Header Ads

Breaking News
recent

جنھیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈتا ھوں میں






جنھیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈتا ھوں میں

کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈتا ھوں میں

مجھے نمک کی کان میں مٹھاس کی تلاش ھے
برہنگی کے شہر میں لباس کی تلاش ھے

وہ برف باریاں ہوئیں کہ پیاس خود ہی بجھھ گئی
میں ساغروں کو کیا کروں کہ پیاس کی تلاش ھے

یہ کتنے پھول شاخچوں پہ مر گئے یہ کیا ھوا
یہ کتنے پھول ٹوٹ کے بکھر گئے یہ کیا ھوا

پڑی وہ تیز روشنی کہ دمک اٹھی روش روش
مگر لہو کے داغ بھی ابھر گئے یہ کیا ھوا

انہیں چھپاوں کسطرح نقاب ڈھونڈتا ھوں میں

No comments:

Powered by Blogger.