Header Ads

Breaking News
recent

!!!...............یہ کِس نے کہا تُم کُوچ کرو، باتیں نہ بناؤ اِنشاء جی


!!!...............یہ کِس نے کہا تُم کُوچ کرو، باتیں نہ بناؤ اِنشاء جی
!!!..............یہ شہر تُمہارا اپنا ھے اِسے چھوڑ نہ جاؤ اِنشاء جی
...
جِتنے بھی یہاں کے باسی ھیں سب ک سب تُم سے پیار کریں
!!!....کیا اُن سے بھی مُنہ پھیرو گے، یہ ظُلم نہ ڈھاؤ، اِنشاء جی

!!............اِک رات تو کیا وہ حَشر تلک رکھے گی کُھلا دروازے کو
!!..........کب لوٹ کے تُم گھر آؤ گے؟ سجنی کو بتاؤ، اِنشاء جی

کیا سوچ کے تُم نے سینچی تھی یہ کیسر کیاری چاھت ک ..؟
!!!!..........تُم جن کو ہنسانے آۓ تھے اُن کو نہ رُلاؤ ، اِنشاء جی

!!............!تُم لاکھ سیاحت کے دھنی اِک بات ھماری بھی مانو
.کوئی جا کے جہاں سے آتا نہیں، اُس دیس نہ جاؤ، اِنشاء جی

!!...........بکھیرتے ہو سونا حرفوں کا، تُم چاندی جیسے کاغذ پر
!!............پھر اِن میں اپنے زخموں کا ، نہ زھر ملاؤ ، اِنشاء جی

نہیں صرف قتیل کی بات یہاں، کہیں ساحر ھے، کہیں عالی ھے
!!............تُم اپنے پُرانے یاروں سے ، دامن نہ چُھڑاؤ ، اِنشاء جی
=======================================
Poet : Qateel Shifaai === قتیل شفائی
Ibne Insha
=======================================
Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.