Wednesday, August 14, 2013

اب کس کا جشن مناتے ہو

 
اب کس کا جشن مناتے ہو
اب کس کا جشن مناتے ہو
او دیس کا جو تقسیم ہوا
اس خواب کا جو ریزہ ریزہ
ان آنکھوں کی تقدیر ہوا...

ان معصوموں کا جن کے لہو
سے تم نے فروزاں راتیں کیں
یا ان مظلوموں کا جن سے
خنجر کی زباں میں باتیں کیں
اس مریم کا جس کی عفت
لٹتی ہے بہرے بازاروں میں
اس عیسا کا جو قاتل ہے
اور شامل ہے غمخواروں میں
ان نوحہ گروں کا جن نے ہمیں
خود قتل کیا خود روتے رہے
یا ان جھوٹے اقراروں کا
جو آج تلک ایفا نہ ہوۓ
اس شاہی کا جو دست بدست
آئ ہے تمہارے حصے میں
کیوں ننگ وطن کی بات کرو
کیا رکہا ہے اس قصے میں
آنکہوں میں چھپاۓ اشکوں کو
ہونٹوں پہ وفا کے بول لۓ
اس جشن میں بہی شامل ہوں
نوحوں سے بہرا کشکول لۓ

Enhanced by Zemanta
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...