Wednesday, July 17, 2013

Faiz Ahmed Faiz ہم کہ ٹھہرے اجنبی اِتنی ملاقاتوں کے بعد

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اِتنی ملاقاتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی مُداراتوں کے بعد

کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبّے دھُلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
...

تھے بہت بے درد لمحے، ختمِ دردِ عشق کے
تھیں بہت بےمہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد

دل تو چاہا پر شکستِ دل نے مہلت ہی نہ دی
کچھ گِلے شِکوے بھی کرلیتے مُناجاتوں کے بعد

اُن سے جو کہنے گئے تھے فیض جاں صدقہ کئے
ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد
 
Faiz Ahemd Faiz
Enhanced by Zemanta
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...