوم پر جو خواب میں کسی جذبے سے نفرت کرے
    لیکن جاگتے میں اسی کی پرستش کرے

    افسوس اس قوم پر جو اپنی آواز بلند کرے
    صرف اس وقت جب وہ جنازے کے ہم قدم ہو
    ڈینگ صرف اپنے کھنڈروں میں مارے
    اور اس وقت تک بغاوت نہ کرے
    جب تک اس کی گردن مقتل کے تختے پر نہ ہو

    افسوس اس قوم پر جس کی رہبر لومڑی ہو
    جس کا فلسفی مداری ہو
    جس کا فن پیوندکاری اور نقالی ہو

    افسوس اس قوم پر جو ہر نئے حکمران کا استقبال ڈھول تاشے سے کرے
    اور رخصت گالم گلوچ سے
    اور وہی ڈھول تاشے ایک نئے حاکم کے لیے بجانا شروع کر دے

    افسوس اس قوم پر جس کے مدبر برسوں کے بوجھ تک دب گئے ہوں
    اور جس کے سورما ابھی تک پنگھوڑے میں ہوں

    افسوس اس قوم پر جو ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہو
    اور ہر ٹکڑا اپنے آپ کو قوم کہتا ہو

    شاعر : خلیل جبران
Enhanced by Zemanta
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...