Tuesday, June 25, 2013

ظلم پھر ظلم ہے ‘بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

 
ظلم پھر ظلم ہے ‘بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے.
خون پھر خون ہے ‘ٹپکے گا تو جم جائے گا ۔.
خاکِ صحرا پہ جمے یا کفِ قاتل پہ جمے.
فرقِ انصاف پہ یاپائے سلاسل پہ جمے.
تیغِ بیداد پہ یا لاشہء بسمل پہ جمے.
...
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا ۔.
لاکھ بیٹھے کوئی چھپ چھپ کے کمیں گاہوں میں.
خون خود دیتاہے جلادوں کے مسکن کا سراغ.
سازشیں لاکھ اڑاتی رہیں ظلمت کا نقاب.
لے کے ہر بوند نکلتی ہے ہتھیلی پہ چراغ ۔.
ساحر لدھیانوی
Enhanced by Zemanta