Header Ads

Breaking News
recent

پھر ایک کارواں لُٹا

 پھر ایک کارواں لُٹا
ہر ایک دور وقت کا خود اپنا اک یزید ہے
ہرایک دور کا حسین بے گنہ شہید ہے
جدھر جدھر گراہے خوں ،یہی رہ امید ہے
 پھر ایک کارواں لُٹا

...
صلیب جبر گڑگئی ،وہ چوب دار آگئے
صداقتِ حسیں !ترے ،وہ جاں نثار آگئے
بہت سے لا اِلہ خواں ،کناردار آگئے
 پھر ایک کارواں لُٹا

 فراعنہ کی سرزمیں،ہمیشہ خوں بہ جام ہے
ہمیشہ خوں بجام ہے۔وہ پھربھی تشنہ کام ہے
یہ اک جہان ِبے سکوں!جسے سکوں حرام ہے
 پھر ایک کارواں لُٹا

 یہ انقلاب دیو ہے،لہو کی بھینٹ مانگتا
یہ خود ہی مدعی بھی ہے۔یہ خود ہی صاحب قضا
یہ قافلے کاراہزن !یہ قافلے کارہنما
 پھر ایک کارواں لُٹا

 یہ ِدُدلہنیں لُٹی لُٹی ،یہ مائیں چیختی ہوئی
یہ چوڑیوں کی کرچیاں ،یہ مینڈیاں کھلی ہوئی
مشیتِ خدانے خود ۔کسی کو ڈھیل دی ہوئی
 پھر ایک کارواں لُٹا

 کئی صدی کےدشت میں !یہ راستی کا کارواں
ادب کا ۔فن کا ،علم کا،یہ زندگی کا کارواں
رہِ خودی کے راہرو!رہِ نبی کا کارواں
 پھر ایک کارواں لُٹا

 ابھی توایسے کارواں کئی ہزار آئیں گے
اٹھیں گے چار سمت سے وہ بار بار آئیں گے
وہ بن کے ابرِ خوں فشان ،بہ ریگ زارآئیں گے
 پھر ایک کارواں لُٹا

 بچو بچو کہ یک بیک ،دمِ حساب آئے گا
جو راج ظلم کیش ہے وہ راج ڈول جائےگا
گرے کا تاج فرق سے ،یہ تخت ڈگمگائے گا
 پھر ایک کارواں لُٹا
نعیم صدیقی
 
 
 


 

No comments:

Powered by Blogger.